
کراچی میں ڈاکو راج بے قابو، کلفٹن میں بینک کے باہر ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان ڈاکٹر آکاش قتل، گڈاپ میں کروڑوں کی واردات
کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ پیر کے روز کلفٹن کے علاقے تین تلوار کے قریب بینک کے باہر ڈکیتی مزاحمت پر مسلح ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 28 سالہ نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہو گئے، جبکہ گڈاپ سٹی میں رواں سال کی سب سے بڑی گھریلو ڈکیتی کی واردات میں ملزمان کروڑوں روپے مالیت کا سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر آکاش اپنے والد اور کزن کے ہمراہ ایک نجی بینک سے 50 لاکھ روپے نکلوا کر دوسرے بینک میں رقم جمع کرانے جا رہے تھے۔ وہ جیسے ہی تین تلوار کے قریب واقع بینک پہنچے تو دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح ملزمان نے ان کا تعاقب کرتے ہوئے نقدی چھیننے کی کوشش کی۔ اس دوران بینک کے سیکیورٹی گارڈ اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں کار کی پچھلی نشست پر موجود ڈاکٹر آکاش کے سینے میں گولی لگی۔ شدید زخمی حالت میں انہیں قریبی نجی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ ملزمان 25 لاکھ روپے نقدی سے بھرا شاپر لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جبکہ باقی 25 لاکھ روپے محفوظ رہے۔ واقعے کے بعد پولیس افسران، کرائم سین یونٹ اور فارنزک ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ ایس ایس پی ساؤتھ مہزوز علی کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر لی گئی ہیں اور ملزمان کا روٹ میپ مرتب کیا جا رہا ہے جبکہ سیکیورٹی گارڈ کو بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے تاکہ فرانزک رپورٹ کے ذریعے یہ تعین کیا جا سکے کہ ڈاکٹر آکاش کو لگنے والی گولی کس کی تھی۔ مقتول کی لاش ضابطے کی کارروائی کے بعد جناح اسپتال منتقل کی گئی جہاں اہل خانہ نے بتایا کہ ڈاکٹر آکاش گزشتہ دو برس سے جناح اسپتال میں خدمات انجام دے رہے تھے، وہ غیر شادی شدہ تھے اور ان کے والد سکھر میں کاٹن فیکٹری چلاتے ہیں۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ شہر میں پڑھے لکھے اور قابل نوجوانوں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے، حالانکہ وہ باقاعدگی سے بھاری ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ بعد ازاں اہل خانہ نے میت تین تلوار کے قریب رکھ کر احتجاج کیا اور فیلڈ مارشل اور وزیراعظم سے انصاف کا مطالبہ کیا۔ لواحقین نے اعلان کیا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری تک دھرنا جاری رکھا جائے گا تاہم میئر کراچی کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کر دیا گیا۔ احتجاج میں ذوالفقار علی بھٹو جونیئر بھی مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے شریک ہوئے۔ دوسری جانب گڈاپ سٹی کے علاقے رمضان لاسی گوٹھ، کرپلانی ولاز میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب آٹھ مسلح ملزمان ایک بنگلے میں داخل ہوئے اور اہل خانہ کو یرغمال بنا کر 200 تولے سے زائد طلائی زیورات، چاندی، نقدی، قیمتی موبائل فونز اور دیگر سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔ اطلاع ملنے پر ایس ایچ او گڈاپ سٹی، ایس ڈی پی او گڈاپ، ایس ایس پی ملیر، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران موقع پر پہنچ گئے جبکہ فارنزک ٹیم نے شواہد اکٹھے کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق کراچی میں رواں برس ڈکیتی مزاحمت کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 42 ہو چکی ہے، جس نے شہر میں امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔







