آبنائے ہرمز بحالی: مشرقِ وسطیٰ میں امن، معیشت اور سفارتکاری کا نیا باب

آبنائے ہرمز بحالی: مشرقِ وسطیٰ میں امن، معیشت اور سفارتکاری کا نیا باب
غلام مصطفیٰ جمالی
دنیا کی سیاست میں بعض مقامات ایسے ہوتے ہیں جو جغرافیائی اعتبار سے تو محدود دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی اہمیت پوری دنیا کی معیشت، سلامتی اور بین الاقوامی تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز بھی انہی چند مقامات میں شامل ہے۔ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کو ملانے والی یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اس علاقے میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکہ سمیت پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔
حالیہ دنوں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی نی عالمی سطح پر ایک نئی امید پیدا کر دی ہے۔ نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کی جانب سے اس پیش رفت کو عظیم قرار دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں اس معاہدے کو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے مثبت تبدیلی سمجھ رہی ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے تو یہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ مسلسل سیاسی اور عسکری کشیدگی کا مرکز بنا رہا ہے۔ عراق جنگ، شام کا بحران، یمن کی خانہ جنگی، لبنان میں کشیدگی، اسرائیل اور فلسطین کا تنازع اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات نے پورے خطے کو غیر مستحکم رکھا۔ ان تمام تنازعات کے دوران آبنائے ہرمز بارہا عالمی توجہ کا مرکز بنی کیونکہ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان اختلافات اکثر اس اہم آبی راستے کو متاثر کرنے کے خدشات کو جنم دیتے رہے۔
جب بھی آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی تھی تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں فوری طور پر اوپر چلی جاتی تھیں۔ سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جاتے تھے اور دنیا بھر کی حکومتیں توانائی کے بحران سے بچنے کے لیی متبادل راستوں اور وسائل کی تلاش شروع کر دیتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس آبی گزرگاہ کی بحالی کو صرف ایک علاقائی معاملہ نہیں بلکہ عالمی اقتصادی استحکام سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت کئی حوالوں سے اہم ہے۔ دونوں ممالک گزشتہ کئی دہائیوں سے شدید اختلافات کا شکار رہے ہیں۔ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد سے تعلقات میں اتار چڑھائو آتا رہا، پابندیاں لگتی رہیں، مذاکرات ہوتے رہے اور بعض اوقات حالات تصادم کے قریب بھی پہنچ گئے۔ لیکن موجودہ معاہدہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ طویل تنازعات کا حل بالآخر مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے۔
اس معاہدے کے بعد سب سے زیادہ خوشی ان ممالک کو ہوئی ہے جن کی معیشت تیل اور تجارتی جہازرانی سے وابستہ ہے۔ چین، جاپان، جنوبی کوریا، بھارت اور یورپی ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ریاستوں سے حاصل کرتے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز محفوظ اور کھلی رہتی ہے تو ان ممالک کو توانائی کی فراہمی میں تسلسل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ اسی طرح تیل کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہوگا جس سے عالمی افراطِ زر کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
خلیجی ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، بحرین اور عراق کی برآمدات کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اگر تجارتی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہتی ہیں تو ان ممالک کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی وسیع ہوں گے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران خلیجی ریاستوں نے اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبے شروع کیے ہیں۔ ان منصوبوں کی کامیابی کے لیے علاقائی استحکام بنیادی شرط ہے۔
دنیا کی بڑی معیشتیں اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ توانائی کی فراہمی میں معمولی رکاوٹ بھی عالمی اقتصادی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔ کورونا وبا کے بعد دنیا ابھی مکمل طور پر معاشی استحکام کی طرف واپس نہیں لوٹی تھی کہ مختلف جغرافیائی سیاسی تنازعات نے نئی مشکلات پیدا کر دیں۔ ایسے میں آبنائے ہرمز کی بحالی سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور تجارتی اداروں کے لیے اطمینان کا باعث بن سکتی ہے۔ جب کاروباری حلقوں کو یہ یقین حاصل ہو کہ توانائی کی ترسیل محفوظ اور مسلسل رہے گی تو سرمایہ کاری کا عمل تیز ہوتا ہے اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز صرف تیل کی ترسیل کے لیے ہی اہم نہیں بلکہ قدرتی گیس کی عالمی تجارت میں بھی اس کا کلیدی کردار ہے۔ قطر دنیا کے بڑے ایل این جی برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے اور اس کی بیشتر برآمدات اسی راستے سے دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتی ہیں۔ اگر اس گزرگاہ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہی تو گیس کی عالمی منڈی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس راستے کی سلامتی کو اپنی اقتصادی سلامتی سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔
نیٹو کی جانب سے اس پیش رفت کی حمایت دراصل اس بات کا اظہار ہے کہ عالمی برادری اب تنازعات کے بجائے استحکام اور تعاون کو ترجیح دینا چاہتی ہے۔ گزشتہ برسوں میں دنیا نے جنگوں اور کشیدگی کے نتیجے میں جو نقصانات اٹھائے ہیں، ان کے بعد یہ احساس مزید مضبوط ہوا ہے کہ اقتصادی ترقی اور سیاسی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر خطے میں امن ہوگا تو سرمایہ کاری بڑھے گی، روزگار پیدا ہوگا اور عوامی زندگی بہتر ہوگی۔
ایران کے لیے بھی یہ معاہدہ کئی حوالوں سے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ طویل عرصے سے اقتصادی پابندیوں اور سفارتی دبا کا سامنا کرنے والے ایران کو عالمی معیشت کے ساتھ بہتر انداز میں جڑنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اگر حالات سازگار رہتے ہیں تو غیر ملکی سرمایہ کاری، تجارتی تعاون اور علاقائی روابط میں اضافہ ممکن ہے۔ یہی صورتحال امریکہ کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے کیونکہ خطے میں استحکام اس کے اسٹریٹجک اور اقتصادی مفادات کے مطابق ہے۔
پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ پیش رفت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جو توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی یا استحکام براہ راست پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ درآمدی بل کم ہونے سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو کم ہوتا ہے، مہنگائی میں کمی آتی ہے اور حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ وسائل دستیاب ہوتے ہیں۔
اسی طرح خطے میں امن کی فضا پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے بھی سازگار ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے مذاکرات، سفارت کاری اور پرامن حل کا حامی رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت اس اصول کی کامیابی کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے کہ پیچیدہ ترین تنازعات بھی بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ پیغام دنیا کے دیگر تنازعات کے لیے بھی امید کی کرن بن سکتا ہے۔
اگرچہ موجودہ صورتحال حوصلہ افزا ہے لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ خطے میں اب بھی کئی چیلنجز موجود ہیں۔ اعتماد سازی کا عمل وقت طلب ہوتا ہے اور اس کے لیے مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ کسی بھی معاہدے کی کامیابی صرف اس کے اعلان پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ اس کے عملی نفاذ پر بھی ہوتی ہے۔ تمام فریقوں کو اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ طے شدہ نکات پر عملدرآمد جاری رہے اور کسی بھی نئی کشیدگی کو بروقت سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔
عالمی سیاست میں ایسے مواقع کم ہی آتے ہیں جب مختلف مفادات رکھنے والے ممالک کسی مشترکہ مقصد پر متفق ہوں۔ آبنائے ہرمز کی بحالی انہی مواقع میں سے ایک ہے جہاں دنیا کے بیشتر ممالک کا مفاد امن، استحکام اور آزادانہ تجارت میں پوشیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پیش رفت کو عالمی سطح پر مثبت ردعمل ملا ہے اور اسے مستقبل کے لیے ایک امید افزا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
دنیا اس وقت ماحولیاتی تبدیلی، خوراک کے بحران، توانائی کے مسائل اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال جیسے بڑے چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ اگر امریکہ اور ایران جیسے دیرینہ حریف ممالک مذاکرات کے ذریعے مشترکہ راستہ نکال سکتے ہیں تو یہ دیگر عالمی تنازعات کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سفارت کاری کی قوت اب بھی زندہ ہے اور سیاسی اختلافات کے باوجود تعاون کی راہیں تلاش کی جا سکتی ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بحالی کا اصل فائدہ صرف حکومتوں یا بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات عام لوگوں تک بھی پہنچیں گے۔ توانائی کی قیمتوں میں استحکام، تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ اور اقتصادی ترقی کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ جب معیشت مضبوط ہوگی تو عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے لیے بھی وسائل میں اضافہ ہوگا۔
مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں مسائل کو مزید پیچیدہ بناتی ہیں جبکہ مذاکرات اور تعاون ترقی کی راہیں کھولتے ہیں۔ اگر موجودہ معاہدہ کامیابی سے آگے بڑھتا ہے تو یہ نہ صرف آبنائے ہرمز بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ دور اقتصادی شراکت داری، سیاسی استحکام اور باہمی احترام پر مبنی ہو سکتا ہے جس کی ضرورت آج پوری دنیا کو ہے۔
آج جب دنیا کے مختلف حصوں میں تنازعات اور کشیدگی کی خبریں عام ہیں، آبنائے ہرمز کی بحالی کی خبر امید اور مثبت سوچ کا پیغام لے کر آئی ہے۔ نیٹو کی حمایت، عالمی طاقتوں کی دلچسپی اور خطے کے ممالک کی آمادگی اس بات کا اشارہ ہے کہ امن کی طرف بڑھنے والا یہ سفر محض ایک سفارتی اعلان نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت بن سکتا ہے۔ اگر تمام فریق سنجیدگی، دانشمندی اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے رہے تو آنے والے برسوں میں آبنائے ہرمز صرف ایک اہم آبی گزرگاہ ہی نہیں بلکہ عالمی تعاون، امن اور مشترکہ خوشحالی کی علامت بھی بن سکتی ہے۔





