ColumnQadir Khan

جب ثالث خود دہانے پر کھڑا ہو

جب ثالث خود دہانے پر کھڑا ہو
قادر خان یوسف زئی
دنیا کی سیاسی تاریخ میں ایسے لمحات بار بار آئے ہیں جب کوئی چھوٹی یا درمیانی طاقت دو بڑے حریفوں کے درمیان پُل بننے کی کوشش کرتی ہے اور اس کوشش میں اس کا اپنا وجود ہی دائو پر لگ جاتا ہے۔ پاکستان آج ٹھیک اسی مقام پر کھڑا ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ سید محسن نقوی کا تہران کا غیر علانیہ دورہ بظاہر ایک سفارتی دورہ تھا، لیکن اس کی گہرائیوں میں پوری خطے کی قسمت کا فیصلہ پوشیدہ ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ تازہ تجویز کو مسترد کر دیا تھا اور پاکستان کی ثالثی پر قائم مذاکراتی عمل ایک بار پھر تعطل کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔
اس پورے منظرنامے کو سمجھنے کے لیے پیچھے جانا ضروری ہے۔ فروری 2026ء میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ فوجی حملے کیے جن کا اعلان کردہ مقصد ایران کی جوہری صلاحیت اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو تباہ کرنا تھا۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شہید ہو گئے، جس کے بعد ان کے بیٹے کو قیادت سونپ دی گئی۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل، خطے میں موجود امریکی اڈوں اور خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، جس نے عالمی توانائی کی فراہمی کو ایک زبردست دھچکا پہنچایا۔ اپریل کے اوائل میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان دو ہفتے کا جنگ بندی معاہدہ کرایا اور 11و 12 اپریل کو اسلام آباد میں دونوں اطراف کے وفود نے براہِ راست مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر بات کی۔ تاہم وہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔
محسن نقوی کا تہران دورہ ان کا دوسرا ماہانہ دورہ ہے۔ اس سے پہلے وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ تہران گئے تھے، جہاں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا تھا۔ اب حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو جو حالیہ جواب بھجوایا وہ بنیادی طور پر ’’ فوری جنگ بندی‘‘ کے مطالبے پر مرکوز تھا اور اس میں امریکہ کے مرکزی مطالبے، یعنی ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی خاص لچک نہیں دکھائی گئی تھی۔ واشنگٹن ایران سے یورینیم افزودگی کا مکمل خاتمہ، آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا، بیلسٹک میزائل پروگرام پر قدغنیں اور علاقائی ملیشیائوں کی حمایت بند کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ اس کے مقابل تہران چاہتا ہے کہ پہلے جنگ مکمل طور پر ختم ہو، سلامتی کی ضمانتیں دی جائیں، پھر جوہری مسئلے پر علیحدہ بات چیت ہو۔ یہ دونوں موقف ابھی تک ایک دوسرے سے میلوں دور ہیں۔
اسرائیل کا کردار اس معاملے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ سی این این کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ جلد از جلد کوئی بھی معاہدہ کر لیں گے جو اسرائیلی مفادات کو پورا نہ کرے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع نے اعلان کیا کہ وہ امریکہ کی ’’ سبز روشنی‘‘ کے منتظر ہیں تاکہ ایران میں مزید کارروائیاں کی جا سکیں۔ نیتن یاہو کا موقف ہے کہ ایران سے افزودہ یورینیم کو مکمل طور پر نکالے بغیر جنگ ختم نہیں ہوگی۔ یہ صورتحال پاکستان کی ثالثی کو دوہرے دبائو میں ڈالتی ہے کیونکہ پاکستان کو ایک ساتھ امریکہ، ایران اور بالواسطہ طور پر اسرائیل کے مفادات کو توازن میں رکھنا پڑ رہا ہے۔ اس سیاسی منظر نامے کا ایک اور کردار چین ہے۔ ٹرمپ کا بیجنگ دورہ بھی حالیہ دنوں میں ہوا لیکن وہاں سے ایران کے حوالے سے کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ بادی النظر روس اور چین دونوں پس منظر میں کردار ادا کر رہے ہیں، درحقیقت پاکستان اکیلے محاذ سنبھالے ہوئے ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی کوششیں جتنی قابلِ تعریف ہیں، اتنی ہی نازک بھی ہیں کیونکہ ثالث کو کسی بھی وقت کسی بھی فریق کا غصہ جھیلنا پڑ سکتا ہے۔
اس پوری صورتحال کے معاشی مضمرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں۔ یونکٹاڈ کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہاز فروری میں روزانہ 130سے کم ہو کر مارچ میں صرف 6رہ گئے، یعنی 95فیصد کمی۔ یہ آبنائے دنیا کی بحری تیل تجارت کا ایک چوتھائی حصہ اور قدرتی گیس کا معتدبہ حجم اٹھاتی ہے۔ اس بندش نے برینٹ خام تیل کی قیمت 120ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچا دی اور عالمی تجارت میں سست روی کا ایسا طوفان آیا جس کی نظیر حالیہ دہائیوں میں کم ملتی ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اسے ’’ تاریخ کی سب سے بڑی توانائی فراہمی میں خلل‘‘ قرار دیا۔ ترقی پذیر ممالک اس بحران کی سب سے بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔ عالمی تجارت کی شرح نمو سال 2025 ء کی 4.7فیصد سے گھٹ کر اس سال 1.5سے 2.5فیصد رہ جانے کا خدشہ ہے۔ یونکٹاڈ نے خبردار کیا ہے کہ 3.4 ارب افراد ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں حکومتیں صحت اور تعلیم سے زیادہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کر رہی ہیں، اب ان پر توانائی اور خوراک کی اضافی مہنگائی کا بوجھ بھی آن پڑا ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی خبردار کیا کہ یہ صورتحال تمام ممالک پر یکساں نہیں پڑے گی، بلکہ درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والی کم آمدنی والی معیشتیں اور ابھرتی ہوئی مارکیٹیں سب سے زیادہ متاثر ہوں گی۔ پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، مصر اور افریقی ممالک سب اس زمرے میں آتے ہیں۔ کرنسیوں کی قدر گر رہی ہے، قرضوں کی لاگت بڑھ رہی ہے اور سرمایہ کار ترقی پذیر منڈیوں سے واپس جا رہے ہیں۔
آج صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف امریکہ اپنی بندرگاہ ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے، دوسری طرف ایران آبنائے ہرمز کا کنٹرول ہاتھ سے نہیں جانے دے رہا، اسرائیل لبنان میں بھی محاذ کھولے بیٹھا ہے، اور پاکستان ان سب کے درمیان پیغام رساں کا کام کر رہا ہے۔ کیل انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے حساب لگایا ہے کہ اگر سعودی برآمدات بھی بند ہوگئیں تو عالمی نقصانات دگنے ہو جائیں گے۔ یہ کوئی فرضی خطرہ نہیں، یہ ہمارے سامنے کھڑی حقیقت ہے۔
ان حالات میں پاکستان کی شٹل ڈپلومیسی محض سیاسی دورے نہیں بلکہ ایک ایسی ذمہ داری بن چکی ہے، جسے پاکستان اپنے بل بوتے پر اٹھائے ہوئے ہے۔ محسن نقوی کا یہ دورہ اور اس سے پہلے والا، اور اسلام آباد میں ہوئے مذاکرات، یہ سب مل کر یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان اس عمل کو زندہ رکھنے پر کمربستہ ہے۔ تاہم حقیقت پسندی یہ کہتی ہے کہ جب تک امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر بنیادی اختلافات ختم نہیں ہوتے، کوئی بھی ثالث صرف وقت خرید سکتا ہے، کوئی مستقل حل فراہم نہیں کر سکتا۔ اور ہر گزرتا دن دنیا کے غریب ترین لوگوں کو مزید مہنگائی، مزید بھوک اور مزید قرضوں کی دلدل میں دھکیل رہا ہے۔ تاریخ اس دور کو اس سوال کے ساتھ یاد رکھے گی کہ جب بات چیت کی راہیں کھلی تھیں تو فیصلہ ساز کہاں تھے۔

جواب دیں

Back to top button