ایوب خان کو دل جلے کا خط

صدر ایوب خان کو دل جلے کا خط
تجمل حسین ہاشمی
پاکستان کے ان چار جنرلوں جن میں فیلڈ مارشل ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کی آمرانہ حکمرانی کے مطالعہ سے ملکی صورت حال کو بہتر سمجھا جا سکتا ہے۔ جناب یحییٰ خان کی بات ہی رہنے دیں اور مشرف صاحب لبرل ہونے کے چکر میں کئی محاذ کھول گئے، صدر ایوب خان اور جنرل ضیاء کو دین و اسلام سے گہری رغبت تھی۔ خاص کر چار میں سے تینوں جنرلوں کی سرکاری کاموں پر توجہ رہی لیکن ان کی پالیسیوں کے ثمرات عوام کی زندگی نہ بدلے سکے، انہوں نے سرکاری معاملات کو اپنی ذاتی نگرانی اور فالو اپ کے ساتھ نمٹایا لیکن اقتدار کی حوالگی، عوام سے وعدے کو وفا نہ کیا اور اقتدار کی منتقلی کے وقت نہ سمجھی کر بیٹھے اور اپنی ہی مرضی سے سب کچھ کرنا چاہا۔ جمہوری جماعتوں کے اعتراضات جائز ہیں، مگر یہ حقیقت بھی ہے کہ حب الوطنی کے جذبے میں ملک کا طاقتور شخص بھی قربانی کے لیے تیار ہے۔ شہادت کا جذبہ ہماری روح کا حصہ ہے۔ ملکی سلامتی کے معاملے پر تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں ایک پیج پر نظر آتی ہیں ، لیکن عوامی سہولتوں کے وقت ان جماعتوں کے نظریات مختلف ہو جاتے ہیں ۔ اگر معاشی مضبوطی کو بھی ملکی سلامتی کا لازمی حصہ سمجھ لیا جائے تو یقیناً کشکول چھوٹ سکتا ہے۔ مسائل میں کمی آ سکتی ہے۔ اگر مقتدر لوگ چاہیں تو سب کچھ اچھا ہو سکتا ہے۔ شاید کہ اس بار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سربراہی میں سب اچھا ہو جائے۔ یہ حقیقی تبدیلی موجود قیادت کے حصے میں لکھی جائے ۔ میں اس کا خط کا ذکر کروں گا جو صدر ایوب خان کے نام حقیقت ہے۔
ایک دن پنجاب کے کسی گائوں سے صدر ایوب خان کے نام ایک دل جلے کا خط آیا۔ اس میں بہت سخت زبان استعمال کی گئی تھی، یہاں تک کہ گالیاں بھی لکھی ہوئی تھیں۔ خط لکھنے والے کا محکمہ مال میں ایک چھوٹا سا معاملہ روکا ہوا تھا۔ کئی بار رشوت دینے کے باوجود کام نہ ہوا تو اس نے دھمکی دی کہ اگر انصاف نہ ہوا تو ساری زندگی ایوب خان کو بددعائیں دے کر مرے گا۔ صدر کے عملے نے کہا کہ ایسا خط صدر صاحب کے سامنے پیش نہیں کرنا چاہیے، وہ ناراض ہو جائیں گے۔ قدرت اللّہ شہاب نے وہ خط صاحب کی میز پر رکھ دیا۔ صدر ایوب خان نے خود یہ خط پڑھا اور خود جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے حکم دیا کہ اس شخص کو لاہور کے گورنر ہائوس میں بلایا جائے۔ بندے کو وہاں بلوا لیا گیا۔ اس معاملہ گورنر کے سپرد کر دیا گیا۔ صدر صاحب کو یہ طرزِ عمل بہت پسند آیا۔ صدر ایوب خان نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے غریب لوگوں کے مسائل حل کرنے میں اسی طرز پر بڑی مدد دی۔ قدرت اللّہ شہاب لکھتے ہیں کہ صدر ایوب خان کا گھریلو ماحول بھی بہت سادہ اور خوشگوار تھا۔ بیگم ایوب خاموش طبع اور پر وقار خاتون تھیں۔ ملک کی خاتونِ اول ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی ذاتی پبلسٹی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ اپنے بیٹوں کے لیے کمزور ماں ثابت ہوئیں، مگر بیٹیوں کی تربیت پر ان کا اثر نہایت خوشگوار رہا۔ صدر ایوب کی صاحبزادیاں حسنِ صورت اور حسنِ سیرت دونوں سے مالا مال تھیں۔ ان کے کردار میں بے پناہ حیا تھی۔ گھر کے اندر بھی وہ کبھی اپنے والد کے سامنے ننگے سر نہیں آتی تھیں۔ دو پٹے کو پن لگا کر رکھتی تھیں، تاکہ کہنی سے سر تک کوئی حصہ ننگا نہ ہو۔قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ یہ بات ان کی بیوی نے انہیں بتائی تھی۔ ایک جنرل کی بیٹیاں اتنی حیا دار تھیں کہ اس کی مثال اب اس دور میں تھوڑی مشکل سے ملے گی۔ سب سے چھوٹی بیٹی کی شادی اتنی سادہ تھی کہ اس کی بھی کوئی مثال اب نظر نہیں آئے گی۔ صدر ایوب خان خود نہایت نفیس انسان تھے۔ قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ وہ کافی عرصہ ان کے قریب رہے اور انہیں قریب سے جاننی کا موقع ملا۔ ان کا اسلامی ذہن تھا، ہر وقت کام کی لگن تھی، فضول باتوں پر توجہ نہیں دیتے تھے۔ ان کے پاس ایک ڈائری ہوتی تھی، جس میں وہ تاریخ لکھ کر ہر بات درج کرتے تھے۔ ہر اندراج نمبر والا ہوتا۔ کابینہ کے اجلاس میں وہ اس نوٹ بک سے دیکھ کر افسروں کو ہدایات دیتے۔ گورنروں کی تقریریں، وزیروں کے دورے، سفیروں سے گفتگو، امریکی امداد، چھوٹے بڑے افسروں کی نشاندہی، کہیں کھاد کی سپلائی، کہیں پانی کی کمی، کسی کی پنشن کا معاملہ، سیم تھوڑ کے مسائل، افریقہ میں اسلام کی تبلیغ، ریڈیو سے درس قرآن ہر موضوع پر ان کی گہری نظر ہوتی تھی۔ قرآن پاک سے انہیں بے حد محبت تھی۔ وہ ترجمے کے ساتھ پڑھنے کے شوقین تھے۔ 1960ء میں سعودی عرب کے سرکاری دورے پر جاتے ہوئے انہوں نے عمرہ ادا کرنے کی خاص تیاری کی۔ ان کی فرمائش پر میں نے انہیں مختلف دعائوں کے مجموعے دئیے۔ چند دن مطالعے کے بعد جب وہ ہوائی جہاز میں سوار ہوئے تو دونوں کتابیں واپس کر دیں اور کہا: ’’ مجھے اپنے مطلب کی چیز مل گئی ہے‘‘۔ جب میں نے پوچھا تو انہوں نے جیب سے کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا۔ اس پر ایک مختصر دعا کا اردو ترجمہ لکھا تھا: ’’ یا اللہ! مجھے بغیر حساب کتاب کے ہی بخش دے‘‘۔ مکہ معظمہ میں ایک روز ان کے لیے خانہ کعبہ کھولا گیا۔ اندر داخل ہونے کے بعد شاہی معلم نے کہا کہ چاروں طرف منہ کر کے دو دو رکعتیں پڑھ لیں۔ سنت ادا کرنے کے بعد صدر ایوب خان بہت فرحان نظر آ رہے تھے۔ وہیں کھڑے کھڑے انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی ہے: ’’ ہندوستان کے سامنے ہمارا سر خم نہ ہو‘‘۔ بیت اللہ میں مانگی گئی دعا رائیگاں نہیں جاتی۔ 1965ء کی جنگ اس کا کھلا ثبوت ہے۔ مدینہ منورہ میں ہمیں روضہ رسولؐ کے حجرہ مبارک کے اندر جانے کی سعادت بھی ملی۔ اندر داخل ہوتے ہی صدر ایوب پر ہیبت طاری ہو گئی۔ انہوں نے دونوں ہاتھوں سے روضہ اطہر کا غلاف تھام لیا اور آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے۔ زندگی بھر میں نے انہیں صرف ایک بار اس طرح دیکھا تھا۔ صدارت کا کام جنرل ایوب نے بڑی محنت، لگن، باقاعدگی اور سلیقے سے کیا۔ ساری فائلیں وہ غور سے پڑھتے اور احکام خود اپنے ہاتھ سے لکھتے۔ روزانہ فائلیں نمٹا دیتے۔ کبھی کوئی فائل اگلے دن کے لیے نہیں رکھتے تھے۔ روز کی ڈاک بھی پوری دیکھتے۔ کچھ خطوط کے جواب خود دیتے، باقی میرے حوالے کر دیتے۔ اس زمانے میں صدر کے نام جتنے خط آتے، ان سب کے جواب ضرور دئیے جاتے تھے۔
ایوب خان دور حکومت کا یہ ایک چھوٹا سا، مگر بامعنی پہلو تھا ۔ جنرل ضیاء کی زندگی کے کئی پہلو قابل تعریف ہیں، جنرل مشرف کئی فیصلے تاریخی ہیں، میں سمجھتا ہوں ہمارے جمہوری لیڈروں کو سمجھ و عقل سے کام کرنا چاہے ۔ ایسے ہزاروں پہلو ہمارے جنرل اور دیگر سرکاری افسروں میں موجود ہیں جو تقلید کے قابل ہیں موجود معاشی حالات نے ان کی کارکردگی کو پس پشت ڈال ہوا ہے۔ میں یہاں نائب وزیر اعظم اسحاق دار کا بھی ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ، ڈار صاحب کی ورکنگ، ان کی محنت کو داد دینا بنتی ہے، دن رات ملک کیلئے کام کر رہے ہیں، ان کی محنت کو سراہا جانا چاہے۔ اسحاق ڈار صاحب ملکی معاشی صورتحال میں بہتری کیلئے کوشاں ہیں، ہمارے ہاں اسحاق ڈار جیسے ہزاروں افسر موجود ہیں، بس وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی توجہ کے منتظر ہیں۔ ایسے محنتی افسروں کو فرنٹ لائن پر کھڑا کرنا چاہئے، ان کو با اختیار کریں، یقینا معاشی صورتحال میں بہتری آئے گی۔







