Column

امن، معیشت اور پاک ترک شراکت داری

اداریہ۔۔۔
امن، معیشت اور پاک ترک شراکت داری
پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات ہمیشہ محض سفارتی روابط تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ مشترکہ تاریخ، مذہبی ہم آہنگی، تہذیبی قربت، باہمی اعتماد اور ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کی روایت سے عبارت ہیں۔ دونوں ممالک نے مختلف ادوار میں ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات کی حمایت کی ہے اور عالمی فورمز پر بھی باہمی تعاون کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ دورہ ترکیہ اور صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ہونے والی ملاقات معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ایسے وقت میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے جب دنیا بڑھتی ہوئی معاشی بے یقینی، علاقائی کشیدگی اور بدلتے ہوئے عالمی سیاسی منظرنامے سے گزر رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بجا طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی شراکت داری ایک نئے اور امید افزا دور میں داخل ہورہی ہے۔ دونوں ممالک کا دوطرفہ تجارت کا حجم پانچ ارب امریکی ڈالر تک لے جانے کا عزم اس بات کا اظہار ہے کہ اب تعلقات کو صرف سیاسی اور سفارتی تعاون تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں مضبوط معاشی بنیادوں پر استوار کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جارہی ہے۔ موجودہ دور میں کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کا پیمانہ صرف سیاسی روابط نہیں بلکہ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، تجارت اور صنعتی ترقی بھی ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان اور ترکیہ کی قیادت کا وژن قابلِ تحسین ہے۔ ترکیہ گزشتہ دو دہائیوں میں معاشی ترقی، صنعتی پیداوار، بنیادی ڈھانچے، دفاعی صنعت، سیاحت اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکا ہے جبکہ پاکستان جغرافیائی محلِ وقوع، نوجوان افرادی قوت، زرعی وسائل، معدنی ذخائر اور ابھرتی ہوئی منڈی کی حیثیت سے بے شمار مواقع رکھتا ہے۔ اگر دونوں ممالک اپنی صلاحیتوں کو یکجا کرتے ہیں تو یہ شراکت داری صرف دوطرفہ تجارت تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے میں معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ اس ملاقات کا ایک اہم پہلو نجی شعبے کے درمیان روابط کو فروغ دینا بھی ہے۔ وزیراعظم کی ترک سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں اس امر کی غماز ہیں کہ حکومتیں اب اقتصادی سفارت کاری کو ترجیح دے رہی ہیں۔ دنیا کی مضبوط معیشتیں صرف سرکاری معاہدوں سے نہیں بلکہ نجی شعبے، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے فعال کردار سے ترقی کرتی ہیں۔ پاکستان اگر پالیسیوں کے تسلسل، شفافیت، قانونی تحفظ اور سرمایہ کار دوست ماحول کو یقینی بناتا ہے تو ترک سرمایہ کاری نہ صرف صنعتی ترقی بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم اس دورے کی اہمیت صرف معاشی تعاون تک محدود نہیں۔ خطے کی موجودہ صورت حال، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے امن کے قیام کو عالمی ترجیح بنا دیا ہے۔ صدر رجب طیب اردوان کا یہ موقف کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مکالمے، سفارت کاری اور باہمی احترام میں ہے، حقیقت پسندانہ اور قابلِ تحسین ہے۔ حالیہ برسوں میں دنیا نے بارہا دیکھا ہے کہ جنگیں نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کرتی ہیں بلکہ معیشتوں کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیتی ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان اور ترکیہ جیسے ذمے دار ممالک کی یہ مشترکہ آواز کہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، عالمی امن کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ خصوصی طور پر اسرائیل کی جانب سے خطے میں مسلسل جارحانہ پالیسیوں پر ترکیہ کا دوٹوک موقف مسلم دنیا کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔ صدر اردوان کا یہ کہنا کہ اسرائیلی حکومت کو پورے خطے کو دوبارہ بارود اور خون کی بو میں جھونکنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، اس حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ مزید کسی بڑی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ فلسطین، غزہ، لبنان، شام اور ایران سے متعلق حالیہ بحرانوں نے پہلے ہی خطے کے امن و استحکام کو شدید متاثر کیا ہے۔ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہوں گے۔ پاکستان نے بھی ہمیشہ اصولی مقف اختیار کرتے ہوئے مذاکرات، سفارت کاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تنازعات کے حل کی حمایت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر اردوان کے درمیان ہونے والی گفتگو میں بین الاقوامی امن و سلامتی کا موضوع نمایاں رہا۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ دونوں ممالک صرف اپنے دوطرفہ مفادات تک محدود نہیں بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی تعمیری کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ آج دنیا جس تیزی سے جغرافیائی سیاست سے جغرافیائی معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے، اس میں پاکستان اور ترکیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اسٹرٹیجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنائیں۔ دفاع، تجارت، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، زراعت، صحت، تعلیم، معدنیات، سیاحت اور بندرگاہوں کی ترقی جیسے شعبوں میں مشترکہ منصوبے دونوں ممالک کے لیے غیر معمولی فوائد کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بینکاری روابط، ترجیحی تجارتی معاہدے، ویزا سہولتوں، براہِ راست فضائی رابطوں اور تعلیمی و ثقافتی تبادلوں کو بھی مزید فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے تاکہ تعلقات صرف حکومتی سطح تک محدود نہ رہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی مزید مضبوط ہوں۔ تاہم صرف اعلانات اور بیانات سے مقاصد حاصل نہیں ہوتے۔ دونوں حکومتوں کو ضروری ہے کہ وہ مشترکہ فیصلوں پر تیز رفتار اور موثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ سرمایہ کاری کے راستے میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ، پالیسیوں کا تسلسل، شفاف نظامِ حکمرانی، قانونی تحفظ، صنعتی اصلاحات اور کاروبار میں آسانیاں وہ عوامل ہیں جو اس شراکت داری کو حقیقی کامیابی سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔ اگر ان پہلوں پر سنجیدگی سے کام کیا گیا تو پانچ ارب ڈالر کی تجارتی منزل محض ایک ہدف نہیں بلکہ ایک قابلِ حصول حقیقت بن سکتی ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کی دوستی وقت کی ہر آزمائش میں سرخرو رہی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تاریخی رشتے کو نئی معاشی، صنعتی اور سفارتی جہتوں سے مزید مستحکم کیا جائے۔ اسی کے ساتھ عالمی امن، انصاف اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے دونوں ممالک کا مشترکہ مقف نہ صرف مسلم دنیا بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے ایک مثبت مثال بن سکتا ہے۔ اگر حالیہ ملاقاتوں میں کیے گئے اعلانات عملی اقدامات میں ڈھلتے ہیں تو یہ صرف پاکستان اور ترکیہ ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔

 

شذرہ۔۔۔۔
آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
پاکستان میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ایک مرتبہ پھر عام آدمی کے لیے شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کے نرخوں میں نمایاں اضافہ نہ صرف مہنگائی کے نئے طوفان کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ بنیادی غذائی اشیا کی قیمتوں پر موثر کنٹرول تاحال حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ پشاور میں صرف ایک ہفتے کے دوران 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 300روپے کا اضافہ، اسلام آباد میں سرکاری کوٹے کے آٹے کی قیمت بڑھنا، کراچی اور لاہور میں بھی نرخوں کا اوپر جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک شہر یا صوبے تک محدود نہیں بلکہ قومی سطح پر سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ آٹا ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے۔ جب اسی بنیادی ضرورت کی قیمت مسلسل بڑھنے لگے تو اس کے اثرات سب سے زیادہ متوسط اور کم آمدن والے طبقے پر پڑتے ہیں۔ پہلے ہی بجلی، گیس، پٹرول، ادویہ اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں آٹے کی قیمت میں اضافہ لاکھوں خاندانوں کے لیے اپنے ماہانہ بجٹ کو سنبھالنا مزید مشکل بنا دے گا۔ فلور ملز مالکان آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتیں قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل میں رکاوٹوں کو بھی اس بحران کی ایک اہم وجہ بتایا جارہا ہے۔ اگر واقعی سپلائی چَین میں مسائل موجود ہیں تو متعلقہ حکام کی ذمے داری ہے کہ وہ فوری طور پر ان رکاوٹوں کو دور کریں تاکہ مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری کی راہ روکی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی بھی ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ گندم کی خریداری، ذخیرہ، ترسیل اور تقسیم کے نظام کا ازسرنو جائزہ لے تاکہ مستقبل میں ایسے بحران پیدا نہ ہوں۔ صرف سرکاری نرخ مقرر کر دینا کافی نہیں، بلکہ ان پر موثر عمل درآمد کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ اگر بازار میں سرکاری نرخ اور حقیقی فروخت کی قیمت میں نمایاں فرق برقرار رہا تو عوام کو کسی قسم کا ریلیف نہیں مل سکے گا۔ یہ امر بھی ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی تعاون سے ایسی پالیسی اختیار کریں جس کے ذریعے گندم اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہو۔ بنیادی غذائی اشیا کو عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے سے بچانا ریاست کی اولین ذمے داری ہے۔ اگر بروقت اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو آٹے سمیت دیگر ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ کرے گا بلکہ مہنگائی پر قابو پانے کے حکومتی دعوں کو بھی سوالیہ نشان بنا دے گا۔

جواب دیں

Back to top button