سندھ اور بلوچستان کے بجٹ پیش

اداریہ۔۔
سندھ اور بلوچستان کے بجٹ پیش
مالی سال 2026۔27کے صوبائی بجٹ نہ صرف کسی بھی صوبے کی مالی ترجیحات کا آئینہ ہوتے ہیں بلکہ یہ اس بات کا بھی تعین کرتے ہیں کہ حکومتیں اپنے محدود وسائل کو عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی استحکام کے لیے کس انداز میں استعمال کر رہی ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں مہنگائی، بیروزگاری اور مالی دبائو ایک مستقل چیلنج بن چکے ہیں، وہاں صوبائی بجٹ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس پس منظر میں سندھ اور بلوچستان کے نئے مالی سال کے بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو دونوں صوبوں نے اپنی اپنی مالی و انتظامی ترجیحات کے مطابق ایک متوازن حکمتِ عملی اختیار کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم سندھ کا بجٹ اپنے حجم، دائرہ کار، اصلاحاتی نوعیت اور عوامی ریلیف کے پہلو سے زیادہ جامع اور نمایاں نظر آتا ہے۔ سندھ حکومت کا 3562ارب روپے کا بجٹ بظاہر ایک بڑا مالی خاکہ ہی، لیکن اس کی اصل اہمیت اس میں موجود پالیسی سمت اور ترجیحات میں پوشیدہ ہے۔ موجودہ مہنگائی کے دور میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7فیصد اضافہ ایک مثبت اور قابلِ ذکر اقدام ہے، جو محدود وسائل کے باوجود ملازمین کے مالی دبا کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ اسی طرح کم از کم اُجرت کو 40ہزار روپے سے بڑھا کر 43 ہزار روپے مقرر کرنا محنت کش طبقے کے لیے ایک واضح ریلیف ہے، جو اس بات کا اظہار ہے کہ حکومت نچلے طبقے کی مشکلات سے آگاہ ہے۔ اگرچہ سندھ حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں نئی اسکیموں کے بجائے جاری منصوبوں پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اس کے باوجود تعلیم، صحت اور سماجی شعبوں پر خاطرخواہ توجہ دی گئی ہے۔ تعلیم کے لیے 25.9ارب روپے اور صحت کے بڑے اداروں کی توسیع اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت انسانی ترقی کو اپنی پالیسی کا بنیادی ستون سمجھتی ہے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ ترقیاتی اخراجات کے ساتھ غیر ترقیاتی اخراجات میں بھی ایک متوازن حکمت عملی اپنائی گئی ہے تاکہ مالی نظم و ضبط برقرار رکھا جاسکے۔ سندھ بجٹ کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا توانائی بحران کے حل اور ماحول دوست پالیسیوں کی طرف بڑھنا ہے۔ 2لاکھ 75ہزار مفت سولر ہوم سسٹمز کی فراہمی نہ صرف توانائی کی قلت کے مسئلے کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے بلکہ یہ غریب گھرانوں کے لیے ایک براہِ راست معاشی ریلیف بھی فراہم کرتی ہے۔ موجودہ دور میں جب بجلی کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جارہی ہیں، ایسے اقدامات عوامی سطح پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، سندھ حکومت کی جانب سے ویسٹ ٹو ویلیو منصوبہ، گرین ڈیٹا انفرا سٹرکچر اور ڈیجیٹل سندھ وژن جیسے اقدامات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ صوبہ روایتی معیشت سے نکل کر جدید ڈیجیٹل اور ماحول دوست معیشت کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کراچی کو عالمی مالیاتی مرکز بنانے اور کیٹی بندر کو بحری و صنعتی گیٹ وے میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی سندھ کی اقتصادی سمت کو ایک نئے دور میں داخل کرنے کی خواہش کا اظہار ہے۔ اگر یہ منصوبے موثر انداز میں نافذ ہوجائیں تو سندھ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کی ایک اہم اقتصادی طاقت بن سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں بلوچستان کا 1089ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک محتاط، محدود مگر ضروری مالی منصوبہ ہے۔ بلوچستان جیسے وسیع مگر کم ترقی یافتہ صوبے میں مالی وسائل کی کمی ہمیشہ ایک بڑا مسئلہ رہی ہے، اسی لیے یہاں بجٹ کا بڑا حصہ وفاقی گرانٹس اور مالی معاونت پر انحصار کرتا ہے۔ اس صورت حال میں بلوچستان حکومت کا ٹیکس فری بجٹ پیش کرنا کاروباری طبقے کے لیے ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، تاہم اس کا مجموعی حجم اور دائرہ کار سندھ و پنجاب کے مقابلے میں نسبتاً محدود دکھائی دیتا ہے۔ بلوچستان حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7فیصد اضافہ ایک مثبت قدم ہے، جو مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسی طرح تعلیم، صحت اور صاف پانی جیسے بنیادی شعبوں پر توجہ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت بنیادی انسانی ضروریات کو ترجیح دے رہی ہے۔ 5ہزار نئی ملازمتوں کا اعلان نوجوانوں کے لیے ایک حوصلہ افزا اقدام ہے، جو صوبے میں بیروزگاری کے دبائو کو کم کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ مزید یہ کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ پر سیلز ٹیکس معاف کرنا، الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ دینا اور تعلیمی خدمات پر ٹیکس ختم کرنا ایسے اقدامات ہیں جو صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوشش قرار دئیے جاسکتے ہیں۔ تاہم مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بلوچستان کا بجٹ زیادہ تر بنیادی ڈھانچے، محدود ترقیاتی منصوبوں اور وفاقی تعاون پر انحصار کرتا ہے، جس کے باعث اس کا اثر سندھ کے بجٹ کی نسبت کم وسیع دکھائی دیتا ہے۔ اگر دونوں صوبوں کے بجٹس کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ سندھ کا بجٹ زیادہ جامع، کثیر الجہتی اور مستقبل کی معیشت کی طرف بڑھتا ہوا ایک فعال منصوبہ ہے۔ سندھ نے جہاں سماجی تحفظ، توانائی اصلاحات، ڈیجیٹل معیشت اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں پر زور دیا ہے، وہیں بلوچستان نے بنیادی ضروریات، ادارہ جاتی استحکام اور روزگار کے محدود مگر اہم مواقع پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں صوبوں کی معاشی صورت حال، وسائل اور چیلنج مختلف ہیں، اس لیے ان کے بجٹس کا براہ راست موازنہ مکمل انصاف نہیں ہوگا۔ سندھ ایک نسبتاً زیادہ معاشی سرگرمیوں والا صوبہ ہے جبکہ بلوچستان کو جغرافیائی وسعت، وسائل کی کمی اور کمزور انفرا سٹرکچر جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس لیے دونوں کے مالی فیصلے ان کے اپنے حالات کے مطابق تشکیل دئیے گئے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ دونوں بجٹ اپنی اپنی جگہ متوازن اور موجودہ حالات کے مطابق ترتیب دئیے گئے ہیں، تاہم اصل کامیابی ان کے نفاذ میں پوشیدہ ہے۔ اگر اعلان کردہ منصوبے شفافیت، تسلسل اور موثر عملدرآمد کے ساتھ مکمل کیے جائیں تو یہ بجٹ عوام کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
شذرہ۔۔
کرنٹ اکائونٹ خسارہ سرپلس
پاکستان کی معیشت ایک طویل عرصے سے بیرونی ادائیگیوں کے دبائو، تجارتی خسارے اور مالی عدم توازن جیسے چیلنجز کا شکار رہی ہے۔ ایسے ماحول میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مئی 2026ء کے کرنٹ اکائونٹ کے اعداد و شمار میں بہتری اور سرپلس میں داخل ہونا ایک حوصلہ افزا اور مثبت پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026ء میں ملک کا کرنٹ اکائونٹ 45کروڑ 90لاکھ ڈالر سرپلس رہا جبکہ اس سے قبل اپریل 2026ء میں یہی اکائونٹ 27کروڑ 60لاکھ ڈالر خسارے میں تھا۔ یہ تبدیلی نہ صرف مالی سمت میں بہتری کی نشان دہی کرتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ ملکی معیشت بتدریج استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ میں مجموعی طور پر 25کروڑ 50لاکھ ڈالر سرپلس کا حصول ایک اہم سنگ میل ہے جو معاشی پالیسیوں کے مثبت اثرات کو واضح کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بہتری کی سب سے بڑی وجہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ہے۔ یہ حقیقت پاکستان کے لیے ہمیشہ ایک مضبوط سہارا رہی ہے اور مشکل معاشی حالات میں یہ آمدن ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ترسیلاتِ زر میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی محنت کش دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی محنت کے ذریعے نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں بلکہ ملکی معیشت کو بھی سہارا دے رہے ہیں۔ کرنٹ اکائونٹ کا سرپلس میں آنا اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس سے بیرونی ادائیگیوں کا دبا کم ہوتا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثر پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں روپے کی قدر میں استحکام، درآمدی بل میں توازن اور مالی اعتماد میں بہتری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو پاکستان کی معیشت کو بیرونی مالی امداد پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کرنٹ اکائونٹ کی بہتری کو مستقل استحکام میں تبدیل کرنے کے لیے برآمدات میں اضافہ، پیداواری صلاحیت میں بہتری اور صنعتی ترقی ناگزیر ہے۔ صرف ترسیلاتِ زر پر انحصار طویل المدتی معاشی حکمتِ عملی نہیں ہو سکتی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ برآمدی شعبے کو مزید مضبوط بنائے، نئی منڈیاں تلاش کرے اور مقامی صنعت کو مسابقتی بنیادوں پر ترقی دے۔ موجودہ صورتحال میں کرنٹ اکائونٹ سرپلس ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، لیکن اسے ایک مستقل معاشی رجحان بنانے کے لیے پائیدار اصلاحات کی ضرورت ہے۔ مالی نظم و ضبط، سرمایہ کاری میں اضافہ اور کاروباری ماحول کی بہتری وہ عوامل ہیں جو اس سرپلس کو طویل المدتی استحکام میں بدل سکتے ہیں۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کرنٹ اکائونٹ کا سرپلس میں آنا پاکستان کی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ درست سمت میں اٹھائے گئے اقدامات کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو پاکستان نہ صرف مالی دبا سے نکل سکتا ہے بلکہ معاشی خود کفالت کی طرف بھی ایک مضبوط قدم بڑھا سکتا ہے۔





