ایجوکیشن ایمرجنسی کے باوجود نتائج وہی، ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر

ایجوکیشن ایمرجنسی کے باوجود نتائج وہی، ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر
تحریر :محمد ناصر شریف
بقول علامہ اقبالؒ:
خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
دنیا کے کئی ممالک میں پرائمری تعلیم پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور کئی جمہوری ملکوں میں 10یا 12گریڈ تک تعلیم مفت فراہم کی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں یہ صورتحال بہت ہی مختلف ہے یہاں پرائمری تعلیم پر وہ خاص توجہ نہیں دی جاتی جس کا وہ تقاضا کرتی ہے۔ پرائمری تعلیم لازمی بنیادی تعلیم کا پہلا قدم ہے۔ یہ تعلیم 4سے 10سال کے بچوں کو دی جاتی ہے مگر مختلف علاقوں اور ملکوں میں یہ دورانیہ ایک دو سال کے فرق سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً کچھ ممالک یہ تعلیم 3سے 9سال اور کچھ ممالک میں 5سے 11سال تک کے بچوں کو دی جا تی ہے۔ اس تعلیم کو ایلیمنٹری تعلیم بھی کہا جاتا ہے۔ پرائمری تعلیم کا آغاز 1800میں ہوا اور اِس پر عمل زیادہ تر برطانیہ اور دولتِ مشترکہ کے ممالک میں کیا گیا ، ہمارے ہاں چونکہ برطانوی حکومت رہی ہے اِس لئے پاکستان میں بھی پرائمری طرزِ تعلیم ہی رائج ہے۔
موجودہ دور میں یونیورسٹیز کی تعمیر اور قیام پر بہت توجہ دی جارہی ہے لیکن حکومتی اور سیاسی سطح پر پرائمری تعلیم کے حوالے سے حالات بہت خراب ہے ، اب یہ والدین پر ہی انحصار کرتی نظر آتی ہے اگر وہ اپنے بچوں کے لئے اپنا پیٹ کاٹ کر نجی اسکولوں کا رخ کریں تو شاید وہ معیاری تعلیم دلانے میں کامیاب ہوجائیں لیکن سرکاری اسکولوں کی بڑی تعداد معیاری تعلیم کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔
پاکستان میں جہاں معاشی بحرا ن ملک کے قیام سے لے کر اب تک ویسا ہی ہے جیسے پہلے دن تھا۔ آج بھی ہماری ترجیحات میں تعلیم کا حصول سرفہرست نہیں۔ صوبائی ہو یا قومی حکومت یہ دیہی علاقوں کے عوام کے ووٹوں سے وجود میں آتی ہیں لیکن ان ہی لوگوں کا ہر سطح پر استحصال کیا جاتاہے ۔
سروسز اکیڈمی کی پالیسی رپورٹ کے مطابق 2کروڑ 60لاکھ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سول ایجوکیشن ایمرجنسی بھی مطلوبہ نتائج نہ دے سکی، ناکافی فنڈنگ، غیر مربوط نظام اور کمزور طرز حکمرانی بحران کی بنیادی وجوہ ہیں۔ تعلیمی گورننس میں انقلابی اصلاحات مربوط ڈیٹا سسٹم اور پائیدار مالیاتی وسائل کی فراہمی وقت کی ضرورت ہے اسکولوں، سہولتوں اور اساتذہ کی کمی کے باعث بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق تعلیم پر جی ڈی پی کا 4فیصد خرچ ہونا چاہیے لیکن ہم 1.7فیصد خرچ کرتے ہیں وہ بھی اب ایک فیصد پرآگیا۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ تمام صوبوں نے قومی تعلیمی ایکشن پلان (NEAP) 2026کے تحت پُرعزم تعلیمی روڈ میپس مرتب کیے ہیں، تاہم اصل مسئلہ پالیسی سازی نہیں بلکہ ان پر موثر عملدرآمد ہے۔ پاکستان کو درپیش موجودہ تعلیمی بحران وقتی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ اسکول سے باہر بچوں سے متعلق دستیاب تاریخی اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ غربت، تیز رفتار آبادی میں اضافہ، کمزور حکمرانی اور تعلیم پر مسلسل کم سرمایہ کاری نے ہر گزرتے برس کیساتھ بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ سرکاری تعلیمی انفرا اسٹرکچر آبادی میں اضافے کی رفتار کا ساتھ نہ دے سکا، جس کے نتیجے میں کم لاگت نجی تعلیمی اداروں کا دائرہ مسلسل بڑھتا گیا۔
آئین کے آرٹیکل 25۔ اے کے تحت مفت اور لازمی تعلیم کی آئینی ضمانت کے باوجود پاکستان دنیا میں تعلیمی محرومی کا دوسرا بڑا بوجھ اٹھانے والے ممالک میں شامل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 8مئی 2024ء کو قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان سے سیاسی سطح پر غیر معمولی توجہ ضرور حاصل ہوئی، تاہم ہر صوبے کو مختلف نوعیت کے ساختی مسائل کا سامنا ہے، اس لئے یکساں قومی حکمت عملی سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ جائزے کے مطابق پنجاب کا بنیادی مسئلہ اسکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد ہے۔ سندھ پرائمری تعلیم کے بعد تعلیمی نظام کے انہدام اور موسمیاتی آفات سے دوچار ہے، خیبرپختونخوا میں شورش، دشوار گزار جغرافیہ اور خواتین اساتذہ کی کمی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، بلوچستان کمزور اداروں، وسیع فاصلے اور غیر فعال اسکولوں کے باعث تعلیم شدید بحران کا شکار ہے، جبکہ وفاقی علاقوں میں نسبتاً بہتر مجموعی اندراج کے باوجود اندرونی عدم مساوات موجود ہے۔ پنجاب کو ملک کا سب سے بڑا تعلیمی بوجھ اٹھانے والا صوبہ قرار دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہاں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد 96لاکھ سے ایک کروڑ 4لاکھ کے درمیان ہے۔
سندھ حکومت کی جانب سے گزشتہ 16سال کے دوران تعلیم کے شعبے پر 4000ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کی گئی لیکن اس کے باوجود صوبے میں تعلیمی ترقی کا گراف شدید زوال کا شکار ہے۔ حکومتی دعووں کے برعکس سندھ کی شرح خواندگی بڑھنے کے بجائے مزید 0.5فیصد کم ہو گئی ہے، جس نے تعلیمی ایمرجنسی کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کر دیا ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2024۔25کے جاری کردہ آفیشل اعداد و شمار کے مطابق، سندھ کی موجودہ شرح خواندگی گرکر صرف 57.54فیصد رہ گئی ہے، جو 2008ء میں 58فیصد پر کھڑی تھی۔ اس کے برعکس پنجاب نے اسی عرصے کے دوران حیرت انگیز ترقی کرتے ہوئے اپنی شرح خواندگی کو 60فیصد سے بڑھا کر 74فیصد تک پہنچا دیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق، اس وقت سندھ میں78لاکھ بچے اور بچیاں سرے سے تعلیم سے ہی محروم ہیں، جو کہ پاکستان کے مجموعی طور پر اسکولوں سے باہر موجود 20.3ملین بچوں کا قریباً 38فیصد بنتا ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ ان محروم بچوں میں 56فیصد تعداد لڑکیوں کی ہے، جبکہ دادو، سانگھڑ، لاڑکانہ اور خیرپور جیسے بڑے اضلاع میں اسکولوں میں بچوں کے داخلے کی شرح صرف 33فیصد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ صوبے میں تعلیمی انفرا اسٹرکچر کی تباہی کی ایک بڑی وجہ 2010ء اور 2022ء کے تباہ کن سیلاب بھی ہیں۔
اسکول سے باہر بچوں کی تعداد بڑی تشویشناک ہے۔ حکومت و ریاستی عدم توجہی کے ساتھ غربت، صنفی امتیاز، تعلیم کے بارے میں منفی سماجی رویے اور تعلیمی اداروں کا گھر سے دور ہونا بھی انرولمنٹ میں کمی کی وجوہ میں شامل ہے۔
ہم نے پڑھا لکھا پنجاب سمیت بہت سے بینرز تلے نعرے اور اقدامات کا شور سنا لیکن اقدامات میں سنجیدہ دکھائی نہیں دی، مختلف طرح کی اسکیموں سے روشناس بھی کرایا گیا جس میں مفت ناشتہ، کتابیں، سفری اخراجات بھی شامل ہیں لیکن اس کے باوجود ناخواندہ بچوں کی تعداد میں کمی نہ آئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری حکومتیں، ادارے اور سماجی رہنما تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں ناکام رہے۔ جب تک آپ تعلیم کی اہمیت کو اس کی اصل روح کے مطابق اجاگر نہیں کریں گے والدین اور بچوں کے سرپرستوں کو تعلیم کی اہمیت سے متعلق آگاہی فراہم نہیں کریں گے۔ اپنے ہیروز کی صف میں اساتذہ، پروفیسرز ، سائنسدانوں،کیمیا دانوں و دیگر تعلیم سے وابستہ افراد کو شامل نہیں کریں گے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔ بہتر تشہیر یا اشتہار سازی بھی آج کے دور میں بہت اہم ہے۔ دیہی و شہری علاقوں کے شہری اپنا پیٹ کاٹ کر 25سے 50ہزار تک کا موبائل تو لے سکتے ہیں کیونکہ وہ اس کی اہمیت کو جانتے لیکن اپنے اولاد کو صحیح تعلیم دلانے میں مختلف بہانوں سے کام لیتے ہیں۔
ہماری تجویز ہے کہ حکومتی سطح پر والدین کی تربیت کیلئے بھی پروگرامات شروع کیے جائیں اور ان کو تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے دیہی و شہری علاقوں میں انسداد پولیو مہم کی طرز پر انسداد ناخواندگی پروگرام شروع کرنا چاہیے اور یہی انسداد پولیو فورس پولیو مہم کے ساتھ والدین کو بچوں کو اسکول بھیجنے پر بھی آمادہ کرے۔





