وزیر اعظم ہائوس پر ٹیلی کام ٹاور

وزیر اعظم ہائوس پر ٹیلی کام ٹاور
عبدالحنان راجہ
وزیر اعظم محترم شہباز شریف، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی محترمہ شزہ فاطمہ، وفاقی سیکرٹری سمیت اراکین پارلیمنٹ کے محل نما گھروں میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ٹاورز لگیں گے؟، ماہانہ کرایہ وصول کریں گے اور آمدنی میں اضافہ۔ ہاں مگر انکار پر پانچ، پانچ کروڑ کے جرمانے اور اس کے خلاف کوئی اپیل نہ شنوائی۔ وزارت نے غریب آدمی کو امیر بننے کا موقع فراہم کیا تھا مگر ہم جیسے ان کی راہ میں رکاوٹ اور احتجاج کرنے بیٹھ گئے۔ بھلا ٹیلی کام کمپنی کو پسند آ جانے والی جگہ پر اگر ٹاور لگ جاتے تو کیا قیامت آ جانا تھی کم از کم ان کے سگنلز کا معاملہ تو حل ہوتا کہ جو اب عوام کے لیے درد سر کہ 5جی تو باتیں ہیں موبائل کمپنیوں کے 3جی بھی عملا کم ہی کام کرتے ہیں۔
ویسے وزارت انفارمیشن کی عالی دماغ وزیر محترمہ نے کیا سوچ کر بل پیش کیا ہو گا اور لیگل ٹیم، سیکرٹریز و بیوروکریسی نے رہی سہی کسر نکال کر عام شہری کے کس بل نکالنے کا کیا خوب انتظام کیا۔ پھر ’’ باشعور معزز اور لائق فائق اراکین پارلیمنٹ‘‘ نے پڑھے سنے بغیر کیسے اسے منظور کیا ؟ حتی کہ ہماری ’’ ہونہار کابینہ ‘‘ نے بھی۔ جی یہ سب مراحل طے ہو گئے۔ ممکن ہے وزارت نے یہ بل طاقتور اور اشرافیہ کے گھروں پہ لگنے والے ٹاورز طاقتور سگنلز فراہمی کے لیے بنایا ہو کہ طاقتوروں کے ساتھ مل کر تو کمزور بھی شیر ہو جاتے ہیں۔ اور ہم جیسے نالائق کالم نگاروں نے اس کو مشکوک بنا دیا اور احتجاج کا جواز تلاش اور اس کے متاثرین عام شہری بنا دئیے ہوں۔ مگر اس عمل میں شریک تمام کو 21توپوں کی سلامی قانون کے مطابق پیش کی جانی چاہیے۔ ھم جنہیں قانون ساز، باشعور سمجھتے ہیں وہ بغیر پڑھے، سنے بغیر کیا کیا گل کھلاتے ہیں۔ یہ تو بھلا ہو رئوف کلاسرا کا کہ جنہوں نے قانون سازوں کی ذہانت و فطانت کا راز فاش کیا اور سینیٹر افنان اللہ و سینیٹر پلوشہ کا، کہ جنہوں نے پاکستان کے شہہ دماغوں کا پیش کردہ و منظور کردہ بل پڑھ لیا اور اس پہ عمل رکوا دیا ۔ حد ہے لیگل کمیٹی پر ،کہ جنہوں نے اس کی نوک پلک درست کی۔ ویسے تجویز ہے کہ شہریوں کی املاک کے ساتھ ساتھ اس میں عبادت گاہیں، آثار قدیمہ اور تفریح گاہوں و عوامی مقامات کو بھی شامل کر دیا جائے تو بادشاہی مسجد، مینار پاکستان، مزار قائد، فیصل مسجد وغیرہ پر لگے ٹاورز محترمہ اور اس بل کے تمام کرداروں کے تسکین قلب کا سامان بنیں۔ اور مساجد میں سگنلز کم آنے کا ایشو بھی ختم۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو چاہیے کہ اس میں مزید ترمیم کر کے اپنی اور اپنی سرکار کی نیک نامی میں مزید اضافہ کریں۔
حکومت نے کالم نگاروں کی تنقید کے بعد کمیٹی کی تشکیل اس طرح کی، کہ میر کے شعر کی کالم میں جگہ بن گئی۔
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں ( اس میں میر کو عوام سمجھا جائے)۔
کمال نہیں کہ کیسے کیسے نایاب ہیرے کابینہ میں اور کیسے چاپلوس نگینے بیوروکریسی میں۔ یہ ملک اگر پھر بھی ترقی نہیں کرتا تو قصور عوام کا اور ترقی کا۔
سپورٹ پروگرام کو تبدیل کرنے کی تجویز کہ 838ارب روپے بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ کو اگر منافع بخش اداروں یا انڈسٹری میں لگا کر انہی خاندانوں کے بچوں اور خواتین کو فنی تربیت دیکر روزگار فراہم کیا جائے تو سرکار سے ملنے والی ماہانہ بھیک سے مجروح ہوتی عزت نفس بحال ہو سکتی ہے اور یہ خاندان مستقلا خود کفالت کی طرف بھی جا سکتے۔ امداد سے غربت ختم نہیں ہوتی بلکہ روزگار قومی ترقی و غربت کے خاتمہ کا ذریعہ۔ نوجوان سکالر و منہاج یونیورسٹی کے وائس چیئرمین ڈاکٹر حسین محی الدین کا کہنا بجا کہ ملک میں اکٹھی ہونے والی زکوٰۃ اور BISFکی رقم سے پانچ سالوں میں امداد لینی والوں کو دینے والوں کی صف میں لایا جا سکتا ہے۔ حکومتی ذمہ داروں سمیت نچلی سطح تک کی بیوروکریسی جانتی ہے کہ اس پروگرام کے تحت امداد کا خاصا بڑا حصہ غلط استعمال ہوتا ہے اور مستحق لوگوں کے نام پر اسے سیاسی مقاصد کے لیے بروئے کار لایا جاتا ہے۔ مگر اس کے باوجود اسے جاری رکھنا اور مستقلا اس کا مداوا نہ کرنا ہماری حکومتوں کی ذہنیت اور ترجیحات کو ظاہر کرتی ہے۔ لاکھوں مستحق افراد کو کارآمد بنانے کے لیے سپورٹ فنڈ کے درست اور بامقصد استعمال اور اخلاص نیت کی ضرورت نہ کہ مزید بجٹ کی۔
ڈی پی او ضلع قصور نے یقینا وزیر اعلیٰ کے احکامات اور میرٹ پر عمل کر کے نیک نامی کمائی۔ اقدام قتل کے مقدمہ میں شہری کی شکایت پر نامزد ملزمان کو پہلے گناہ گار اور بعد ازاں پنجاب کے طاقتور ممبر پنجاب اسمبلی مبینہ طور پر ذمہ دار عہدہ کے حامل سیاست دان نے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو ڈیرہ پر بلا کر ملزمان کو بے گناہ قرار دینے کو کہا۔ مگر ڈی پی او نے دباو قبول کرنے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ تفتیشی کو کلوز لائن، SHOکو معطل اور DSPکے خلاف کارروائی کے لیے رپورٹ اعلی حکام کو ارسال کر دی۔ Well done DPO۔
مر جائیں گے فوج میں نہیں جائیں گے: اسرائیل کی ایران کے ہاتھوں درگت اور طویل جنگوں کی وجہ سے نوجوان فوج میں جانے سے انکاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی حکومت نے جبری بھرتیوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، مگر وہاں یہ نعرہ مقبول ہونے لگا ہے کہ مر جائیں گے فوج میں نہیں جائیں گے۔ یاد رہے کہ اسرائیل کے ہر شہری پر بنیادی فوجی تربیت لازمی ہے۔
اہم خبر یہ بھی ہے کہ سوئٹزر لینڈ میں ایران کے مذاکراتی وفد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے خصوصی انتظام کیا کہ ایرانی وفد پر موساد کی جانب سے حملے کا خطرہ تھا جس کے لیے پاکستانی وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نہ ایرانی وفد کے ہمراہ کمپائونڈ میں ٹھہرے بلکہ اس کی سیکورٹی کے بھی خصوصی انتظامات کئے۔







