معاشی بحران میں بقاء کی جنگ

معاشی بحران میں بقاء کی جنگ
شاہد ندیم احمد
پاکستان کا معاشی مستقبل پالیسیوں میں استحکام، برآمدات میں اضافے، زراعت کی جدید کاری اور بیرونی سرمایہ کاری پر منحصر ہے ،حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ معیشت میں استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے،اس کے باوجودانسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE)کی تازہ رپورٹ نے ملک کے معاشی مستقبل پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے،اس رپورٹ کے مطابق، ملک میں قومی بچت کی شرح گزشتہ 30برس کی کم ترین سطح یعنی صرف 6.4فیصد تک گر چکی ہے، یہ ہولناک گراوٹ صرف ایک خشک معاشی اشاریہ یا ریاضی کا کوئی ہندسہ نہیں ہے، بلکہ اس تلخ حقیقت کا ثبوت ہے کہ ہماری معیشت کا اندرونی توازن مکمل طور پر بگڑ چکا ہے اور پاکستانی معاشرہ اب مستقبل کی منصوبہ بندی سے محروم ہو کر صرف آج زندہ رہنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔
اگر دیکھا جائے تو معاشی اصولوں کے مطابق کم بچت براہِ راست سرمایہ کاری کے بحران کو جنم دیتی ہے، جب کسی ملک کے عوام اور ادارے بچت نہیں کرتے تو بینکوں اور مالیاتی اداروں کے پاس سرمایہ کاری کے لیے فنڈز دستیاب نہیں ہوتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مقامی صنعتیں پھیل نہیں پاتیں، نئے کارخانے نہیں لگتے اور روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوتے ہیں،اس طرح جب اندرونی طور پر سرمایہ کاری کا پہیہ جام ہو جائے تو ریاست کے پاس اپنے اخراجات چلانے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے: بیرونی قرضے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF)کے سخت پروگرام اور اس میں ہم بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔
پاکستان کا بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانا اور کشکول پھیلانا، گرتی ہوئی بچت کا ہی منطقی نتیجہ ہے، اس نے ملک کو بیرونی قرضوں کے ایک ایسے چکر ویوہ میں پھنسا دیا ہے کہ جس سے نکلنے کی کوئی راہ سوجھ ہی نہیں رہی ہے، تاہم اس پورے معاشی گورکھ دھندے کا سب سے اہم، دردناک اور زمینی پہلو عام آدمی کی زندگی سے جڑا ہوا ہے ، معیشت دان شاید اسے میکرو اکنامک ڈیٹا کے آئینے میں دیکھ رہے ہوں گے ، لیکن سڑک پر چلتے عام شہری کے لیے یہ بقا کی جنگ ہے، ایک اوسط آمدنی والے شخص کی تنخواہ کا جب بڑا حصہ مکان کے کرائے، بجلی اور گیس کے آسمان چھوتے بلوں، بچوں کے اسکول کی فیسوں، آٹے، دال، گھی جیسے بنیادی خوراک کے سامان اور ناگہانی بیماری کی صورت میں علاج معالجے کے اخراجات میں ہی صرف ہو جائے تو اس کے لیے بچت کا سوچنا بھی ایک عیاشی بن جاتا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کی سب سے بڑی وجہ مہنگائی کی بلند سطح ہے، اس نے عوام کی حقیقی قوتِ خرید کو دبا کر رکھ دیا ہے گزشتہ چند برسوں میں اشیائے خورونوش اور یوٹیلیٹی بلز کی قیمتوں میں جس رفتار سے ہوش ربا اضافہ ہوا ہے، اس رفتار سے عام ملازم یا مزدور کی اجرتوں میں اضافہ نہیں ہوا ہے ، آمدنی جب جمود کا شکار ہو اور اخراجات سوسائٹی کے تیز رفتار ٹرین کی طرح دوڑ رہے ہوں تو بچت کے امکانات خود بخود ختم ہو جاتے ہیں، پاکستانی شہری روزمرہ کے اخراجات اور مالی دبا کے درمیان ایک مستقل توازن کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہ جنگ اعصاب شکن ہے، جو کہ نہ صرف انسان کی جسمانی صحت کو دبائو میں رکھتی ہے، اس مہنگائی پر قابو پائے بغیر اور حقیقی اجرتوں میں منصفانہ اضافے کے بغیر ملک میں ’’ بچت کا کلچر‘‘ کبھی فروغ نہیں پا سکے گا حکومت عوام کو سادگی اور بچت کا درس تو دیتی ہیں، لیکن اس پر خود عمل کرتی ہے نہ ہی اپنے اخراجات میں کمی لا کر بچت کرتی ہے۔
حکومت کو اپنے اخراجات میں کمی لانے اور بچت کو فروغ دینے کے ساتھ عام آدمی کی آمدن میں حقیقی اضافے اور روزگار کے پائیدار مواقع پیدا کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے ،اگراس بچت کے گرتے ہوئے رجحان کو اب بھی سنجیدگی سے نہ لیا گیا، تو یاد رکھیے کہ اس کے اثرات صرف معاشی اشاریوں یا ٹی وی ٹاک شوز کی بحث تک محدود نہیں رہیں گے، اس کے بھیانک سماجی اثرات مرتب ہوں گے، اس ملک میںبچت نہ ہونے کا مطلب ہے کہ عام آدمی کی مالی سلامتی خطرے میں ہے، سماجی استحکام دائو پر لگا ہے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی منصوبہ بندی مفقود ہو چکی ہے، ایک ایسا معاشرہ جہاں باپ اپنے بچے کی اعلیٰ تعلیم کے لیے یا بیٹی کی شادی کے لیے دو پیسے بچانے کی پوزیشن میں نہ ہو، وہاں مایوسی، جرم اور سماجی بے چینی کا پھیلنا فطری امر بن جاتا ہے اور ایسا ہی کچھ معاشرے میں دکھائی دے رہا ہے۔
یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست اپنی ترجیحات کو درست کرے، ہمیں صرف آئی ایم ایف کی قسطوں پر خوش ہونے کے بجائے ملکی معیشت کے اس ڈھانچہ جاتی نقص کو دور کرنا ہوگا،اس حکومت کو چاہیے کہ وہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کرے، تاکہ بجلی اور گیس کے بل عوام پر بوجھ نہ بنیں، ٹیکس کا نظام منصفانہ بنائے کہ جہاں غریب کے بجائے امیر اور منافع بخش شعبوں پر ٹیکس لگایا جائے اور سب سے بڑھ کر ایسی معاشی پالیسیاں وضع کی جائیں، جوکہ براہِ راست عام آدمی کی حقیقی آمدنی میں اضافے کا سبب بنیں، اگر آج ہم نے گرتی ہوئی بچتوں کے طوفان کا راستہ نہ روکا تو کل کا پاکستان معاشی طور پر مزید محتاج اور سماجی طور پر شدید غیر مستحکم ہو جائے گا، یہ خطرے کا الارم بج رہاہے، اب دیکھنا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی آنکھ کھلتی ہے یا جان بوجھ کر بند کر بند ہی رکھتے ہیں۔





