ColumnTajamul Hussain Hashmi

فرق صرف چہروں کا ہے

فرق صرف چہروں کا ہے
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
میکاولی کہتا ہے کہ سیاست میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، بلکہ سیاست ذاتی مفادات کی جنگ ہے۔ برطانوی وزیرِاعظم چرچل کا کہنا تھا کہ اگر سیاست دان بننا ہے تو اپنی کھال موٹی کرنی ہوگی، یعنی لوگوں کی تنقید، باتوں اور الزامات کو برداشت کرنا ہوگا، تب ہی سیاست میں آیا جا سکتا ہے۔
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے سرکاری ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’ آپ حکومت کے ملازم ہیں، کسی سیاسی جماعت کے نہیں۔ آپ کا فرض ہے کہ مکمل غیر جانبداری، دیانت داری اور وفاداری کے ساتھ ریاست اور عوام کی خدمت کریں‘‘۔
آپ کو خوب اندازہ ہو گا کہ اس وقت کون سا ادارہ بانی پاکستان کے اس فرمان پر حقیقی معنوں میں کاربند نظر آتا ہے؟ گزشتہ چند روز سے اسمبلی میں ایسے بل پاس ہوئے ہیں جن کا کبھی سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ ساری قانون سازی ، سختیاں ، غریب عوام کی زبان بندی کے لئے ہیں لیکن اربوں روپے کے فراڈ، ڈکیتوں پر سب خاموش ہیں بلکہ سب جماعتیں ایک پیج پر ہیں، چند روز میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جنہیں دیکھ کر قیامت قریب نظر آتی ہے۔ وزیرِ آئی ٹی کا کارنامہ دیکھیے، محترمہ نے بھی شاید چرچل کی بات کو دل سے قبول کر لیا ہے اور اپنی کھال موٹی کر لی ہے۔ حالیہ کی جانے والی قانون سازی انسانی آزادی کو سلب کر رہی ہے۔ آگے چلیں پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا چینل سے ایسی سنگین غلطی سرزد ہوئی کہ اس کے بارے میں مسلمان سوچ بھی نہیں سکتا اور یہ کیسے مسلمان ہیں جنہیں کوئی احساس ہی نہیں ہوا، سب انتظامیہ مدہوش بیٹھی رہی اور اب اس غلطی پر معافی نشر کی جا رہی ہے۔ کئی ہمدرد سامنے آ رہے ہیں ۔ ان کا موقف ہے کہ ادارے بند نہیں ہونے چاہئیں۔ جناب اعلیٰ سٹیل ملز بندی پڑی ہے، اس وقت تو سب لوٹ مار میں لگے ہوئے تھے۔ بہرحال میری رائے میں خدائی احتساب کا وقت شروع ہو چکا ہے، جنہوں نے اسلامی ریاست کے چہرے کو تبدیل کرنا چاہا، اللّہ کے قہر سے نہیں بچ سکیں گے۔ یقین رکھیں، ایسے خطا کاروں کو منہ کی کھانی پڑے گی، اور اسی دنیا میں ذلیل و خوار ہوں گے۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بھی عملوں کی معافی مانگنے کا مشورہ دے دیا ہے۔ اب شاید وقت گزار گیا ہے۔
قائداعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا تھا کہ سرکاری ملازم حکومت کے ملازم ہوتے ہیں، کسی سیاسی جماعت کے نہیں ۔ مگر افسوس کہ ہماری سیاسی جماعتوں نے شاید ہی کسی ادارے کو حقیقی معنوں میں غیر جانبدار رہنے دیا ہو۔ ابھی تک بندوں پر سیاسی ٹھپہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہر بار ہمیں یقین دلایا جاتا ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ہم آج تک منزل تک کیوں نہ پہنچ سکے؟۔ آخر کون ہیں جنہوں نے ترقی کا رشتہ روکا ہوا ہے ؟۔ اس وقت ساری جماعتیں حکومت کا حصہ ہیں، لیکن پھر بھی معاشی صورتحال بہتر نہیں۔ صرف چہروں کا فرق ہے، کارنامے سب کے ایک جیسے ہیں، کوئی گھڑی بیچ رہا ہے اور کوئی زمینوں پر قابض ہے، خاندان کے خاندان حکومتی سیٹوں کو انجوے کر رہے ہیں۔ عوام سیاسی جماعتوں کی کشمکش کو آخر کب تک سمجھنے سے قاصر رہیں گے؟۔
ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کی سیاست کو کھلی کتاب کی طرح پڑھیں، تو نتیجہ صاف ہے۔ 2018ء کے انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کے حق میں ووٹ کے تھیلے بھرے گئے اور وہ کامیاب قرار پائی۔ پھر 2024ء کے انتخابات میں فارم 47والوں کے تھیلے بھرے گئے وہ کامیاب ٹھہرے۔ یہ تھیلے عوام کے مقدر کے دشمن ہیں۔ آج دونوں بڑی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر مینڈیٹ چوری کے الزامات لگا رہی ہیں۔ بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کا مفاہمتی سیاسی معاہدہ آج تک مکمل طور پر عوام کے سامنے نہیں آیا۔ 2013ء سے لے کر آج تک وہ خاموشی، بردباری اور سیاسی حکمتِ عملی کے ساتھ اپنے مفادات کا تحفظ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ میدان میں بھی ہے اور لڑ بھی نہیں رہی ۔ فیصلہ ساز اداروں کو بھی بانی پاکستان نے غیر جانبداری، دیانت داری اور وفاداری کے ساتھ ریاست اور عوام کی خدمت کی تلقین کی تھی، مگر آج ان کے سامنے سب ننگا ہونے کے باوجود موثر کارروائی نظر نہیں آتی۔ گزشتہ مہینوں پہلے اٹھنے والی سب آوازیں خاموش ہو چکی ہیں اور اب پاکستان تحریک انصاف سے مفاہمتی سیکشن چل نکلے ہیں۔
یہ کیسی جمہوریت، کیسی خدمت ہے کہ آج بھی لوگ بجلی، گیس اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں؟ ملک کی ایسی حالت کر دی گئی ہے کہ کسی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ پاکستان کے بڑے میڈیا چینل پر وہ عمل کیسے ایئر ہوا۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ریاست کمزور دکھائی دے رہی ہے، جبکہ اسے طاقتور ہونا چاہے تھا۔ سیاسی اختلافات میں شدت کے بعد بھی اسمبلیوں میں خاندانی سیاست مضبوط ہوتی جا رہی ہے ۔ گزشتہ دنوں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما محمد عثمان نے سندھ اسمبلی میں کوٹہ سسٹم کی آڑ میں اسمبلی میں قائم اجارہ داری پر کھل کر بات کی۔ غالب گمان یہی ہے کہ ایسی ہی صورتِ حال دیگر تینوں اسمبلیوں میں بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوگی۔ فرق صرف چہروں کا ہے، اقتدار کے سب متمنی ہیں، طریقہ کار، مفادات اور سیاست کا انداز آج بھی وہی ہے، لیکن نعروں، ان کے بیانیوں میں فرق ہے، آسان واردات قومی خزانہ ہے، جس پر سب کی نظر ہے، جو آواز اٹھے اسے دبا دو، شریف فیملی والے قسمت کے بڑے دھنی ہیں، جب بھی حکومت میں رہے اپنی ہی بادشاہت میں رہے۔ ویسے شاید اب یہ حالات ویسے نہیں رہے گے، اس کو سمجھنا چاہئے۔ پھر شکوئوں کا وقت نہیں ہو گا، غریبوں کے لیے روزگار پیدا کریں، دعوئوں کے لئے اب وقت باقی نہیں رہا۔

جواب دیں

Back to top button