ColumnImtiaz Ahmad Shad

صبر، شکر اور برداشت: عظمتِ انسانیت کی بنیاد

صبر، شکر اور برداشت: عظمتِ انسانیت کی بنیاد
تحریر : امتیاز احمد شاد
انسانی زندگی مختلف آزمائشوں، خوشیوں، کامیابیوں اور ناکامیوں کا مجموعہ ہے۔ ہر شخص اپنی زندگی میں ایسے حالات سے گزرتا ہے جہاں اس کے کردار، سوچ اور اخلاق کا امتحان لیا جاتا ہے۔ ان حالات میں جو صفات انسان کو سنبھالتی ہیں اور اسے اندرونی مضبوطی عطا کرتی ہیں، ان میں صبر، شکر اور برداشت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہ تینوں خوبیاں نہ صرف ایک فرد کی شخصیت کو نکھارتی ہیں بلکہ اسے معاشرے میں عزت، وقار اور اعتماد بھی عطا کرتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنی زندگی میں ان اوصاف کو اپنایا، وہ دوسروں کے لیے مثال بن گئے اور حقیقی معنوں میں بڑے انسان کہلائے۔
صبر کا مطلب صرف مشکلات کو خاموشی سے برداشت کرنا نہیں بلکہ ہر مشکل صورتِ حال میں اپنے جذبات، زبان اور رویے پر قابو رکھنا بھی ہے۔ جب انسان کسی مصیبت، ناکامی یا نقصان کا سامنا کرتا ہے تو اس کے پاس دو راستے ہوتے ہیں: یا تو وہ مایوسی، شکایت اور غصے کا شکار ہو جائے، یا پھر حوصلے اور امید کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرے۔ صبر دراصل دوسرے راستے کا انتخاب ہے۔ صبر انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ ہر مشکل ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی اور وقت کے ساتھ حالات بدل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صبر کرنے والا شخص وقتی جذبات کے بجائے دور اندیشی سے کام لیتا ہے اور زندگی کی مشکلات کو اپنے لیے سیکھنے کا ذریعہ بناتا ہے۔
اسی طرح شکر ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو خوشی اور اطمینان عطا کرتی ہے۔ شکر کا مطلب صرف زبان سے الحمدللہ کہنا نہیں بلکہ دل سے نعمتوں کی قدر کرنا بھی ہے۔ اکثر لوگ اپنی زندگی میں موجود نعمتوں کے بجائے ان چیزوں پر توجہ دیتے ہیں جو ان کے پاس نہیں ہوتیں۔ نتیجتاً وہ مسلسل بے چینی اور احساسِ محرومی کا شکار رہتے ہیں۔ اس کے برعکس شکر گزار انسان اپنی موجودہ نعمتوں کو پہچانتا ہے، ان کی قدر کرتا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھتا ہے۔ یہی احساس اس کے دل میں سکون پیدا کرتا ہے۔ شکر انسان کو مثبت سوچ دیتا ہے اور اسے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مطمئن اور خوش مزاج بناتا ہے۔
برداشت بھی انسانی شخصیت کی ایک نہایت اہم خوبی ہے۔ برداشت کا مطلب یہ ہے کہ انسان دوسروں کی غلطیوں، اختلافات اور ناپسندیدہ رویوں کے باوجود اپنے اخلاق اور وقار کو برقرار رکھے۔ معاشرتی زندگی میں مختلف مزاج، خیالات اور رویوں کے لوگ ملتے ہیں۔ اگر ہر شخص معمولی اختلاف پر غصہ کرے یا ردِعمل میں سخت رویہ اختیار کرے تو معاشرے میں انتشار اور نفرت پیدا ہو جائے۔ برداشت انسان کو دوسروں کی بات سننے، ان کے نقطہ نظر کو سمجھنے اور اختلاف کے باوجود احترام قائم رکھنے کا درس دیتی ہے۔ یہی خوبی ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔
صبر، شکر اور برداشت آپس میں گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ صبر انسان کو مشکلات میں ثابت قدم رکھتا ہے، شکر اسے نعمتوں کی قدر سکھاتا ہے اور برداشت اسے دوسروں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ جب یہ تینوں صفات ایک شخصیت میں جمع ہو جائیں تو وہ شخص نہ صرف اپنی زندگی میں کامیاب ہوتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی خیر اور بھلائی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ایسے افراد معاشرے میں امن، محبت اور ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔
صبر کرنے والے لوگ عام طور پر جلد بازی سے کام نہیں لیتے۔ وہ فیصلے سوچ سمجھ کر کرتے ہیں اور جذبات کے بہائو میں آ کر نقصان دہ اقدامات نہیں کرتے۔ جب انہیں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو وہ گھبراہٹ کے بجائے حکمت اور تدبر سے کام لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ زندگی کے نشیب و فراز میں زیادہ مضبوط ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی ناکامیوں کو انجام نہیں بلکہ نئی شروعات سمجھتے ہیں اور مسلسل کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی یہ مستقل مزاجی بالآخر انہیں کامیابی کے قریب لے جاتی ہے۔
شکر گزار لوگ بھی اپنی شخصیت میں ایک خاص کشش رکھتے ہیں۔ وہ دوسروں کی کامیابیوں سے حسد کرنے کے بجائے خوش ہوتے ہیں اور اپنی نعمتوں پر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ان کے دل میں ناشکری، شکایت اور منفی سوچ کم ہوتی ہے۔ یہی مثبت طرزِ فکر ان کے تعلقات کو مضبوط بناتا ہے اور لوگ ان کی صحبت میں سکون محسوس کرتے ہیں۔ شکر گزار انسان دوسروں کی مدد کرنے میں بھی زیادہ دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جو نعمت اسے ملی ہے، اس میں دوسروں کا بھی حق ہے۔
برداشت رکھنے والے افراد معاشرے کے حقیقی معمار ہوتے ہیں۔ وہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونے دیتے۔ ایسے لوگ دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنا جانتے ہیں اور معمولی باتوں کو دل پر نہیں لیتے۔ ان کی شخصیت میں تحمل اور بردباری نمایاں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ان پر اعتماد کرتے ہیں اور انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ برداشت انسان کو نفرت کے بجائے محبت اور انتقام کے بجائے درگزر کا راستہ دکھاتی ہے۔
یہ سوال اہم ہے کہ کیا صبر، شکر اور برداشت انسان کو بڑا آدمی بناتی ہیں؟ اگر’’ بڑا آدمی‘‘ ہونے سے مراد دولت، شہرت یا اختیار ہے تو ضروری نہیں کہ یہ صفات انسان کو فوراً یہ چیزیں عطا کر دیں۔ لیکن اگر بڑے آدمی سے مراد عظیم کردار، بلند اخلاق اور قابلِ احترام شخصیت ہے تو یقیناً یہ خوبیاں انسان کو بڑا بناتی ہیں۔ دنیا میں بے شمار ایسے لوگ گزرے ہیں جن کے پاس دولت یا طاقت نہیں تھی، لیکن ان کے صبر، شکر اور برداشت نے انہیں لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ عظمت کا تعلق ظاہری کامیابیوں سے زیادہ باطنی کردار سے ہوتا ہے۔ ایک شخص دولت مند ہو سکتا ہے لیکن اگر اس میں برداشت نہ ہو تو لوگ اس سے دور رہتے ہیں۔ کوئی طاقتور ہو سکتا ہے لیکن اگر وہ ناشکرا اور بے صبر ہو تو اس کی طاقت دیرپا اثر نہیں چھوڑتی۔ اس کے برعکس ایک صابر، شاکر اور بردبار انسان محدود وسائل کے باوجود دوسروں کے دل جیت لیتا ہے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کا سبب بنتا ہے۔
آج کے دور میں جہاں جلد بازی، مقابلہ بازی اور عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے، وہاں ان صفات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سوشل میڈیا، معاشرتی دبا اور تیز رفتار زندگی نے لوگوں کو بے چین اور حساس بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں صبر انسان کو ذہنی سکون دیتا ہے، شکر اسے قناعت اور خوشی عطا کرتا ہے اور برداشت اسے بہتر تعلقات قائم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہی صفات ایک متوازن اور کامیاب زندگی کی ضمانت بنتی ہیں۔
یاد رکھیں صبر، شکر اور برداشت صرف اخلاقی خوبیاں نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک مکمل فلسفہ ہیں۔ یہ انسان کو مضبوط، مطمئن اور باوقار بناتی ہیں۔ جو لوگ ان اوصاف کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں، وہ نہ صرف اپنی مشکلات کا بہتر انداز میں مقابلہ کرتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی روشنی کا چراغ بن جاتے ہیں۔ حقیقی عظمت اور بڑائی دولت، عہدے یا شہرت میں نہیں بلکہ اعلیٰ کردار میں پوشیدہ ہے، اور صبر، شکر اور برداشت اسی اعلیٰ کردار کی سب سے روشن نشانیاں ہیں۔

جواب دیں

Back to top button