Column

آبی ڈیموں کی تعمیر اور پاکستان کا مستقبل

شاہد ندیم احمد
آبی ڈیموں کی تعمیر اور پاکستان کا مستقبل
عالمی ماحولیاتی تبدیلی نے دنیا بھر میں قدرتی آفات کی شدت اور تسلسل میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے، پاکستان ان ممالک میں شامل ہے ،جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ اس کا حصہ عالمی گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں نہایت معمولی ہے، ہر سال مون سون کی شدید بارشیں، اچانک آنے والے سیلاب، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور غیر متوقع موسمی تبدیلیوں کے باعث ملک کو جانی، مالی اور معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے تو یہ سوال پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ کیا پاکستان نے اپنے آبی وسائل کے مثر استعمال اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت منصوبہ بندی کی ہے؟ چیئرمین واپڈا کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان کو واٹر سکیورٹی کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے، یہ ایک ایسی حقیقت کی نشاندہی ہے کہ جسے مزید نظر انداز کرنا قومی مفاد کے خلاف ہوگا۔
اگر دیکھا جائے تو پاکستان بنیادی طور پر دریاں پر انحصار کرنے والا زرعی ملک ہے،ملکی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے، جبکہ صنعت، بجلی کی پیداوار اور پینے کے پانی کی فراہمی بھی انہی آبی وسائل سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ ہمارے ہاں پانی کو محفوظ کرنے کی صلاحیت انتہائی محدود ہے،ملک بھر میںبارشوں اور برف پگھلنے سے آنے والا کروڑوں ایکڑ فٹ پانی مناسب ذخیرہ نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال سمندر میں چلا جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب ملک کے مختلف حصے پانی کی قلت، خشک سالی اور زیر زمین پانی کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح جیسے مسائل کا شکار ہیں،یہ تضاد اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ پانی کی کمی سے زیادہ، اس کے موثر انتظام کا ہے،جو کہ نہیں کیا جارہا ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان نے تباہ کن سیلابوں کی شکل میں موسمیاتی تبدیلی کے سنگین نتائج دیکھے ہیں، ہزاروں جانوں کا ضیاع، لاکھوں افراد کی نقل مکانی، سڑکوں، پلوں، تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور زرعی زمینوں کی تباہی نے قومی معیشت پر اربوں ڈالر کا بوجھ ڈالا ہے، اگر ملک میں بڑے آبی ذخائر اور جدید فلڈ مینجمنٹ کا موثر نظام موجود ہوتا تو ان تباہ کاریوں کی شدت کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا تھا، ڈیم صرف پانی ذخیرہ کرنے کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ قومی ترقی کے ضامن بھی ہوتے ہیں، ایک بڑا ڈیم سیلابی پانی کو قابو میں لا کر انسانی آبادیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے ا ور زراعت کے لیے سال بھر آبپاشی یقینی بناتا ہے، پن بجلی پیدا کر کے توانائی کے بحران میں کمی لاتا ہے اور صنعتی ترقی کو بھی تقویت دیتا ہے، اس کے باوجود نئے ڈیم نہیں بنائے جارہے ہیں ۔
پاکستان میں کئی اہم آبی منصوبے سیاسی اختلافات، مالی مشکلات، انتظامی سست روی اور قانونی پیچیدگیوں کا شکار رہی، اس منصوبوں میں تاخیر کا نقصان صرف موجودہ نسل ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلیں بھی بھگت رہی ہیں، اگر گزشتہ کئی دہائیوں میں قومی اتفاق رائے کے ساتھ ڈیموں کی تعمیر مکمل کر لی جاتی تو آج سیلابی پانی تباہی مچانے کے بجائے لاکھوں ایکڑ اراضی کو سیراب کر رہا ہوتا، بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو چکا ہوتا اور پانی کے بحران کی شدت بھی کم ہوتی،ایک طرف ڈیم نہیں بنائے جارہے تو دوسری جانب ایک جامع واٹر مینجمنٹ پالیسی نظر نہیں آرہی ہے ،اس ملک میں صرف نئے ڈیم تعمیر کافی نہیں، بلکہ ایک جامع واٹر مینجمنٹ پالیسی کی بھی اشد ضرورت ہے۔
اس ملک میںماحولیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں جدید موسمیاتی پیش گوئی، ابتدائی وارننگ سسٹم، دریا کنارے آبادیوں کی بہتر منصوبہ بندی اور مضبوط انفراسٹرکچر بھی ناگزیر ہو چکے ہیں،اس بدلتے موسم میںسیلاب سے نمٹنے کے لیے صرف امدادی سرگرمیاں کافی نہیں ہوتیں، بلکہ پیشگی تیاری، سائنسی منصوبہ بندی اور موثر ادارہ جاتی ہم آہنگی ہی دیرپا تحفظ فراہم کر سکتی ہے، اس مقصد کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مضبوط تعاون اور مستقل پالیسی تسلسل بھی ضروری ہے ،اس ضمن میں جہاں ایک بہتر منصوبہ بند ی کے ساتھ اپنی غلطیوں کا ازالہ کیا جائے ،وہیں عوامی شعور بیدار بھی بیدار کیا جائے، تاکہ پانی کے تحفظ کو ایک اجتماعی ذمہ داری کے طور پر فروغ دیا جا سکے،اہل سیاست اور اہل ریاست جب تک اپنی سوچ نہیں بدلیں گے اور اپنی ذاتیات سے نکل کر قومی مفاد میں نہیں سوچیں گے ،تب تک پانی اور توانائی کے بحران سے نکل نہیں پائیں گے۔
پاکستان آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے کہ جہاں موسمیاتی تبدیلی کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں، لیکن ان خطرات کو بہتر منصوبہ بندی، جدید انفراسٹرکچر اور قومی اتفاق رائے کے ذریعے مواقع میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے ،اگر ہم سیلابی پانی کو محفوظ کر کے اسے زرعی ترقی، سستی بجلی کی پیداوار اور مستقبل کی آبی ضروریات کے لیے استعمال کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ پانی قومی ترقی کا سب سے بڑا سرمایہ بن سکتا ہے، اس کیلئے مشکل فیصلے کر نا ہوں گے ،اگر آج دانشمندانہ فیصلے کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، خوشحال اور پانی کے اعتبار سے مستحکم پاکستان دیا جا سکتا ہے، لیکن اگر غفلت کا سلسلہ جاری رہا تو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز مستقبل میں کہیں زیادہ سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں،یہ ایک ایسا لمحہ ہے کہ جب قومی قیادت، متعلقہ اداروں اور پوری قوم کو مشترکہ طور پر اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پانی کا تحفظ دراصل پاکستان کے مستقبل کا تحفظ ہے۔

جواب دیں

Back to top button