زندگی کو جینے کا ہنر

زندگی کو جینے کا ہنر
ثمن ناز
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ زندگی یہ دن یہ پل سب کیسے گزرتے ہیں؟ ہم دوڑتے رہتے ہیں، آگے بڑھتے ہیں، لیکن آخر کس لیے؟ کیا ہماری محنت ہمارے خوابوں کے راستے کھول رہی ہے یا ہم صرف دھند میں بھٹک رہے ہیں؟ ہر صبح ایک نیا آغاز لاتی ہے، لیکن ہم اکثر اسے پرانی فکر میں یا آنے والی ان مشکلات کے بارے سوچ سوچ کے ضائع کر دیتے ہیں جو شاید آتی بھی نہیں۔ کیا یہ درست ہے کہ ہم کل کی فکر میں آج کو ضائع کر دیں؟ کیا یہ انصاف ہے کہ ہم اپنے اندر چھپی صلاحیتوں کو سمجھے بغیر چھوڑ دیں۔
کامیابی کا راز کیا ہے کیا یہ بڑی محنت میں ہے یا چھوٹے معنی خیز قدم اٹھانے میں؟ ہم کیوں اپنی زندگی کے قیمتی لمحات ضائع کرتے ہیں اور پھر حیران رہ جاتے ہیں کہ کامیابی ہم سے کیوں دور ہے۔ ہم اپنے خوابوں کے لئے کتنے سنجیدہ ہیں۔۔۔
کیا ہم ہر دن اپنی سوچ اپنی محنت اپنی توانائی کو صحیح سمت میں لگاتے ہیں یا بس یوں ہی گزرنے دیتے ہیں؟ کیا ہم جانتے ہیں کہ آج کے لمحے کل کے بڑے نتائج کی بنیاد رکھتے ہیں؟
کبھی سوچا ہے کہ جو پل آج ہم نے ضائع کیے وہ دوبارہ واپس نہیں آئیں گے اور جو پل ہم نے بھرپور جئیں وہ ہماری تقدیر کو بدل سکتے ہیں ہم کیوں اتنی آسانی سے معمولی چیزوں میں الجھ جاتے ہیں کیا ہم اپنی زندگی کے قیمتی لمحوں کو اس قدر ضائع کرنے کے حق میں ہیں؟ ہر انسان کے پاس ایک خزانہ ہے جو سب کے لیے برابر ہے یہ خزانہ ہمیں دی گئی زندگی کے لمحے ہیں لیکن ہم اس خزانے کی قدر کب کریں گے؟ کب ہم اپنی توانائی کو ایسے استعمال کریں گے جو ہمیں بہتر انسان، بہتر خواب اور بہتر مستقبل دے۔
سوچیں۔۔۔۔
اپنے دل سے پوچھیں، ہم اپنی زندگی کے لمحوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی صلاحیتوں کو پہچان رہے ہیں یا انہیں ضائع کر رہے ہیں؟ زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ ہم ہر لمحے کو جئیں ہر دن کو اہم بنائیں اور اپنے اندر چھپی طاقت کو پروان چڑھائیں۔ کیا ہم یہ کر سکتے ہیں یا ہم بس دھند میں بھٹکتے رہیں گے؟۔





