پٹرول مہنگا ہو تو ہر چیز مہنگی، سستا ہو تو عوام کیوں محروم

غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان میں مہنگائی کا مسئلہ آج صرف معاشی بحث کا موضوع نہیں بلکہ ہر گھر کی روزمرہ زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ عام آدمی صبح گھر سے نکلتا ہے تو اسے ٹرانسپورٹ کے کرائے میں اضافہ نظر آتا ہے، بازار جاتا ہے تو سبزی، آٹا، چینی، دالیں، گھی، گوشت، دودھ اور دیگر ضروری اشیا پہلے سے زیادہ مہنگی ملتی ہیں۔ جب بجٹ بناتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ آمدنی وہی ہے لیکن اخراجات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس پوری صورتحال میں ایک حقیقت سب کے سامنے ہے کہ جب بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر چند گھنٹوں یا چند دنوں کے اندر پورے ملک کی منڈیوں پر نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ ہر دکاندار، ہر ٹرانسپورٹر اور ہر کاروباری طبقہ قیمتیں بڑھانے کا جواز ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قرار دیتا ہے۔ لیکن جب حکومت پٹرول یا ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کرتی ہے تو عوام حیران رہ جاتے ہیں کہ آخر وہ سستی بازاروں تک کیوں نہیں پہنچتی۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب آج تک نہ عوام کو ملا ہے اور نہ ہی متعلقہ ادارے اس مسئلے کا مستقل حل نکال سکے ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات کسی بھی معیشت میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ زراعت سے لے کر صنعت تک، ٹرانسپورٹ سے لے کر تجارت تک اور شہروں سے لے کر دیہات تک ہر شعبہ کسی نہ کسی شکل میں ایندھن پر انحصار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو سامان کی ترسیل مہنگی ہو جاتی ہے اور اس کا بوجھ صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ دلیل کسی حد تک قابل قبول بھی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جب یہی لاگت کم ہو جائے تو قیمتوں میں کمی کیوں نہیں آتی؟ اگر اضافہ فوری نافذ ہو سکتا ہے تو کمی بھی فوری نافذ ہونی چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔
بازاروں میں اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ پرانا اسٹاک مہنگے داموں خریدا گیا تھا، اس لیے قیمتیں کم نہیں کی جا سکتیں ۔ اگر یہ دلیل ایک یا دو ہفتے کے لیے مان بھی لی جائے تو مہینوں تک یہی جواز پیش کرنا کسی طور درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے شعبوں میں منافع کی شرح بڑھانے کے لیے قیمتیں برقرار رکھی جاتی ہیں اور اس کا نقصان صرف صارف کو ہوتا ہے۔ ایک طرف عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں، دوسری طرف چند عناصر غیر معمولی منافع کماتے رہتے ہیں۔
ٹرانسپورٹ کا شعبہ اس کی واضح مثال ہے۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو بین الاضلاعی بسوں، کوچز، ویگنوں، رکشوں اور ٹیکسیوں کے کرائے فوراً بڑھا دئیے جاتے ہیں۔ لیکن جب پٹرول سستا ہوتا ہے تو کرایوں میں کمی شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ یہی صورتحال اسکول وینوں اور نجی ٹرانسپورٹ میں بھی نظر آتی ہے۔ والدین ہر ماہ اضافی فیس اور کرائے ادا کرتے رہتے ہیں، مگر کسی کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ ایندھن سستا ہونے کے بعد عوام کو بھی ریلیف ملنا چاہیے۔
حکومت کی ذمہ داری صرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان کرنا نہیں بلکہ اس اعلان کے عملی نتائج کو یقینی بنانا بھی ہے۔ اگر قیمتوں میں کمی کی جاتی ہے تو متعلقہ اداروں کو فوری طور پر مارکیٹوں کا سروے کرنا چاہیے، ٹرانسپورٹ کرایوں کا ازسرنو تعین کرنا چاہیے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مناسب کمی کو یقینی بنانا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو عوام یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ حکومتی فیصلے صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔
پاکستان میں پرائس کنٹرول کا نظام موجود ضرور ہے لیکن اس کی موثر عملداری پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور متعلقہ ادارے اگر پوری ذمہ داری کے ساتھ کام کریں تو ناجائز منافع خوری میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ بدقسمتی سے اکثر کارروائیاں وقتی ثابت ہوتی ہیں۔ چند دن مہم چلتی ہے، جرمانے ہوتے ہیں اور پھر سب کچھ پہلے جیسا ہو جاتا ہے۔
مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے۔ دیہاڑی دار مزدور کی آمدنی محدود ہوتی ہے جبکہ اس کے اخراجات مسلسل بڑھتے رہتے ہیں۔ ایک سرکاری ملازم اپنی تنخواہ میں گھر کا بجٹ بمشکل چلاتا ہے۔ پنشنرز پہلے ہی محدود وسائل میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر پٹرول سستا ہونے کے باوجود بازار میں کوئی فرق نہ پڑے تو اس سے عوام کی مایوسی بڑھتی ہے۔ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ مہنگائی کا بوجھ تو ان پر ڈال دیا جاتا ہے لیکن ریلیف کبھی ان تک نہیں پہنچتا۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ واضح پالیسی بنائے کہ جب بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہو تو اسی تناسب سے ٹرانسپورٹ کرایوں اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ایسے نظام کو مستقل بنیادوں پر نافذ کیا جائے تاکہ عوام کو حقیقی فائدہ مل سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ صارفین کے لیے شکایات درج کرانے کا آسان نظام بھی بنایا جائے تاکہ عام شہری اپنی آواز متعلقہ اداروں تک پہنچا سکیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں اگر ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک نہ پہنچے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ کا نظام موثر نگرانی سے محروم ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جب خام تیل یا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آتی ہے تو چند ہی دنوں میں ٹرانسپورٹ کے کرائے، مال برداری کے اخراجات اور کئی اشیائے صرف کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں قیمتیں بڑھانے میں تو سب ایک دوسرے سے آگے نکل جاتے ہیں، لیکن کم کرنے کی باری آئے تو ہر شعبہ اپنی الگ مجبوری بیان کرتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی مسئلہ بھی بن چکی ہے۔ جب بنیادی ضروریات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہونے لگیں تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ والدین بچوں کی تعلیم پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، مریض علاج مخر کرتے ہیں، غذائیت کا معیار گر جاتا ہے اور گھریلو پریشانیاں بڑھنے لگتی ہیں۔ ایسے حالات میں اگر حکومت کسی شعبے میں ریلیف دیتی بھی ہے لیکن اس کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچتے تو حکومتی اقدامات اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔
تاجروں اور صنعتکاروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف منافع کو ہی ترجیح نہ دیں بلکہ قومی ذمہ داری کا بھی احساس کریں۔ کاروبار اسی وقت ترقی کرتا ہے جب خریدار کی قوت خرید برقرار رہے۔ اگر عوام مسلسل مہنگائی کے بوجھ تلے دبے رہیں گے تو خریداری کی صلاحیت کم ہوگی، جس کا نقصان بالآخر کاروباری طبقے کو بھی پہنچے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ دیانت داری کے ساتھ صارفین تک منتقل کیا جائے۔
میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ اگر ذرائع ابلاغ مسلسل یہ سوال اٹھاتے رہیں کہ پٹرول سستا ہونے کے باوجود اشیائے ضروریہ اور ٹرانسپورٹ کے کرائے کیوں کم نہیں ہوئی، تو متعلقہ اداروں پر دبا بڑھے گا اور عوامی مسائل زیادہ مثر انداز میں اجاگر ہوں گے۔ اسی طرح سول سوسائٹی، صارفین کی تنظیمیں اور عوامی نمائندے بھی اس معاملے پر آواز بلند کریں تاکہ مارکیٹ میں شفافیت پیدا ہو۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت ایک ایسا خودکار نظام متعارف کرائے جس کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے یا کمی کے ساتھ ہی مال برداری، ٹرانسپورٹ کرایوں اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا ازسرنو تعین لازمی قرار دیا جائے۔ اس نظام کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے بھاری جرمانے، لائسنس کی معطلی اور دیگر قانونی سزائیں مقرر کی جائیں تاکہ کوئی بھی شخص عوامی ریلیف کو اپنی ناجائز کمائی کا ذریعہ نہ بنا سکے۔
عام شہری بھی اس عمل کا اہم حصہ ہیں۔ اگر کوئی دکاندار یا ٹرانسپورٹر ناجائز منافع خوری کرے تو اس کی شکایت متعلقہ اداروں تک پہنچانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ جب تک عوام اپنے حقوق کے لیے آواز بلند نہیں کریں گے، تب تک اصلاحات کا عمل مکمل نہیں ہو سکے گا۔ حکومت، انتظامیہ، تاجر، صنعتکار اور صارفین، سب کو اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی تاکہ معیشت میں توازن اور انصاف قائم ہو سکے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ آج پاکستان کو صرف معاشی استحکام ہی نہیں بلکہ معاشی انصاف کی بھی ضرورت ہے۔ عوام اس وقت حکومتی اعلانات سے زیادہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر پٹرول مہنگا ہونے پر ہر چیز مہنگی ہو سکتی ہے تو پٹرول سستا ہونے پر ہر چیز سستی بھی ہونی چاہیے۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے، یہی اچھی حکمرانی کی پہچان ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس سے عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ اگر حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے، منڈیوں کی نگرانی مضبوط کرے، ناجائز منافع خوری کا خاتمہ کرے، قانون کی بلاامتیاز عملداری یقینی بنائے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا حقیقی فائدہ عام آدمی تک پہنچائے تو یقیناً وہ دن دور نہیں جب عوام مہنگائی کے مسلسل بوجھ سے کچھ نہ کچھ نجات محسوس کریں گے۔ یہی کروڑوں پاکستانیوں کی امید ہے اور یہی ایک ذمہ دار ریاست کی اصل کامیابی بھی ہوگی۔





