CM RizwanColumn

جہاز کی سیڑھیاں اور عوام کی ہچکیاں

جگائے گا کون ؟
جہاز کی سیڑھیاں اور عوام کی ہچکیاں
تحریر: سی ایم رضوان
ایران، امریکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ سفارتی تعطل نے پاکستان کی پہلے سے ہی نازک اور نیم مردہ معیشت کو براہِ راست، بدترین اور گہرے دھچکے پہنچائے ہیں۔ چونکہ پاکستان جغرافیائی طور پر اس تنازع کے بالکل پڑوس میں واقع ہے اور اپنی توانائی کے لئے خلیجی ممالک پر منحصر ہے اس لئے یہ اثرات اس کی معیشت اور عام عوام پر کئی سطحوں سے اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ تباہ کن توانائی بحران اور پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ ہے چونکہ پاکستان اپنی ضرورت کا 85فیصد سے زائد تیل اور تقریباً تمام ایل این جی خلیج فارس کے ممالک سے امپورٹ کرتا ہے لہٰذا مارچ 2026 ء میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی جزوی ناکہ بندی اور قطر کی گیس تنصیبات پر میزائل حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 120ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جس کی وجہ سے پاکستان کے لئے پٹرولیم مصنوعات کی امپورٹ کاسٹ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ گئی ہے۔ جس کی وجہ سے ایشیا میں ایل این جی کی اسپاٹ قیمتوں میں 140فیصد سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ گیس کی اس ناقابل برداشت مہنگائی نے پاکستان کے پاور سیکٹر اور صنعتوں کو شدید طور پر متاثر کیا ہے جس سے ملک میں لوڈ شیڈنگ کے ساتھ ساتھ بجلی کے ٹیرف میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یوں بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور گیس کی قلت کا براہِ راست اثر ملکی مارکیٹ پر پڑ رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے خسارہ پورا کرنے کے لئے پٹرولیم لیوی اور ٹیکسز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے عوام پر بوجھ مزید بڑھا دیا ہے۔ مال برداری کے اخراجات بڑھنے سے روزمرہ کی اشیائے خورونوش، دالیں اور بنیادی ضرورت کی دیگر چیزیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر تو کب کی ہو چکی تھیں اب دور ہو رہی ہیں، جس سے ملک میں پہلے سے موجود معاشی دبا اب مزید سنگین ہو گیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ پاکستان طویل عرصے سے توانائی کے سستے متبادل کے طور پر پاک، ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہا تھا۔ تاہم، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی اور امریکہ کی سخت پابندیوں کی پالیسی کے باعث اس منصوبے پر کام بڑھانا پاکستان کے لئے شدید سفارتی اور معاشی خطرات جیسے امریکی پابندیوں کے ڈر کا باعث بن رہا ہے، جس کی وجہ سے سستی گیس کا حصول مزید مشکل ہو گیا ہے۔ روپے کی قدر پر دبا اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ بھی اس ضمن میں ایک واضح ناکامی کا باعث ہیں۔ تیل اور گیس کے مہنگے امپورٹ بلز کی وجہ سے پاکستان کے پاس موجود غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر شدید دبا ہے۔ ڈالر کی مسلسل مانگ کی وجہ سے پاکستانی روپیہ اتار چڑھائو کا شکار ہے، جس سے کرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ مزید یہ کہ خلیجی ممالک ( سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر وغیرہ) میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں جو ملک کو اربوں ڈالر کا زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور خلیجی معیشتوں میں عدم استحکام کی وجہ سے وہاں کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ اگر ان ممالک کی معاشی ترقی سست ہوتی ہے، تو پاکستان کو ملنے والے زرمبادلہ میں کمی آ سکتی ہے، جو کہ ملکی معیشت کی لائف لائن ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایران امریکہ تنازع نے پاکستان کو ایک ایسے چکر میں دھکیل دیا ہے جہاں ایک طرف عالمی مہنگائی کا دبا ہے اور دوسری طرف اپنی سرحدوں پر سکیورٹی اور توانائی کی سکیورٹی کو برقرار رکھنے کا چیلنج ہے۔ اس کے باوجود غیر جانبدارانہ انداز میں پاکستان اس وقت دونوں فریقین کے درمیان سفارتی ثالثی کے ذریعے خطے میں امن قائم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے تاکہ خطہ کے ساتھ ساتھ وہ اپنے معاشی مفادات کا بھی تحفظ کر سکے۔
ایسے میں عوام کو بھوکوں مرنے کے لئے چھوڑ دینے والے موجودہ حکمرانوں کے نت نئے جھوٹے دعوئوں اور دلفریب دلائل کے شگوفے پھوٹتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا تازہ بیان مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ حقیقی ترقی کا اندازہ بلند و بانگ دعوئوں سے نہیں بلکہ عوام کی حالتِ، ان کے معیارِ زندگی میں بہتری اور حکومتی اقدامات کے ثمرات نچلے طبقے تک پہنچنے سے لگایا جاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ شہر صرف بڑی سڑکوں یا عمارتوں کا نام نہیں ہیں، بلکہ اصل ترقی تب ہوتی ہے جب بنیادی سہولیات ( جیسے صحت اور تعلیم) براہِ راست عوام کی دہلیز تک پہنچیں۔ مریم نواز اکثر اس بات پر بھی زور دیتی ہیں کہ عوام اب اتنے باشعور ہو چکے ہیں کہ وہ حکمرانوں کی نیت اور کارکردگی کا درست اندازہ لگا سکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین اور اپوزیشن رہنمائوں کا بھی یہی موقف ہے کہ حکمرانوں کی خوش کن تقریروں کی بجائے عوام کی حقیقی حالت ( جیسے مہنگائی اور بیروزگاری کی صورتحال) سے ملکی ترقی کی اصل تصویر سامنے آتی ہے۔ اس حوالے سے عوامی آراء اور رپورٹس تو یہ دہائی دے رہی ہیں کہ مہنگائی اور بیروزگاری کے ساتھ ساتھ معاشی عدم تحفظ کا جتنا شکار پاکستان کے عوام آج کل ہیں اس سے پہلے کبھی نہ تھے۔ کاش کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کو بھی کوئی یہ بتائے کہ جب عوام کی آنکھیں کھلتی ہیں تو وہ دیکھتے ہیں کہ کیسے ان کے ایک خاندان نے دہائیوں تک ملک کو اپنے زیر اقتدار رکھا اور ماشاء اللہ سے ایسی پالیسیاں نافذ کئے رکھیں کہ آج ملک ڈیفالٹ کے خطرہ سے دوچار ہے۔ اور اس عرصے میں پاکستان کی معیشت کا اس قدر برا حال ہو گیا ہے کہ ذرا سا بھی جھٹکا براہ راست عوام کے کندھوں پر آ پڑتا ہے۔ ایسے میں عوام کو اپنی کارکردگی کے جھوٹے فریب سے مرعوب کرنے کی کوشش جلتی پر تیل کا کام کرنے کے علاوہ کوئی مثبت نتیجہ نہیں لاتا۔
جہاں تک موجودہ کہنہ مشق حکمرانوں کی کارکردگی کا تعلق ہے تو پچھلے دو سالوں (2024ء سے 2026ئ) کے دوران پنجاب کے عوام کے معیارِ زندگی کا دیانتدارانہ تجزیہ کیا جائے، تو حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ میکرو اکنامک ( مجموعی معاشی) اشاریوں پر تو تھوڑی بہت بہتری نظر آتی ہے، لیکن مائیکرو اکنامک ( عوامی اور گھریلو) سطح پر عام آدمی کے لئے یہ دو سال شدید دبائو، بقا کی جنگ اور ’’ ون سائیڈڈ شیلنگ‘‘ جیسے رہے ہیں۔ عوامی سطح پر عوام کے معیارِ زندگی میں گراوٹ آئی ہے کوئی بلندی یا بہتری ہر گز نہیں آئی جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پچھلے دو سالوں میں تنخواہوں اور عام آدمی کی آمدن میں وہ اضافہ نہیں ہوا جو اخراجات میں ہوا ہے۔ پچھلے دو سالوں میں پٹرولیم لیوی اور بجلی کے بنیادی ٹیرف میں جو بے پناہ اضافہ ہوا، اس نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اب عام گھرانے کی آمدن کا ایک بہت بڑا حصہ صرف یوٹیلٹی بلز اور ٹرانسپورٹ کی نذر ہو جاتا ہے۔ جس وجہ سے عام آدمی کی قوتِ خرید محض کم نہیں ہوئی بلکہ اس قوت خرید کا اب مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا ہے۔ اگرچہ مئی 2026ء تک افراطِ زر کی شرح 2023ء کے 30 فیصد کے مقابلے میں گر کر 10فیصد سے 11فیصد کے درمیان آئی ہے، لیکن اس کا مطلب قیمتیں کم ہونا نہیں بلکہ ان کے بڑھنے کی رفتار دھیمی ہونا ہے۔ پچھلے چند سال میں مہنگائی کا جو طوفان آیا ہے اس کے بعد قیمتیں جس اونچی سطح پر منجمد ہو چکی ہیں، وہاں عام آدمی کے لئے دال روٹی، گوشت اور دودھ جیسی بنیادی اشیاء خریدنا بھی محال ہو گیا ہے اور سفید پوش طبقے کا زوال شروع ہو گیا ہے کیونکہ اس معاشی بدحالی کی سب سے زیادہ ضرب اسی مڈل کلاس ( سفید پوش) طبقے کو لگی ہے، جو نہ تو کسی امدادی پروگرام ( جیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام یا مریم نواز کے جاری کردہ مختلف امدادی پروگراموں) کے دائرے میں آتا ہے اور نہ ہی ہوش ربا مہنگائی میں اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھ پا رہا ہے۔ بچوں کی سکول فیسیں، ادویات اور کرائے اتنے بڑھ چکے ہیں کہ بچت کا تصور تو کب کا ختم ہو چکا بلکہ اب تو زندہ رہنے کا راستہ ناپید ہو ہو چکا ہے۔ دوسری طرف، اگر ہم پنجاب حکومت کے حالیہ اقدامات اور حالیہ معاشی ڈیٹا ( مئی 2026ء کے مطابق) کو دیکھیں، تو کچھ شعبوں میں استحکام کی کوششیں نظر آتی ہیں۔ مالیاتی سال 2025۔26میں پاکستان کی شرح نمو 3.70 فیصد رہی ہے، جو کہ 2023۔24کی 2.62 فیصد گروتھ کے مقابلے میں بہتر ہے۔ لارج سکیل مینوفیکچرنگ ( گاڑیاں، پٹرولیم وغیرہ) میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، جس سے صنعتی شہروں ( فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ) میں کچھ روزگار بحال ہوا ہے۔ جہاں تک زرعی ریلیف اور گندم کی قیمت کے بحران کا تعلق ہے تو پنجاب بنیادی طور پر ایک زرعی صوبہ ہے۔ اس سال گندم، گنے اور آلو کی پیداوار میں اضافہ تو ہوا، لیکن کسانوں کے لئے یہ دو سال مکسڈ رہے۔ گندم کی سرکاری خریداری کی پالیسیوں اور مارکیٹ کے اتار چڑھائو کی وجہ سے چھوٹے کسان کو شدید مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا، حالانکہ مجموعی ملکی پیداوار بہتر رہی۔ اسی طرح پنجاب حکومت نے پچھلے دو سال میں سستی روٹی ( روٹی کی قیمت میں کمی) ، پنجاب بائیک سکیم، اور کسان کارڈ جیسے مخصوص ٹارگٹڈ ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ اس سے عارضی طور پر تو کچھ نچلے طبقوں کو سانس لینے کا موقع ملا، لیکن یہ معیار زندگی کو مستقل بلند کرنی کے لئے کافی نہیں ہے۔ ان حقائق اور معلومات کی روشنی میں اگر دیانتداری سے نچوڑ نکالا جائے، تو یہ کہنا ہی درست ہو گا کہ پچھلے دو سال میں پنجاب کے عوام کا معیار زندگی بلند بالکل نہیں ہوا بلکہ مجموعی طور پر اس میں گراوٹ ہی آئی ہے۔ یہ تسلیم کہ موجودہ وفاق اور پنجاب حکومت یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ انہوں نے معیشت کو ’’ آئی سی یو‘‘ سے نکال کر مستحکم کر دیا ہے ( جو کہ میکرو ڈیٹا کی حد تک درست بھی ہے)، لیکن اس استحکام کی قیمت بھی خود پنجاب کے عوام نے ہی بھاری ٹیکسوں، مہنگی بجلی اور مہنگے پٹرول کی شکل میں اپنی جیب سے خون پسینے کی کمائی ادا کر کے کی ہے۔ عام آدمی کے لئے یہ دو سال ’’ معیار زندگی بہتر کرنے‘‘ کے نہیں بلکہ کسی نہ کسی طرح ’’ بقا کی جنگ جیتنے‘‘ کے رہے ہیں۔ ایسے میں معاشی طور پر زندہ رہ پانے کا اصل کریڈٹ عوام کو ہی دیا جا سکتا ہے جبکہ حکمرانوں کو تجربہ کار اور کہنہ مشق ظالم ہی کہا جا سکتا ہے جو عوام کے تن بدن سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینے کے ماہر بھی ہیں اور اپنی تعریف اپنے منہ سے کرنے اور کروانے پر مصر ہیں۔ یہ حکمران اس نوعیت کے جھوٹے دعوے کر کے جب جہازوں پر کروڑوں روپے خرچ کر بیرون ملک دوروں پر جاتے ہیں تو جہاز کی سیڑھیوں سے پھرتی سے جب چڑھتے اترتے نظر آتے ہیں تو ہماری ذہن میں پاکستان کے غریب عوام کے مونہوں سے نکلی ہوئی وہ آہیں اور ہچکیاں بجلی کی طرح کوند جاتی ہیں، جن کے خون پسینے کی کمائی کو یہ جہازوں کے سفر کی لذت میں اڑا رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button