Column

سعودیہ کی سلامتی، پاکستان کا موقف

سعودیہ کی سلامتی، پاکستان کا موقف
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں معمولی فوجی کارروائی بھی وسیع علاقائی کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔ یمن میں جاری تنازع، حوثی حملے، بحیرہ احمر کی صورتِ حال اور مختلف علاقائی قوتوں کے مفادات نے اس خطے کو گزشتہ کئی برسوں سے عدم استحکام کا شکار کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں سعودی عرب پر میزائل حملے نہ صرف ایک خودمختار ریاست کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پورے خطے کے امن، عالمی تجارت اور بین الاقوامی استحکام کے لیے بھی تشویش کا باعث ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ان حملوں کی شدید مذمت اور پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار دراصل پاکستان کی دیرینہ خارجہ پالیسی اور برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات صرف سفارتی نوعیت کے نہیں بلکہ مذہبی، تاریخی، ثقافتی اور معاشی بنیادوں پر بھی استوار ہیں۔ دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ سعودی عرب نے پاکستان کی معاشی مشکلات کے دوران متعدد مواقع پر مالی معاونت فراہم کی، جبکہ پاکستان نے بھی ہمیشہ سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم جزو قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی سعودی عرب کو کسی بیرونی خطرے یا حملے کا سامنا ہوا، پاکستان نے بلا تردد اس کی مذمت کرتے ہوئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملے ناقابلِ قبول ہیں، ایک اصولی اور متوازن موقف ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہر خودمختار ریاست کو اپنی سرحدوں، شہریوں اور قومی سلامتی کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ کسی بھی ملک پر بیلسٹک میزائل یا ڈرون حملے نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کی روح کے منافی ہیں بلکہ یہ علاقائی امن کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ یمن کا تنازع کئی برسوں سے جاری ہے اور اس کے باعث لاکھوں افراد انسانی بحران کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس جنگ نے نہ صرف یمن کے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی بھی فریق کی جانب سے عسکری کارروائیوں میں اضافہ کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ یمن کے مسئلے کا پائیدار حل صرف مذاکرات، سفارت کاری اور سیاسی مفاہمت میں ہے، نہ کہ طاقت کے استعمال میں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون کی تقریر بھی اسی متوازن پالیسی کی عکاس تھی۔ انہوں نے ایک طرف سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، تو دوسری جانب یمن کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کی بھی حمایت کی۔ اس موقف سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کسی ایک فریق کی جنگی حکمتِ عملی کا حامی نہیں بلکہ خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی کے اثرات صرف اسی خطے تک محدود نہیں رہتے۔ دنیا کی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ اسی علاقے سے وابستہ ہے۔ بحیرہ احمر اور خلیج کے سمندری راستے عالمی تجارت کی شہ رگ ہیں۔ اگر ان علاقوں میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، ایسی صورت حال سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی تنازع میں عام شہری سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ یمن میں لاکھوں افراد خوراک، ادویہ اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب کے سرحدی علاقوں میں میزائل حملوں کا خطرہ عام شہریوں کے لیے مسلسل خوف اور عدم تحفظ کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریق انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو مزید تباہی کا سبب بنیں۔ پاکستان نے ہمیشہ مسلم دنیا میں اتحاد، اعتدال اور سفارت کاری کے فروغ کی حمایت کی ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے مختلف علاقائی تنازعات میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔ موجودہ صورت حال میں بھی پاکستان کا کردار ایک ذمے دار اسلامی ملک کے طور پر سامنے آنا چاہیے، جو اپنے برادر ممالک کی سلامتی کی حمایت کرتے ہوئے امن کی کوششوں میں بھی فعال کردار ادا کرے۔یہ وقت الزام تراشی یا طاقت کے مظاہرے کا نہیں بلکہ تدبر، تحمل اور سیاسی بصیرت کا ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات کو مزید ہوا دی گئی تو اس کے نتائج صرف یمن یا سعودی عرب تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری مسلم دنیا اور عالمی برادری اس کے اثرات سے متاثر ہوگی۔ اس لیے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) اور دیگر بین الاقوامی فورمز کو بھی فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی اصولی خارجہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ہر اس اقدام کی حمایت کرے جو امن، استحکام اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہو۔ سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت کے ساتھ ساتھ یمن کے عوام کے مصائب کے خاتمے اور سیاسی حل کی کوششوں کی تائید بھی اسی متوازن حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ میزائلوں اور بموں سے وقتی برتری تو حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن پائیدار امن صرف بات چیت، اعتماد سازی اور سفارتی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ سعودی عرب پر حملوں کی مذمت اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ خطے کو مزید جنگ کی آگ میں دھکیلنے کے بجائے امن کے راستے کو اختیار کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ پاکستان کا یہی موقف خطے کے امن، مسلم دنیا کے اتحاد اور عالمی استحکام کے لیے سب سے زیادہ تعمیری اور دانش مندانہ راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔
جان بچانے والی ادویہ کی قلت
صحت کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمے داریوں میں شامل ہے، مگر افسوس کہ پاکستان میں ایک بار پھر جان بچانے والی ادویہ کی شدید قلت نے صحت کے نظام پر سنگین سوال کھڑے کر دئیے ہیں۔ کینسر، دل کے امراض، ذیابیطس، بچوں کی بیماریوں اور دیگر مہلک امراض کے علاج میں استعمال ہونے والی 105سے زائد ضروری ادویہ کی عدم دستیابی صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ہزاروں مریضوں کی زندگیوں سے جڑا ہوا ایک انسانی المیہ ہے۔ ایسے وقت میں جب ہر لمحہ کسی مریض کی زندگی بچا سکتا ہے، ادویہ کی قلت ناقابلِ قبول ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ( ڈریپ) دو سال قبل ان ادویہ کی قیمتوں میں نظرثانی کی سفارشات وفاقی حکومت کو ارسال کر چکی ہے، لیکن ان کی منظوری تاحال التوا کا شکار ہے۔ دوسری جانب خام مال، بجلی، گیس، پیکیجنگ اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں مسلسل اضافے نے ادویہ ساز کمپنیوں کے لیے موجودہ قیمتوں پر ادویات تیار کرنا معاشی طور پر مشکل بنا دیا ہے، جس کے باعث کئی کمپنیوں نے پیداوار کم یا بند کر دی ہے۔ اس کا براہِ راست نقصان عام مریض اٹھا رہے ہیں۔ ادویہ کی قلت کا ایک اور خطرناک پہلو جعلی اور اسمگل شدہ ادویات کا فروغ ہے۔ جب اصل دوا مارکیٹ سے غائب ہو جائے تو مجبور مریض غیر قانونی ذرائع سے مہنگی اور غیر معیاری ادویہ خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو نہ صرف علاج کو متاثر کرتی ہیں بلکہ انسانی جانوں کو مزید خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ حالیہ کارروائیوں میں اسمگل شدہ کینسر ادویات کی برآمدگی اس سنگین مسئلے کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔ حکومت کی جانب سے ادویہ کی تصدیق کے لیے کیو آر کوڈ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ خوش آئند ہے، کیونکہ اس سے جعلی ادویہ کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، یہ اقدام اس وقت تک موثر ثابت نہیں ہوگا جب تک ضروری ادویہ کی مسلسل اور مناسب فراہمی یقینی نہ بنائی جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی کابینہ جان بچانے والی ادویہ کی قیمتوں اور منظوری سے متعلق تمام زیر التوا فیصلے ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرے۔ اس کے ساتھ ادویہ ساز کمپنیوں، ڈریپ، وزارتِ صحت اور متعلقہ اداروں کے درمیان مثر رابطہ قائم کیا جائے تاکہ ادویہ کی پیداوار، دستیابی اور مناسب قیمتوں میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔ صحت کا نظام تاخیر کا متحمل نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہاں ہر فیصلے کی قیمت کسی انسان کی زندگی بھی ہوسکتی ہے۔ مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج فراہم کرنا حکومت کی آئینی، اخلاقی اور انسانی ذمے داری ہے، جسے ہر صورت پورا کیا جانا چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button