کس کس سے افسوس کریں؟

کس کس سے افسوس کریں؟
تحریر : رفیع صحرائی
بعض سانحات صرف چند جانیں نہیں لیتے، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ضمیر بھی چند دن جاگتا ہے، پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ حکمران اپنی فائلوں میں گم ہو جاتے ہیں، ادارے نئی ترجیحات میں مصروف ہو جاتے ہیں اور غریب ایک نئے امتحان کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔سانحہ کاہنہ بھی ایسا ہی ایک دل خراش واقعہ ہے۔ اس نے صرف معصوم بچوں کی جانیں ہی نہیں لیں بلکہ یہ سوال بھی ہمارے سامنے رکھ دیا کہ آخر اس ملک میں غریب آدمی محفوظ کہاں ہے؟ اس کا گھر غیر محفوظ، اس کا روزگار غیر محفوظ، اس کے بچوں کی تعلیم غیر محفوظ، اور اس کا مستقبل بھی غیر محفوظ۔
ہمارے ہاں المیہ یہ نہیں کہ حادثات ہوتے ہیں، المیہ یہ ہے کہ ہر حادثے کے بعد حکمران جاگنے کا ڈرامہ کرتے ہیں۔ جب تک کوئی سانحہ رونما نہ ہو، نہ کسی عمارت کی حالت یاد آتی ہے، نہ کسی ادارے کی نگرانی، نہ کسی قانون پر عمل درآمد اور نہ ہی عوام کی جان و مال کی حفاظت۔ جیسے ریاست کی ذمہ داری صرف حادثے کے بعد تعزیتی بیانات جاری کرنا، کمیٹیاں بنانا اور چند دن بعد سب کچھ فراموش کر دینا ہو۔
اب ٹیوشن سینٹروں کے لیے نئے ایس او پیز، رجسٹریشن اور عمارتوں کی جانچ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ بظاہر یہ اقدامات درست محسوس ہوتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ان کا سب سے زیادہ بوجھ کون اٹھائے گا؟ کیا بڑے بڑے تعلیمی کاروباری ادارے متاثر ہوں گے یا وہ غریب بچی جو ایف اے یا بی اے کرنے کے بعد چند بچوں کو پڑھا کر اپنے بیمار والد کا سہارا بنی ہوئی تھی؟ وہ بیوہ جو شوہر کے انتقال کے بعد ٹیوشن پڑھا کر بچوں کی روٹی کا بندوبست کرتی تھی؟ یا وہ طالبہ جو ٹیوشن پڑھا کر اپنے جہیز کے لیے تھوڑی تھوڑی بچت کر رہی تھی؟
سوال تو یہ بھی ہے کہ ان والدین کا کیا ہوگا جو تین، چار یا پانچ سو روپے ماہانہ میں اپنے بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر اس امید سے جیتے تھے کہ شاید ان کے بچے ان کی غربت کا مقدر بدل دیں گے؟ کیا ان کے لیے کوئی متبادل منصوبہ بھی موجود ہے یا صرف پابندیاں ہی ریاست کی واحد پالیسی رہ گئی ہیں؟۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ غربت انسان کو انتخاب کا حق بھی نہیں دیتی۔ اگر ان والدین کے پاس وسائل ہوتے تو کیا وہ اپنے بچوں کو مہنگے نجی تعلیمی اداروں میں داخل نہ کرواتے؟ اگر غربت سے جنگ کرتی ہوئی ان اساتذہ کے پاس سرمایہ ہوتا تو کیا وہ خستہ حال گھروں میں ٹیوشن پڑھانے پر مجبور ہوتیں؟ اگر ان کے پاس وسائل ہوتے تو کیا وہ محفوظ عمارتوں، سکیورٹی گارڈز اور جدید سہولیات سے محروم رہتے؟ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ پالیسیاں وہ لوگ بناتے ہیں جنہوں نے شاید کبھی غربت کو قریب سے دیکھا ہی نہیں۔ جنہیں یہ معلوم نہیں کہ ایک دیہاڑی دار مزدور کے لیے پانچ سو روپے بھی کتنی بڑی رقم ہوتی ہے۔ انہیں اندازہ نہیں کہ ایک بیوہ کے لیے چند ہزار روپے کی آمدنی اس کے بچوں کی زندگی اور بھوک کے درمیان دیوار بن جاتی ہے۔
اگر واقعی حکومت بچوں کی حفاظت چاہتی ہے تو صرف پابندیاں کافی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ چھوٹے تعلیمی مراکز کو قانونی، مالی اور تکنیکی مدد دی جائے، کم آمدنی والے علاقوں میں محفوظ سرکاری تعلیمی مراکز قائم کیے جائیں، عمارتوں کی مفت جانچ کرائی جائے اور بہتری کے لیے مناسب مہلت اور معاونت فراہم کی جائے۔ زندگی کی جنگ لڑنے والی غریب بچیوں کی اتنی مالی مدد ضرور کی جائے کہ وہ اپنے ٹیوشن سینٹر کے لیے ایک مضبوط کمرہ بنا سکیں۔ اگر جہالت کے اندھیرے دور کرنے ہیں تو حکومت کو اس سلسلے میں سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔ سزا صرف غریب کو دینا انصاف نہیں ہے۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ بتایا جاتا ہے لاہور میں بڑی تعداد میں نجی اسکول آج بھی غیر رجسٹرڈ ہیں۔ اگر یہ حقیقت ہے تو متعلقہ ادارے آج تک کہاں تھے؟ کیا انہیں بھی کسی بڑے سانحے کا انتظار تھا؟ اگر نگرانی کا نظام پہلے سے مثر ہوتا تو شاید آج اتنے گھر اجڑنے سے بچ جاتے۔
دوسری طرف لاکھوں بچے پہلے ہی اسکولوں سے باہر ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت نے تعلیم کو ایک خواب بنا دیا ہے۔ اگر سستے ٹیوشن مراکز بھی ختم ہوتے گئے تو اس کا سب سے بڑا نقصان انہی بچوں کو ہوگا جن کے لیے تعلیم غربت سے نکلنے کا آخری راستہ ہے۔ کوئی بھی قوم اپنے غریب بچوں کے تعلیمی دروازے بند کرکے ترقی نہیں کر سکتی۔
اصل مسئلہ صرف ایک عمارت، ایک ٹیوشن سینٹر یا ایک سانحہ نہیں، بلکہ وہ حکمرانی ہے جو زمینی حقائق سے کٹی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ جب فیصلے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر کیے جائیں اور ان کے اثرات کچی آبادیوں، مزدوروں، بیوائوں اور یتیم بچوں پر پڑیں تو پھر پالیسی اور حقیقت کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا ہو جاتی ہے۔
ریاست کی کامیابی صرف نئے قوانین بنانے میں نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنے میں ہے جہاں غریب کو غیر محفوظ راستے اختیار کرنے کی مجبوری نہ رہے۔ جب تک غربت، بے روزگاری، ناقص منصوبہ بندی اور عدمِ نگرانی جیسے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے، تب تک ہر سانحہ کے بعد نئے ضابطے بنتے رہیں گے اور نئے جنازے اٹھتے رہیں گے۔
آخر میں دل یہی سوال کرتا ہے کہ افسوس کس پر کریں؟ ان معصوم بچوں پر جو ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے؟ ان والدین پر جن کے آنگن اجڑ گئے؟ ان محنت کش اساتذہ پر جن کا واحد ذریعہ معاش ختم ہونے جا رہا ہے؟ ان لاکھوں غریب بچوں پر جن کی تعلیم مزید مہنگی اور مشکل ہو جائے گی؟ یا پھر اس نظام پر، جو ہر بار سانحے کے بعد حرکت میں آتا ہے مگر سانحات کو روکنے کے لیے کبھی بروقت نہیں جاگتا۔
واقعی، کس کس سے افسوس کریں؟




