ذیابیطس سے نجات: کیا واقعی ممکن ہے؟ ( حصہ دوم ۔ چار ستونوں میں سے آخری دو ستون اور اختتامیہ)
ذیابیطس سے نجات: کیا واقعی ممکن ہے؟ ( حصہ دوم ۔ چار ستونوں میں سے آخری دو ستون اور اختتامیہ)
شہرِ خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
تیسرا ستون: درست طبی علاج اور باقاعدہ نگرانی
اگر غذا اور ورزش ذیابیطس کے علاج کی بنیاد ہیں تو ادویات اس عمارت کا تیسرا مضبوط ستون ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ دوا شروع ہوتے ہی مایوس ہو جاتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اب انہیں زندگی بھر دوائوں کا سہارا لینا پڑے گا، جبکہ کچھ لوگ اس کے برعکس خود ہی دوا بند کر دیتے ہیں۔ دونوں رویے نقصان دہ ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دوا کا مقصد صرف خون میں شکر کم کرنا نہیں بلکہ دل، گردوں، آنکھوں اور خون کی نالیوں کو مستقبل کے نقصانات سے بھی محفوظ رکھنا ہے۔ اسی لیے دوا ہمیشہ معالج کے مشورے سے شروع، تبدیل یا بند کرنی چاہیے۔
آج بھی میٹفارمین (Metformin)ٹائپ 2ذیابیطس کے علاج کی بنیادی ادویات میں شامل ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں میں دو نئی جماعتوں کی ادویات نے علاج میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ایک ایس جی ایل ٹی۔2روکنے والی ادویات (SGLT-2 Inhibitors) ہیں، جو پیشاب کے ذریعے اضافی شکر خارج کرنے کے ساتھ دل اور گردوں کے تحفظ میں بھی مدد دیتی ہیں۔ دوسری جی ایل پی۔1رِسیپٹر کو متحرک کرنے والی ادویات (GLP-1 Receptor Agonists) ہیں، جو بھوک کم کرتی، وزن گھٹانے میں مدد دیتی اور خون میں شکر کو بہتر انداز سے قابو میں رکھتی ہیں۔ البتہ ہر دوا ہر مریض کے لیے مناسب نہیں، اس لیے علاج ہمیشہ انفرادی ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے۔
جدید طب نے ایک اور سہولت بھی فراہم کی ہے جسے مسلسل خون میں شکر کی نگرانی (Continuous Glucose Monitoring: CGM) کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں ایک چھوٹا سا حساس آلہ جلد کے نیچے لگا دیا جاتا ہے، جو دن رات خون میں شکر کی کیفیت پر نظر رکھتا ہے۔ اس سے مریض کو یہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کہ کون سی غذا، کون سی ورزش یا کون سا معمول اس کی شکر پر کیا اثر ڈال رہا ہے۔
ٹائپ 1ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مصنوعی لبلبہ (Artificial Pancreas)امید کی ایک نئی کرن ہے۔ یہ مسلسل نگرانی کے نظام اور انسولین پمپ کو ملا کر خودکار انداز میں انسولین کی مقدار کو بہتر بناتا ہے۔ اگرچہ یہ مکمل علاج نہیں، لیکن مریض کی زندگی کو پہلے سے زیادہ محفوظ اور آسان ضرور بنا دیتا ہے۔
یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے۔ اگر کسی مریض کی شوگر معمول پر آ جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیماری ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہے۔ خاص طور پر ٹائپ 2ذیابیطس میں بعض مریض ریمیشن Remission: ( بیماری کا طویل عرصے تک قابو میں رہنا) حاصل کر لیتے ہیں، لیکن اگر دوبارہ پرانی غذائی عادات، سستی اور بے احتیاطی اختیار کر لی جائے تو بیماری واپس آ سکتی ہے۔
اسی طرح بعض مریض وزن کم کرنے، بہتر غذا اور باقاعدہ ورزش کی بدولت اپنی دوا کم یا بعض اوقات بند بھی کروا لیتے ہیں، لیکن یہ فیصلہ صرف معالج ہی کر سکتا ہے، مریض خود نہیں۔
چوتھا ستون: مثبت طرزِ فکر، معیاری نیند اور ذہنی سکون
ذیابیطس کے علاج کا چوتھا ستون وہ ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ اس کے بغیر باقی تین ستون بھی اپنی پوری طاقت کے ساتھ کام نہیں کر پاتے۔ یہ ستون ہے مثبت طرزِ فکر، ذہنی سکون اور معیاری نیند۔
جب انسان مسلسل ذہنی دبائو، خوف، غصے یا مایوسی میں مبتلا رہتا ہے تو جسم میں ایسے ہارمون خارج ہوتے ہیں جو جگر کو خون میں زیادہ گلوکوز چھوڑنے کا پیغام دیتے ہیں۔ نتیجتاً خون میں شکر بڑھ سکتی ہے، خواہ غذا مناسب ہی کیوں نہ ہو۔
اس کے برعکس امید، اطمینان، شکر گزاری ، اللہ تعالیٰ پر توکل، نماز میں خشوع، ذکر، دعا، گہری سانسیں، اچھی کتاب کا مطالعہ، اہلِ خانہ کے ساتھ خوش گوار وقت اور فطرت میں چہل قدمی ذہنی دبائو کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کا فائدہ صرف دل کو نہیں بلکہ جسم کو بھی پہنچتا ہے۔
اسی طرح معیاری نیند بھی علاج کا لازمی حصہ ہے۔ سات سے آٹھ گھنٹے کی پُرسکون نیند انسولین کی حساسیت بہتر بناتی ہے، بھوک پیدا کرنے والے ہارمون متوازن رکھتی ہے اور جسم کے قدرتی نظام کو بحال کرتی ہے۔ اس کے برعکس رات گئے تک جاگنا، موبائل اور دیگر اسکرینوں کا حد سے زیادہ استعمال اور بے قاعدہ معمول میٹابولزم کو متاثر کرتے ہیں۔ جدید تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ اگر ٹائپ 2ذیابیطس کا مریض اپنے جسمانی وزن میں صرف پانچ سے دس فیصد کمی لے آئے تو انسولین کی کارکردگی نمایاں بہتر ہو سکتی ہے، اور اگر دس سے پندرہ فیصد وزن کم ہو جائے تو بعض مریض ریمیشن تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جگر اور لبلبے میں جمع اضافی چربی کم ہونے لگتی ہے۔ چند عام غلط فہمیاں: صرف میٹھا چھوڑ دینے سے ذیابیطس قابو نہیں آتی، پوری غذا، ورزش، نیند اور وزن بھی اہم ہیں۔ دوا شروع ہونا ناکامی نہیں بلکہ بروقت علاج کی علامت ہے۔ شوگر معمول پر آ جانا مکمل شفا نہیں بلکہ بہتر کنٹرول یا ریمیشن ہو سکتا ہے۔ فاقہ ہر مریض کے لیے مفید نہیں، خصوصاً انسولین یا مخصوص ادویات استعمال کرنے والے مریض احتیاط کریں۔
حاصلِ کلام
ذیابیطس کے بارے میں سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ اس کا علاج صرف دوا ہے، جبکہ جدید سائنس ہمیں ایک مختلف حقیقت بتاتی ہے۔ متوازن غذا علاج ہے۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی علاج ہے۔ درست طبی علاج اور باقاعدہ نگرانی علاج ہے۔ مثبت طرزِ فکر، معیاری نیند اور ذہنی سکون بھی علاج ہیں۔ یہی وہ چار ستون ہیں جن پر ذیابیطس سے بچائو اور اس پر قابو پانے کی پوری عمارت قائم ہے۔ اگر ان میں سے ایک ستون بھی کمزور پڑ جائے تو پوری عمارت عدم توازن کا شکار ہو جاتی ہے، لیکن جب چاروں ستون مضبوط ہوں تو انسان بیماری کا قیدی نہیں رہتا بلکہ اس پر قابو پانے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔
آخر میں صرف اتنی گزارش ہے کہ ذیابیطس قسمت کا فیصلہ نہیں، بلکہ روزمرہ کے فیصلوں کا امتحان ہے۔ ہر متوازن نوالہ، ہر کھانے کے بعد چند منٹ کی چہل قدمی، ہر سو مرتبہ ایڑی کو اوپر نیچے کرنے کی معمولی سی ورزش، ہر پُرسکون رات، ہر مثبت سوچ اور ہر درست فیصلہ آپ کو بیماری کے غلبے سے دور اور صحت کے قریب لے جاتا ہے۔
اور آخر میں وہ بات جو ہر مسلمان کے دل کو اطمینان بخشتی ہے: شفا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، مگر اسباب اختیار کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔





