مہنگائی کے شکنجے میں سسکتے عوام

مہنگائی کے شکنجے میں سسکتے عوام
تحریر: رفیع صحرائی
پاکستان کا عام آدمی اس وقت جس معاشی کرب، ذہنی اذیت اور مالی بے یقینی سے گزر رہا ہے، شاید اس کی مثال ماضی قریب میں کم ہی ملتی ہو۔ مہنگائی اب صرف اقتصادیات کی کتابوں میں درج ایک اصطلاح نہیں رہی بلکہ یہ ہر گھر کی دہلیز پر دستک دیتی ہوئی ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے۔ بازار جائیں تو قیمتیں خوفزدہ کرتی ہیں، بجلی کا بل آئے تو دل دہل جاتا ہے، پٹرول پمپ پر گاڑی یا موٹر سائیکل رکوانے سے پہلے جیب ٹٹولی جاتی ہے اور مہینے کے اختتام سے پہلے ہی ملازم پیشہ کی تنخواہ دم توڑ دیتی ہے۔
ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس رفتار سے بلند ترین سطح پر پہنچی ہیں کہ متوسط طبقے کے لیے موٹر سائیکل چلانا اور غریب آدمی کے لیے روزگار کے حصول کے لیے سفر کرنا بھی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ محض چند روپے کا اضافہ نہیں بلکہ معیشت کے ہر شعبے پر ایک نئے طوفان کی دستک ہے۔ کیونکہ پٹرول اور ڈیزل صرف گاڑیوں کا ایندھن نہیں بلکہ ملکی معیشت کی رگوں میں دوڑنے والا خون ہوتے ہیں۔ ان کی قیمت بڑھتی ہے تو سبزی، آٹا، دال، چینی، دودھ، گوشت اور ادویات سمیت ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔
المیہ یہ ہے کہ اس مرتبہ یہ اضافہ کسی عالمی بحران یا تیل کی عالمی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا نتیجہ نہیں بلکہ بڑی حد تک حکومتی ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی میں اضافے کا شاخسانہ ہے۔ گویا ریاست نے اپنی مالی مشکلات کا سب سے آسان حل ایک مرتبہ پھر عوام کی جیبوں پر ہاتھ ڈالنے میں تلاش کر لیا ہے۔
پاکستانی سیاست کی شاید سب سے بڑی ستم ظریفی یہی ہے کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے مہنگائی قومی سانحہ اور اقتدار میں آتے ہی معاشی مجبوری بن جاتی ہے۔ کل تک جو سیاست دان ایک روپے فی یونٹ بجلی مہنگی ہونے پر پریس کانفرنسیں کیا کرتے تھے، آج وہی بجلی کے بلوں میں شامل ٹیکسوں، سرچارجز اور فیول ایڈجسٹمنٹ کی طویل فہرست کو عوام کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف کراچی سے اسلام آباد تک تاریخی مہنگائی مارچ کیا تھا۔ اس مارچ میں عوام کو بتایا گیا تھا کہ مہنگائی ناقابل برداشت ہو چکی ہے اور عوام کو اس عذاب سے نجات دلانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ لیکن حکومت کی تبدیلی کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی پہلے پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت اور پھر موجودہ حکومتی بندوبست کی مستقل شراکت دار بن گئی۔
آج جب مہنگائی ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ رہی ہے، کیا اب یہ مہنگائی بلاول بھٹو کو دکھائی نہیں دے رہی؟ کیا عوام کی چیخیں اقتدار کے ایوانوں تک نہیں پہنچ رہیں؟ کیا وہ مائیں اور باپ نظر نہیں آتے جو بچوں کی فیسیں ادا کرنے اور گھر کا راشن خریدنے کے درمیان فیصلہ کرنے پر مجبور ہیں؟ کیا وہ سفید پوش ملازمین دکھائی نہیں دیتے جو مہینے کے آخری دس دن ادھار اور قرض کے سہارے گزارنے پر مجبور ہیں؟ اگر کل کو انتخابات کے قریب ایک مرتبہ پھر حکومتی اتحاد سے علیحدگی اختیار کرکے عوامی ہمدردی کا پرانا بیانیہ اختیار کیا جاتا ہے تو شاید اس مرتبہ عوام اتنی آسانی سے قائل نہ ہوں۔ پاکستانی ووٹر پہلے کے مقابلے میں زیادہ باشعور ہو چکا ہے۔ وہ یہ بھی یاد رکھتا ہے کہ اقتدار میں رہتے ہوئے کس نے خاموشی اختیار کی تھی اور کس نے عوام کی آواز بلند کی تھی۔
اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب نے انتخابی مہم کی دوران دو سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو یہ خوشخبری سنائی تھی کہ اگر ان کی حکومت قائم ہوئی تو ایسے صارفین کے بجلی کے بل حکومت ادا کرے گی۔ یہ اعلان مہنگائی کے ہاتھوں پسے ہوئے عوام کے لیے امید کی ایک کرن بن کر سامنے آیا تھا، لیکن آج لاکھوں گھرانے بجلی کے بل ہاتھ میں پکڑے سوچ رہے ہیں کہ انتخابی وعدے آخر گئے کہاں؟
وزیراعظم جب اپوزیشن میں تھے تو بجلی کی قیمت میں ایک روپے فی یونٹ اضافے پر بھی شدید احتجاج کرتے تھے۔ آج انہی کے دور حکومت میں بجلی کے بل عوام کے لیے ایک ڈرانا خواب بن چکے ہیں۔ کئی خاندانوں کے لیے بجلی کا بل ادا کرنا بچوں کی تعلیم، دوائی یا راشن کے اخراجات قربان کرنے کے مترادف بن چکا ہے۔
مسلم لیگ ( ن) کے قائد ملکی سیاست کا ایک بڑا نام ہیں، مگر موجودہ مہنگائی اور عوامی مشکلات کے اس دور میں عوام کو ان کی جانب سے ہمدردی اور دلجوئی کا وہ لہجہ سنائی نہیں دیتا جس کی توقع کی جاتی ہے۔ اگر واقعی حکومت معاشی مجبوریوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دبا کے باعث بے بس ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اقتدار میں رہنے کا جواز کیا ہے؟ اگر عوام کو ریلیف دینا ممکن نہیں تو کم از کم ان کی مشکلات کا اعتراف اور ان کے دکھ درد میں شرکت تو کی جا سکتی ہے۔
پاکستان کا ایک اور بڑا المیہ آئی پی پیز اور توانائی کے شعبے میں کیے گئے وہ معاہدے ہیں جن کا بوجھ برسوں سے عوام اٹھا رہے ہیں۔ بجلی پیدا ہو یا نہ ہو، اربوں روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس ادا کی جاتی ہیں اور اس کی قیمت عام شہری اپنے بجلی کے بلوں میں ادا کرتا ہے۔ دوسری طرف حکمران طبقات کے پروٹوکول، مراعات، مفت بجلی، مفت پٹرول اور شاہانہ اخراجات بدستور جاری رہتے ہیں۔
معاشی انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ غریب آدمی سے بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے آخری روپیہ بھی وصول کر لیا جائے جبکہ بڑے جاگیردار، بااثر طبقات اور ٹیکس چور بدستور نظام سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔ ریاستیں اس طرح نہیں چلتیں کہ امیروں کو رعایتیں اور غریبوں کو قربانیوں کے درس دئیے جائیں۔
حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے، سرکاری اخراجات کم کرے، پیداواری شعبوں کو فروغ دے، زراعت اور صنعت کو سہارا دے، برآمدات میں اضافہ کرے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے جدید شعبوں کو قومی معیشت کا ستون بنائے۔ قرض لے کر اخراجات پورے کرنے اور پھر ان قرضوں کی قیمت عوام سے وصول کرنے کا سلسلہ زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتا۔
آج ملک کا متوسط طبقہ تیزی سے سکڑ رہا ہے۔ سفید پوش طبقہ اپنی عزتِ نفس بچانے کے لیے خاموش ضرور ہے مگر مطمئن ہرگز نہیں۔ نوجوان بے روزگاری سے پریشان ہیں، کاروباری طبقہ بڑھتے ہوئے اخراجات سے نالاں ہے اور مزدور طبقہ دو وقت کی روٹی کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ جدوجہد کر رہا ہے۔
حکمرانوں کو یہ حقیقت جان لینی چاہیے کہ عوام کے صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ سیاسی بیانیے، انتخابی نعرے، مظلومیت کے کارڈ اور وقتی اتحاد شاید کچھ عرصے کے لیے سیاسی فائدہ دے دیں مگر مسلسل معاشی دبائو میں پسے ہوئے عوام کو زیادہ دیر تک مطمئن نہیں رکھا جا سکتا۔
اگر حالات یہی رہے، مہنگائی کا یہ طوفان یونہی جاری رہا اور عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے انتخابات میں کوئی جذباتی نعرہ، کوئی مظلومیت کارڈ اور کوئی سیاسی ڈرامہ عوام کے فیصلے کو تبدیل نہیں کر سکے گا۔
جمہوریت میں عوام کی یادداشت اتنی کمزور نہیں ہوتی جتنا سیاست دان سمجھتے ہیں۔ عوام وعدے بھی یاد رکھتے ہیں، دعوے بھی، مہنگائی مارچ بھی اور اقتدار کی خاموشیاں بھی۔
حکمران اتحاد کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر وعدوں پر عمل کے یہ موسم بیت گئے تو سوائے پچھتاوے کے کچھ نہ بچے گا، کیونکہ انتخابات کا دن ان کے لیے یومِ حساب بن جائے گا۔





