اختلافات کا حل مذاکرات

اداریہ۔۔
اختلافات کا حل مذاکرات
دنیا اس وقت ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں ہر نئی جنگ نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے نئے بحرانوں کو جنم دیتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی کشیدگی، عسکری تنازعات اور سفارتی اتار چڑھائو کا مرکز رہا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی نئی صورتِ حال نے ایک مرتبہ پھر عالمی امن کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا تھا۔ ایسے ماحول میں اگر عسکری کارروائی کے بجائے مذاکرات کو موقع دیا جارہا ہے تو اسے ایک مثبت پیش رفت سمجھنا چاہیے، کیونکہ جنگ کے دروازے کھولنا آسان، مگر انہیں بند کرنا ہمیشہ مشکل ثابت ہوتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ عسکری کارروائی کو موخر کرنے اور مذاکرات کو ترجیح دینے کا اعلان یقیناً ایک اہم سفارتی اشارہ ہے۔ دوسری جانب ایران نے اگرچہ اس بات کی تردید کی ہے کہ اس وقت امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات جاری ہیں، تاہم اس نے یہ ضرور کہا کہ خطے کے ممالک کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بات خود اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے کے ذمے دار ممالک بھی کسی نئی جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے اور وہ سفارت کاری کو ہی بہتر راستہ سمجھتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ سے لے کر عراق، افغانستان، شام، لیبیا اور یمن تک بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں عسکری تصادم نے لاکھوں انسانی جانیں نگلیں، کروڑوں افراد کو بے گھر کیا، معیشتوں کو تباہ کیا اور کئی نسلوں کو عدم استحکام کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ جنگ ختم ہوجاتی ہے لیکن اس کے زخم دہائیوں تک باقی رہتے ہیں۔ اسی لیے دانش مند قومیں طاقت کا مظاہرہ کرنے سے پہلے مکالمے اور سفارت کاری کے تمام دروازے کھلے رکھتی ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں۔ اس دوران متعدد مواقع پر کشیدگی اپنے عروج پر پہنچی، لیکن ایسے مواقع بھی آئے جب دونوں ممالک نے مذاکرات کی راہ اختیار کی۔ جوہری معاہدے کی صورت میں دنیا نے ایک امید دیکھی تھی کہ شاید یہ تنازع مستقل طور پر کم ہو جائے، مگر بعد ازاں اختلافات دوبارہ شدت اختیار کر گئے اور وہ پیش رفت دیرپا ثابت نہ ہوسکی۔ اس تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ صرف معاہدے پر دستخط کافی نہیں ہوتے بلکہ اس پر مسلسل عمل درآمد، باہمی اعتماد اور مستقل رابطہ بھی ناگزیر ہوتا ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف نوعیت کے رابطے، محدود مفاہمتیں اور تکنیکی نوعیت کے انتظامات بھی سامنے آئے، جن میں ڈیجیٹل اور سفارتی رابطوں کو بہتر بنانے کے اقدامات بھی شامل تھے، لیکن یہ کوششیں اعتماد کی مستقل فضا قائم نہ کر سکیں اور معاملات ایک مرتبہ پھر کشیدگی کی طرف بڑھ گئے۔ اس پس منظر میں اگر اب دوبارہ سفارت کاری کا دروازہ کھل رہا ہے تو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ناگزیر ہوگا۔ کسی بھی مفاہمت کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق اپنے وعدوں کی پاسداری کریں اور اختلافات کو دوبارہ تصادم کی طرف نہ جانے دیں۔ آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی عالمی معیشت سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ یہ سمندری گزرگاہ دنیا میں توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی معمولی کشیدگی بھی تیل کی عالمی قیمتوں، بین الاقوامی تجارت، شپنگ انڈسٹری اور دنیا بھر کی معیشتوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک، جن کی معیشت پہلے ہی مہنگائی، قرضوں اور توانائی کے بحران سے دوچار ہے، وہ ایسی کسی نئی کشیدگی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی نظریں اس وقت مذاکرات کی کامیابی پر مرکوز ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے یہ موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ عالمی تنازعات کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات، برداشت، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان نے مختلف علاقائی اور عالمی تنازعات میں بھی سفارت کاری اور مکالمے کی حمایت کی ہے اور یہی اصول آج بھی سب سے زیادہ موثر دکھائی دیتا ہے۔ امن صرف متعلقہ ممالک کی ضرورت نہیں بلکہ پوری دنیا کی مشترکہ ضرورت ہے۔ اس موقع پر خطے کے دیگر ممالک کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ سعودی عرب، قطر، عمان، متحدہ عرب امارات اور دیگر علاقائی ریاستیں اگر کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کر رہی ہیں تو یہ خوش آئند پیش رفت ہے۔ ایسے ثالثی کردار نہ صرف اعتماد سازی میں مدد دیتے ہیں بلکہ فریقین کو ایسے قابلِ قبول حل تک پہنچنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں جس سے پورا خطہ فائدہ اٹھا سکے۔یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جاسکتی کہ جدید دور میں کسی جنگ کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔ عالمی منڈیوں میں بے یقینی، سرمایہ کاری میں کمی، توانائی کی قلت، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، مہاجرین کے نئے بحران اور عالمی تجارت میں رکاوٹیں پوری دنیا کو متاثر کرتی ہیں۔ اس لیے امن صرف ایک اخلاقی تقاضا نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی ہے۔ دنیا کو اس وقت ہتھیاروں کی دوڑ سے زیادہ غربت، موسمیاتی تبدیلی، صحت، تعلیم اور پائیدار ترقی جیسے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مذاکرات کی کامیابی کے لیے صرف سیاسی قیادت ہی نہیں بلکہ ذرائع ابلاغ، دانشوروں اور عالمی اداروں کی ذمے داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ انہیں ایسے ماحول کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جہاں اشتعال انگیزی کے بجائے حقیقت پسندانہ مکالمہ فروغ پائے۔ عوامی سطح پر بھی امن، برداشت اور باہمی احترام کے پیغام کو عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ نفرت کی زبان کبھی دیرپا استحکام پیدا نہیں کر سکتی۔ یہ بھی ضروری ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنیں۔ کسی بھی تنازع میں یک طرفہ مطالبات یا دبا کے ذریعے دیرپا حل حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب مذاکرات مساوات، احترام اور اعتماد کی بنیاد پر آگے بڑھیں۔ اگر اس بار بھی ماضی کی طرح چند ابتدائی پیش رفتوں کے بعد رابطے منقطع ہوگئے تو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا ایک نئے بحران سے دوچار ہوسکتی ہے۔ آج عالمی برادری کی خواہش یہی ہے کہ واشنگٹن اور تہران تحمل، بردباری اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کریں۔ اختلافات اپنی جگہ موجود رہ سکتے ہیں، لیکن انہیں جنگ کے میدان میں لے جانے کے بجائے مذاکرات کی میز پر حل کرنا ہی دانش مندی ہے۔ دنیا پہلے ہی متعدد بحرانوں سے گزر رہی ہے، اس لیے کسی نئی جنگ کی گنجائش نہیں۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ امن کا کوئی متبادل نہیں۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جنگیں تباہی لاتی ہیں جبکہ مذاکرات مستقبل بناتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے لیے بھی یہی راستہ بہتر ہے کہ وہ اختلافات کو سفارت کاری، مسلسل رابطے اور باہمی اعتماد کے ذریعے حل کریں۔ اگر اس بار دونوں فریق ماضی کی تلخیوں سے سبق سیکھتے ہوئے دانش مندی، تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں تو نہ صرف خطہ ایک بڑے تصادم سے محفوظ رہ سکتا ہے بلکہ پوری دنیا بھی ایک نئے بحران سے بچ سکتی ہے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے، یہی عالمی امن کا راستہ ہے اور یہی آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت بھی۔




