تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

فٹ بال کپ، 64 برس بعد تاریخ بدل گئی، ریڈ کارڈ کے باوجود کھلاڑی کو اگلا میچ کھیلنے کی اجازت

) کھیل میں سیاست؟ کیا اب طاقتور ممالک اپنے کھلاڑی بچا سکتے ہیں؟ فٹ بال کپ، 64 برس بعد تاریخ بدل گئی، ریڈ کارڈ کے باوجود کھلاڑی کو اگلا میچ کھیلنے کی اجازت، صدر ٹرمپ کی مبینہ مداخلت پر ہنگامہ…

بیلوگن کو اچانک ریلیف، فیفا کے فیصلے پر عالمی سوالات، بیلجئم نے فیصلے کو باضابطہ چیلنج کر دیا ،سابق صدر فیفا کا کہنا ہے ریڈ کارڈز سیاسی فون کالز سے ختم نہیں ہوتے۔

ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے سے قبل ایک غیر معمولی اور ہنگامہ خیز پیش رفت نے عالمی فٹبال کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں امریکی اسٹرائیکر فولارین بیلوگن کی معطلی اچانک معطل کیے جانے کے بعد نہ صرف کھیل کی شفافیت پر سوالات اٹھ گئے ہیں بلکہ سیاسی مداخلت کے الزامات نے تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

مبینہ طور پر امریکی صدر ٹرمپ کی براہِ راست مداخلت اور فیفا کے صدر جیانی انفنٹینو سے رابطے کے بعد سامنے آنے والا یہ فیصلہ بیلجئم، یورپین فٹبال حلقوں اور ماہرین کے لیے ایک خطرناک نظیر بن گیا ہے، جبکہ فیفا کی غیر معمولی نرمی نے کھیل کے بنیادی اصولوں کو بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔

یہ تنازع یکم جولائی کو امریکہ اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے درمیان میچ کے دوران شروع ہوا، جب 64ویں منٹ میں بیلوگن کو سخت ٹیکل پر وی اے آر کے بعد براہِ راست ریڈ کارڈ دکھایا گیا۔

اس فیصلے کے تحت ایک میچ کی لازمی معطلی عائد ہوئی، جس کا مطلب تھا کہ وہ بیلجئم کے خلاف اہم ناک آؤٹ مقابلے سے باہر ہو جائیں گے۔

بیلوگن، جو اس ٹورنامنٹ میں امریکہ کے نمایاں اسکورر ہیں، کی عدم موجودگی ٹیم کے لیے بڑا دھچکا سمجھی جا رہی تھی۔ تاہم معاملہ اس وقت ڈرامائی موڑ اختیار کر گیا جب رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر فیفا صدر انفنٹینو سے رابطہ کیا اور سزا پر نظرثانی کی درخواست کی

جواب دیں

Back to top button