Column

عرب اور خلیج کا خوف

سیدہ عنبرین
عرب اور خلیج کا خوف
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے، امریکی صدر کی بڑی خواہش تھی کہ وہ وینزویلا اٹیک سٹائل میں ایران پر حملہ آور ہوتے ہی رجیم چینج کرتے، پھر ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کے بعد ایک فاتح کی حیثیت سے مڈٹرم انتخابات کی کمپین شروع کرتے، قدم قدم پر ناکامیوں اور دنیا بھر میں ہونیوالی رسوائیوں کے بعد اب وہ کبھی ایرانی قیادت اور ایرانی فوج و عوام کی تعریف کرتے ہیں، کبھی فشار خون بڑھتا ہے تو انہیں گالیاں دینے لگتے ہیں۔ ایران کے تابڑ توڑ حملوں سے حواس باختہ ہو جاتے ہیں تو جنگ بندی کیلئے ثالث ڈھونڈتے پھرتے ہیں، اوسان بحال ہوتے ہیں تو پھر کسی بڑے حملے کی دھمکی دے ڈالتے ہیں۔ اب تو دنیا بھر کی نفرت کا اس قدر نشانہ بن چکے ہیں کہ جو نیا اعلان کرتے ہیں ان کے اپنے اتحادی اس فیصلے کے پرخچے اڑا دیتے ہیں ۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے ٹیکس لینے کا اعلان کیا تو اس کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑ گئے، ان کے بغل بچے بھی ان کے ہمنوا بن گئے۔ کہنے لگے یہ آبی گزر گاہ دنیا بھر کے بحری جہازوں کیلئے ٹال فری ہونی چاہئے، اس پر ٹیکس لگانا آبی دہشت گردی ہوگی۔ ایران کا جواب آیا آبنائے ہرمز اور اس کے پانی ایران کی ملکیت ہیں، بالکل اسی طرح جیسے دیگر گزر گاہیں ان ملکوں کی ملکیت ہیں جو ان کے کناروں پر ہیں، جس طرح وہ ٹال وصول کرتے ہیں ایران بھی اس حق کو استعمال کر سکتا ہے۔ ٹرمپ کے منہ میں پانی آچکا تھا، اس نے چشم تصور سے دیکھا ہر برس یہاں سے کئی ہزار ارب ڈالر کمائے جا سکتے ہیں، قبضے کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد اب ڈونلڈ ٹرمپ اپنے شانے پر کپڑا ڈال کر آبنائے ہرمز کے دروازے پر بیٹھنا چاہتا ہے، اس کی یہ خواہش بھی پوری نہیں ہو گی۔ امریکی صدر نے اعلان کیا کہ وہ یہاں سے گزرنے والے سامان پر بیس فیصد ٹیکس لگائے گا، اس اعلان کے ساتھ اس کے اتحادیوں نے کورا جواب دے دیا کہ وہ یہ ٹیکس نہیں دیں گے۔ ان ملکوں میں غیرت کا ذرا سا بھی مادہ ہو اور وہ کسی اصول پر کار بند ہوں تو ٹرمپ سے پوچھیں کہ آبنائے ہرمز ایرانی ملکیت ہونے کے باوجود اگر ایران اس پر ٹیکس نہیں لگا سکتا تو پھر امریکہ کس کا قانون کے تحت یہاں سے بیس فیصد ٹیکس حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔
امریکہ نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے اہم ایم او یو سائن کرنے کے باوجود بہانہ بنا کر آبنائے ہرمز اور خارگ جزیرے پر حملہ کیا، لیکن پہلے چوبیس گھنٹوں میں اپنے دو بحری جہازوں سے ہاتھ دھو بیٹھا، ایک جہاز ایرانی میزائلوں کی زد میں آیا اور گہرے پانیوں میں غرق ہو گیا، جبکہ دوسرے جہاز کو ایران ڈرونز نے ناکارہ کر دیا۔
اس معرکے میں اسلحے سے بھرا ہوا ایک جہاز امریکی شہہ پر متبادل راستے سے گزرنے کی کوششیں کر رہا تھا، جس پر ایرانی کشتیوں نے دھاوا بول دیا اور اسے اس پر میزائلوں کے ذخیرے سمیت تباہ کر دیا، جبکہ اس وقت امریکہ غیر ملکی جہازوں کو عملے کو یقین دہانی کرا رہا تھا کہ وہ اس کے بتائے ہوئے متبادل راستے سے گزریں، امریکی جہاز انہیں سکیورٹی فراہم کریں گے۔ امریکی جھانسے میں آ کر یہ راستہ اختیار کرنے والے یو اے ای کے دو بحری جہاز بھی نشانہ بنے اور ایرانی ڈرون حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد ڈوب گئے۔ یوں آبنائے ہرمز میں تباہ ہو کر ڈوب جانے جہازوں کی تعداد چالیس کے قریب ہے۔ امریکی ذرائع اس تعداد کو تیس بتاتے ہیں، ان کے مطابق تباہ ہونے والے جہازوں میں بائیس کمرشل جہاز اور آٹھ نیوی کے جہاز شامل ہیں۔ آبنائے ہرمز پر ہونے والوں مختلف امریکی حملوں میں آٹھ مختلف قسم کے ہیلی کاپٹر بھی تباہ ہوئے ہیں۔ بعض موقعوں پر امریکہ نے یہاں اپنے سیلز اتارنے کی کوشش کی، جن میں درجنوں مارے گئے، جبکہ ایک سو اسی سیلز ایران نے قیدی بنا لئے، اور انہیں زمین پر قطار میں بٹھا کر ان کی فوٹیج جاری کر دی۔ کچھ امریکی قیدیوں کے انٹرویو بھی ٹیلی کاسٹ کئے گئے ہیں، جن میں وہ اظہار خیال کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انہیں کسی علاقے پر حملے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ بعض امریکی اور اسرائیلی قیدیوں نے اپنے ہلاک ہوجانے والی ساتھیوں کے بارے میں بھی بتایا، جس کے بعد امریکی فوجیوں کے اہل خانہ میں کہرام برپا ہو گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقتوں کے باعث بڑی تعداد میں پہنچنے والے جانی نقصان کے بعد امریکی فوج، فضائیہ اور بحریہ میں مختلف سطحوں پر بغاوت کے آثار نمایاں ہیں۔ مختلف یونٹوں میں امریکی فوجی جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر چکے ہیں۔ یہ انکار اعلیٰ ترین سطح پر بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اب سے چند گھنٹے قبل ایک تجارتی جہاز تیزی سے راستہ بدلنے کی کوششیں میں ایک دوسرے جہاز سے ٹکرا کر ڈوب گیا۔
امریکہ کی طرف سے تازہ ترین حملوں کے بعد تیل کا بحران بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ تیل کی کم ہوتی ہوئی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اب یہ قیمت اٹھاسی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ عرب اور خلیج سے آنے والے آئل ٹینکرز نے اپنا سفر روک دیا ہے، جس سے مختلف ممالک میں تیل کی قلت کے ساتھ ساتھ قیمتیں بڑھنے سے انڈسٹری دیوالیہ ہو سکتی ہے۔ امریکی حملوں کے بعد ایران کے قائدین نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز دھمکیوں سے نہیں کھلے گی، انہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ اسے کتنا عرصہ بند رکھنا ضروری ہے۔ دوسری طرف بحر مندب کے بند ہونے سے مزید بیس فیصد تیل کی ترسیل رک رہی ہے۔ یوں تیل کے بحران کی رفتار بڑھتی نظر آتی ہے۔ امریکہ کی آخری کوشش ہے کہ عرب اور خلیجی ممالک اس جنگ کا ایندھن بن جائیں، لیکن قطر اور کویت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی قیادت امریکی چال کو سمجھتے ہوئے تحمل سے کام لے رہی ہے، لیکن باری النظر میں یوں لگتا ہے جسے اپنے ملکوں میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو فوراً بند کرانا ان کے بس میں نہیں، اس بات کا امکان ہے کہ وہ کسی ایسے معاہدے میں جکڑے ہوئے ہیں جس کا امریکہ ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔ معاہدوں میں ایک شق ایسی ہے جس کی خلاف ورزی پر یہ اڈے فوراً بند کرائے جا سکتے ہیں، وہ شق یہ ہے کہ یہ اڈے ان ملکوں کی حفاظت کیلئے بنائے گئے تھے لیکن امریکی اڈے کسی ملک کی حفاظت نہ کر سکے، ان کی توجہ اسرائیل پر ہی رہی۔ خلیج اور عرب ممالک کو یہ بھی خوف ہے کہ امریکہ ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے ان کے امریکہ میں موجود کئی ہزار ارب ڈالر ضبط کر سکتا ہے جیسے اس نے ایران کے ساتھ کیا۔ دوسری طرف ان ملکوں کو اپنی معیشت ڈوبنے کا خوف ہے، جس کا علاج انہیں نظر نہیں آ رہا۔

جواب دیں

Back to top button