
حماس نے غزہ میں اپنی حکومت کے خاتمے اور انتظامی کمیٹی تحلیل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کی قیادت نے اس فیصلے کا اعلان کیا جس کا مقصد نیشنل کمیٹی سِوِل مینجمنٹ کی بنیاد پر ٹیکنوکریٹک حکومت قائم کرنا ہے۔
حماس کے ایک عہدیدار کے مطابق تحریک نے فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ حکومتی ڈھانچے کو تحلیل کر دیا جائے گا اور ایک عوامی سطح پر قابلِ قبول شخصیت کو عبوری طور پر ذمہ داری دی جائے گی جب تک غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی باضابطہ طور پر اپنا کام شروع نہیں کر دیتی۔
تاہم حماس نے واضح کیا ہے سِوِل حکومت سے دستبرداری کا مطلب اس کی مکمل غیر مسلح ہونے پر رضامندی نہیں ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ انتظامی اختیارات منتقل کیے جا سکتے ہیں، لیکن اسلحے اور عسکری ونگ سے متعلق معاملہ الگ موضوع ہے۔
واضح رہے کہ حماس نے 2007 میں مسلح تصادم کے بعد غزہ کا کنٹرول سنبھالا تھا اور تب سے وہ اس علاقے کی سِوِل انتظامیہ چلا رہی تھی۔ موجودہ فیصلہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد جاری سیاسی مذاکرات اور مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ غزہ میں تقریباً دو دہائیوں بعد ایک بڑی سیاسی تبدیلی ہوگی تاہم اس کا انحصار نئی فلسطینی انتظامیہ کی تشکیل، اسرائیل کے ردعمل اور جاری امن مذاکرات کی کامیابی پر ہوگا۔







