ColumnQadir Khan

استنبول کی میز سے ماسکو معاہدے اور خندقوں کی جنگ

استنبول کی میز سے ماسکو معاہدے اور خندقوں کی جنگ تک

پیامبر

قادر خان یوسف زئی

پاک، افغان تعلقات کے موجودہ تزویراتی منظر نامے اور سرحد کے دونوں اطراف بدلتی ہوئی عسکری و سفارتی صورتحال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خطے میں تنا ایک نئے اور نازک مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ اپریل کے اواخر اور مئی 2026 ء کے اوائل میں استنبول میں ہونے والے ٹریک 1.5یا غیر رسمی مذاکرات ایک اہم کڑی کے طور پر سامنے آئے۔ متعدد بین الاقوامی ذرائع اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ افغان طالبان رجیم کے قریبی حلقوں اور پاکستانی حکام کے مابین ترکیہ میں غیر رسمی ملاقاتیں ہوئیں جن کا بنیادی ایجنڈا سرحد پار سے ہونے والی عسکریت پسندی اور ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں تھی۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں اگرچہ کسی عوامی اور قانونی طور پر پابند معاہدے کا اعلان تو نہیں کیا گیا، لیکن ایک مشترکہ مسودہ ضرور تیار ہوا جس میں کالعدم ٹی ٹی پی اور داعش جیسے گروہوں سے نمٹنے کے حوالے سے تفہیم پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا کہ دونوں فریقین استنبول کی میز پر بیٹھے ہوں، بلکہ اس سے قبل سال 2025کے اواخر میں بھی ترکیہ اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں امن و جنگ بندی کے فریم ورک کے تحت استنبول ہی میں مذاکرات کے ادوار منعقد ہوئے تھے، جہاں پاکستان کا ہمیشہ سے یہ پختہ اور اصولی موقف رہا کہ افغان سرزمین کو کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور کابل کو ان عسکریت پسند گروہوں کے خلاف ٹھوس، قابل تصدیق اور موثر کارروائی کرنی ہوگی۔ پاکستان کا یہ موقف سال 2025اور 2026کے دوران انتہائی مستقل مزاجی کے ساتھ برقرار رہا ہے کہ کسی بھی قسم کی باضابطہ پیش رفت صرف اسی صورت ممکن ہے جب سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو۔

اس سفارتی عمل کے دوران ایک شدید ابہام اور بیانیوں کا ٹکرائو اس وقت سامنے آیا جب افغان ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ استنبول ٹریک کے دوسرے مرحلے کے طور پر ایک پاکستانی سرکاری وفد کابل کا دورہ کر رہا ہے تاکہ افغان طالبان قیادت کے ساتھ براہ راست بات چیت کی جا سکے۔ تاہم، مارچ 2026ء میں پاکستانی وزارت خارجہ اور متعلقہ سرکاری ذرائع نے قومی میڈیا میں ان رپورٹس کی سختی سے تردید کی اور انہیں سراسر افغان پروپیگنڈا اکائونٹس کی من گھڑت کہانیاں قرار دیا۔ پاکستان کے سرکاری حلقوں نے اس امر پر اصرار کیا کہ کابل میں کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لیے کوئی وفد نہیں بھیجا گیا اور نہ ہی اس وقت تک کوئی باقاعدہ مذاکرات ہوں گے جب تک افغان طالبان ’’ فتنہ الخوارج‘‘ کی پشت پناہی بند نہیں کرتے اور ان کے خلاف فیصلہ کن فوجی کارروائی عمل میں نہیں لاتے۔ اگرچہ افغان مبصرین اور میڈیا نے کابل کے اس مبینہ دورے اور مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی منسوخی کو پاکستان کے انکار سے تعبیر کیا، لیکن پاکستان، ترکیہ یا قطر کی جانب سے اس قسم کے کسی باضابطہ کابل رائونڈ کے طے پانے یا منسوخ ہونے کی کوئی دستاویز یا سرکاری توثیق موجود نہیں ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دعویٰ زیادہ تر افغان بیانیے تک ہی محدود اور پراپیگنڈا ہے۔

اس دوران، 27مئی 2026ء کو ماسکو کے قریب منعقدہ بین الاقوامی سیکیورٹی فورم کے موقع پر روس اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے فوجی و تکنیکی تعاون کے معاہدے نے پاک افغان تنازع میں ایک نیا تزویراتی رخ پیدا کر دیا ہے۔ اس معاہدے پر روسی سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری سرگئی شوئیگو اور افغان رجیم کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد نے دستخط کیے۔ افغان میڈیا اور تزویراتی تجزیہ کاروں کے مطابق، بظاہر یہ معاہدہ افغانستان میں موجود روسی ساختہ پرانے ہتھیاروں، بالخصوص ہیلی کاپٹروں، طیاروں اور دیگر عسکری آلات کی مرمت اور دیکھ بھال تک محدود ہے۔ ملا یعقوب نے خود بھی اس امر کی وضاحت کی کہ چونکہ یہ نظام روس کے بنے ہوئے ہیں، اس لیے ان کے متبادل پرزوں اور تکنیکی استعمال کے لیے اصل مینوفیکچرر کے ساتھ معاہدہ کرنا قانونی اور تکنیکی ضرورت تھی۔ تاہم معاہدے کے فوراً بعد ماسکو سے کابل ایئرپورٹ واپسی پر افغان وزیر دفاع ملا یعقوب مجاہد کا پریس کانفرنس میں دیا گیا بیان انتہائی معنی خیز اور تند و تیز تھا۔ افغان طالبان کا اسلوب ایک طرف پاکستان کو دہمکانے اور دوسری طرف خطے کے دیگر ممالک کو سفارتی یقین دہانیاں کرانے کی منافقانہ دوہری حکمت عملی کا حصہ ہے۔

جہاں تک زمینی اور سرحدی صورتحال کا تعلق ہے، تو سال 2017سے پاکستان کی جانب سے قریباً 2600کلومیٹر طویل ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے اور سینکڑوں قلعے اور چوکیاں تعمیر کرنے کا عمل جاری رہا ہے۔ لیکن اکتوبر 2025ء اور بالخصوص فروری 2026ء کے بعد سے اس سرحد کی مائل ٹو مائل عسکری ناکہ بندی میں غیر معمولی تیزی آئی ہے۔ فروری 2026ء میں افغان طالبان نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر اشتعال انگیز بلاجواز بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے اور ساتھ ہی افغان سرزمین سے انتہا پسندوں و کالعدم تنظیموں نے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ کر دیا، افغان رجیم نے پاکستان کی جانب سے شواہد کی فراہمی کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھی اور بالاآخر یہ سلسلہ اس حد تک بڑھ گیا کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف ’’ کھلی جنگ‘‘ کا اعلان کر دیا، جس کے بعد پاکستان نے کابل, قندھار، پکتیا اور ننگرہار میں فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں اور افغان طالبان کے سرکاری اور فوجی مراکز کو فضائیہ اور آرٹلری کے ذریعے نشانہ بنایا۔ اس جنگ کے نتیجے میں سرحد کے دونوں اطراف، بالخصوص طورخم اور اس کے گردونواح میں شدید گولہ باری کی وجہ سے افغانستان میں ایک لاکھ پندرہ ہزار سے زائد اور پاکستان میں ہزاروں مقامی افراد بے گھر ہوئے، جو اس تنازع کی انسانی اور سماجی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

اس شدید عسکری تصادم کے دوران سرحد پر خندقوں، بنکروں اور زیر زمین راستوں کی تعمیر کا معاملہ بھی منظر عام پر آیا۔ بین الاقوامی بڑی نیوز ایجنسیاں عام طور پر فضائی حملوں، چوکیوں پر قبضے اور نقل مکانی کی شہ سرخیوں پر توجہ مرکوز رکھتی ہیں اور طالبان کی فیلڈ انجینئرنگ کی تفصیلات کو اس طرح رپورٹ نہیں کرتیں جیسے پاکستان کی سرحدی باڑ کو کیا جاتا ہے۔ تاہم، زمینی جنگ کے اصولوں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور اوپن سورس انٹیلی جنس کے مواد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ افغان طالبان نے سرحد کے قریبی پہاڑی سلسلوں میں دفاعی خندقیں، اینٹی ٹینک پوزیشنز اور زیر زمین نقل و حرکت کے راستے کھودنے کا کام تیز کر دیا ہے۔ اگرچہ ان خندقوں کی مائیکرو لیول پر بین الاقوامی ذرائع سے مکمل تصدیق ہونا باقی ہے، لیکن اس پیمانے پر جاری جنگی تیاریوں اور دفاعی پوزیشنوں کو مضبوط بنانے کی عسکری منطق اس دعوے کو بڑی حد تک درست ثابت کرتی ہے کہ دونوں اطراف کی افواج طویل المدتی جنگ کے لیے صف آراء ہو رہی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button