ColumnQadir Khan

بھارت میں ’’ بلڈوزر جسٹس‘‘ کا ہولناک چہرہ

بھارت میں ’’ بلڈوزر جسٹس‘‘ کا ہولناک چہرہ
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
وارانسی کی گلیوں میں ایک ہزار سال گزارنے والی مسجد کا نام ’’ گنجِ شہیداں ‘‘ ہے۔ اس کی دیواریں بتاتی ہیں کہ جب آج کے بھارت کا نقشہ بھی وجود میں نہیں آیا تھا، تب بھی یہاں اللہ کا نام لیا جاتا تھا۔ لیکن اب اسی مسجد کو انہدامی نوٹس مل چکا ہے۔ وہ لوگ جو صبح اس مسجد کے صحن میں نماز پڑھتے تھے، آج اپنے وکیلوں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔ کیونکہ مسئلہ اب صرف ایک عبادت گاہ کا نہیں رہا، مسئلہ اس بات کا ہے کہ وہ کہاں کھڑے ہوں، اپنی مٹی پر یا عدالت کے باہر؟
بھارت میں گزشتہ 45دنوں میں کم از کم 23مساجد، مدارس، درگاہیں اور عیدگاہیں مسمار کی جا چکی ہیں۔ یہ سلسلہ دہلی، اتر پردیش، مہاراشٹر، گجرات، راجستھان اور ہریانہ میں جاری ہے اور ان تمام ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومتیں قائم ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ کارروائیاں تجاوزات کے خاتمے اور سڑکوں کی توسیع کے لیے کی جا رہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی قانون کا عمل ہے تو پھر یہ قانون صرف ایک طرف کیوں چلتا ہے؟
6 مئی سے 18جون 2026ء کے درمیان درج ہونے والے واقعات کی فہرست بہت کچھ بتاتی ہے۔ دہلی میں منگل پوری درگاہ اور پتم پورہ میں مدرسہ گرایا گیا۔ فرید آباد میں مسجد چوک کی 50سالہ پرانی مسجد بلڈوزر کی نذر ہوئی۔ ممبئی کے باندرا علاقے میں دو مساجد مسمار کی گئیں۔ گجرات میں تین درگاہیں اور ایک قبرستان اجاڑا گیا۔ سنبھل میں مسجد مصطفی قادری اور عیدگاہ کو نشانہ بنایا گیا۔ راجستھان کے بارمیر میں چار مساجد اور اسی ضلع میں مزید 17کو نوٹس جاری ہوئے۔ یہ اعداد و شمار نہیں، یہ اس المیے کا نقشہ ہے جو روز بہ روز پھیلتا جا رہا ہے۔
راجستھان میں جیسلمیر کی 250سالہ قدیم درگاہ ’’ حضرت محمود شاہ جیلانی‘‘ کو گرانے کی بات ہوئی تو اویسی نے وزیرِ داخلہ امیت شاہ سے مداخلت کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں مسلم مذہبی مقامات کے دستاویزات پیش کیے جاتے ہیں وہاں انتظامیہ کی طرف سے ’’ اجازت نہ ہونے‘‘ کا نیا جواز سامنے آ جاتا ہے۔ یہ صرف قانون کا اطلاق نہیں بلکہ قانون کے نام پر ایک منتخب شکار کا سلسلہ ہے۔ اور یہ سلسلہ اس لیے بھی نہیں رکتا کہ جو طاقت اسے روک سکتی ہے، وہی اسے چلا رہی ہے۔
اتر پردیش کے اننو ضلع کے اسونیا گائوں کا منظر سوچیں۔ ایک مدرسہ جہاں بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ بجرنگ دل نے احتجاج کیا اور چند گھنٹوں کے اندر انتظامیہ نے مدرسے پر بلڈوزر چلا دیا۔ کوئی عدالتی حکم نہیں، کوئی نوٹس نہیں، کوئی سماعت نہیں۔ بس ایک اشارہ اور کام تمام۔ ان بچوں کی تعلیم کا کیا ہوا؟ ان کے والدین کیا سوچتے ہیں جب وہ اس خالی جگہ کو دیکھتے ہیں جہاں کبھی ان کے بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں؟ یہ سوال آج تک بے جواب ہیں۔
دی کوئنٹ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق جون 2024ء سے فروری 2026ء کے درمیان 20مسلم مذہبی مقامات کے خلاف کارروائیوں میں سے 11ایسی عرضیوں کی بنیاد پر شروع ہوئیں جو افراد یا تنظیموں نے ’’ غیر قانونی تعمیر‘‘ کا الزام لگا کر داخل کی تھیں۔ اور 2025ء میں پورے سال کے دوران 69اسلامی مذہبی مقامات کو یا تو مسمار کیا گیا یا غیر قانونی قرار دیا گیا۔ دہلی ہائی کورٹ نے بھی فروری 2026ء میں ایک سماعت کے دوران کہا کہ ایک این جی او مذہبی مقامات کے خلاف مسلسل شکایات دائر کر رہی ہے اور اس رجحان کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے۔
نومبر 2024ء میں بھارت کی سپریم کورٹ نے واضح طور پر ’’ بلڈوزر جسٹس‘‘ کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ریاست کسی شخص کو بغیر مقدمے کے مجرم قرار نہیں دے سکتی اور نہ ہی اس کی جائیداد ڈھا سکتی ہے۔ کسی بھی مسماری سے کم از کم 15دن پہلے باقاعدہ نوٹس دینا لازم قرار دیا گیا۔ لیکن سیٹیزنز فار جسٹس اینڈ پیس کی 2025ء کی رپورٹ بتاتی ہے کہ بلڈوزر نوٹس سے پہلے ہی پہنچتا رہا۔ عدالت کا فیصلہ کاغذ پر ہے اور بلڈوزر زمین پر۔
یہاں ایک اہم پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ ان مسماریوں میں امتیاز نہیں برتا جاتا اور یہ محض قانونی عمل ہے۔ کچھ معاملات میں عدالتی احکامات بھی موجود ہیں جیسے سنبھل کی مسجد مصطفی قادری کے معاملے میں تحصیلدار کی عدالت نے 21اپریل کو باقاعدہ حکمِ انخلا جاری کیا تھا اور مسجد کمیٹی کی اپیل ضلع مجسٹریٹ نے رد کر دی تھی۔ تاہم سوال وہی ہے جو اویسی نے اٹھایا۔ جب اسی علاقے میں دوسرے مذاہب کی غیر مجاز تعمیرات کو ہاتھ نہیں لگایا جاتا تو قانون صرف ایک سمت میں سفر کیوں کرتا ہے؟
مارچ 2026ء میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF)نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بھارت کو ’’ خصوصی تشویشناک ملک‘‘ قرار دینے کی سفارش کی۔ یہ وہی درجہ ہے جو چین اور ایران کو دیا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے 2025ء میں بھارتی حکومت کو متنبہ کیا کہ ’’ قومی سلامتی‘‘ کا جواز مسلمانوں کو بے گھر کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ امریکہ میں شکاگو کی تنظیم ’’ جسٹس فار آل‘‘ نے کہا کہ یہ کارروائیاں الگ تھلگ واقعات نہیں، یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے USCIRFکی رپورٹ کو ’’ متعصبانہ‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔
بات صرف مساجد اور مدارس کی نہیں ہے۔ جب کسی قوم کی عبادت گاہ گرائی جاتی ہے تو اس کے ساتھ بہت کچھ اور بھی گرتا ہے۔ وہ بچے جو مدرسے کی چار دیواری میں پڑھ رہے تھے، ان کا مستقبل اجڑتا ہے۔ وہ بزرگ جن کے پاں ڈھلتی عمر میں صرف قریبی مسجد تک پہنچ سکتے تھے، وہ کہاں جائیں؟ وہ درگاہ جو ایک غریب محلے کا واحد روحانی مرکز تھی، اس کے ملبے پر کون سا راستہ بنے گا اور اس راستے پر کون چلے گا؟ یہ سوالات سڑکوں پر نہیں بنتے، انسانوں کے دلوں میں بنتے ہیں۔
پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ بین الاقوامی ادارے رپورٹیں لکھ رہے ہیں۔ عدالتیں فیصلے سنا رہی ہیں۔ لیکن بلڈوزر نہیں رکا۔ سوال یہ ہے کہ جب قانون، عدالت اور عالمی رائے سب ایک طرف اور ریاست کا رویہ دوسری طرف ہو تو اقلیت کہاں جائے؟ جو ’’ سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کا نعرہ لگاتا ہے، اسی کے دور میں ہزار سال پرانی مسجد کو نوٹس ملتا ہے تو سوچنا پڑتا ہے کہ اس وکاس میں کون شامل ہے اور کون نہیں۔ تاریخ میں جو قومیں اپنی اقلیتوں کے ساتھ انصاف نہیں کرتیں، وہ خود بھی انصاف کی طلب گار بن جاتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button