چھٹیوں کے سائے میں گم ہوتی تعلیم

چھٹیوں کے سائے میں گم ہوتی تعلیم
ضرب قلم
شہزاد چودھری
تعلیم، یہ لفظ سنتے ہی ایک چراغ سا جلتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں یہ چراغ اکثر بجھ جاتا ہے۔ چھٹیوں کے طوفان میں۔ عجیب بات ہے کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو ترقی کے خواب دیکھتی ہے، مگر بچوں کو کتاب سے زیادہ چھٹیوں کا عادی بنا دیتی ہے۔
تعلیم ہمارے ہاں ایک سنجیدہ قومی ترجیح کم اور ایک بے ترتیب معمول زیادہ بن چکی ہے۔ ہم بچوں کو خواب تو بڑے بڑے دکھاتے ہیں مگر ان خوابوں کی تعبیر کے راستے میں خود ہی رکاوٹیں کھڑی کر دیتے ہیں۔ ان رکاوٹوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ’’ بے تحاشا چھٹیاں‘‘ ہیں۔ عجیب تضاد ہے کہ ہم تعلیمی میدان میں پیچھے بھی ہیں اور چھٹیاں دینے میں آگے بھی۔
ہم نے بچوں کو اسکول سے زیادہ چھٹیوں سے محبت کرنا سکھا دیا ہے۔ کتاب اب بوجھ ہے اور چھٹی خوشی، اور یہ خوشی بھی ایسی کہ جس کا انجام اندھیرا ہے۔ ہم چھٹی کو راحت سمجھتے ہیں، جبکہ ترقی یافتہ قومیں اسے ضرورت کے مطابق محدود رکھتی ہیں۔
ذرا ایک سادہ سا حساب دیکھ لیجیے۔ سال کے 365دن ہوتے ہیں۔ ان میں سے 90دن گرمیوں کی چھٹیاں، 104دن ہفتہ وار تعطیلات ( ہفتہ اور اتوار)، 8دن عیدین، 7عوامی چھٹیاں اور اس کے علاوہ بھی مختلف وجوہات کی بنیاد پر کئی غیر اعلانیہ چھٹیاں شامل کر لیں تو کل ملا کر تقریباً 231دن سکول بند رہتے ہیں۔ یعنی پورے سال میں صرف 134دن ایسے بچتے ہیں جب تعلیمی ادارے کھلے ہوتے ہیں۔
اب یہ 134دن بھی مکمل طور پر تعلیم کے لیے میسر نہیں ہوتے۔ ہر طالب علم ایک انسان ہے، اس کی اپنی زندگی ہے، اپنے مسائل ہیں۔ کبھی گھر میں کوئی تقریب، کبھی بیماری، کبھی ذہنی دبائو، کبھی سفر، یہ سب عوامل ان دنوں کو مزید کم کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک عام طالب علم کو سال بھر میں بمشکل 100دن ایسے ملتے ہیں جب وہ باقاعدگی سے سکول جا کر تعلیم حاصل کر سکے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا 365دن کا نصاب 100دن میں مکمل کیا جا سکتا ہے؟ کیا ایک بچہ اتنی بڑی علمی ذمہ داری کو اتنے کم وقت میں نبھا سکتا ہے؟ اور اگر نہیں، تو پھر ہم کس بنیاد پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ بہترین نتائج دے؟ یہ صرف طالب علم پر نہیں، اساتذہ پر بھی ظلم ہے جو محدود وقت میں پورا نصاب مکمل کرنے کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تعلیم سمجھنے کے بجائے ’’ رٹنے‘‘ کا عمل بن جاتی ہے۔
ایک اور پہلو بھی نہایت اہم ہے، اور وہ ہے والدین کا معاشی بوجھ۔ والدین پورے سال یعنی 365دن کی فیس ادا کرتے ہیں، مگر عملی طور پر تعلیم صرف 100دن ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ کیا یہ انصاف ہے؟ کیا ہم ایک ایسی سروس کے لیے مکمل قیمت لے رہے ہیں جو مکمل فراہم ہی نہیں کی جا رہی؟ یہ صورتحال نہ صرف تعلیمی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے بلکہ والدین کے اعتماد کو بھی مجروح کرتی ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان پہلے ہی تعلیمی میدان میں دنیا سے پیچھے ہے۔ لاکھوں نہیں بلکہ دو کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ جو بچے سکول آ بھی رہے ہیں، اگر انہیں بھی مناسب وقت اور تسلسل کے ساتھ تعلیم نہ دی جائے تو ہم کس طرح ایک تعلیم یافتہ قوم بننے کا خواب دیکھ سکتے ہیں؟ قومیں چھٹیوں سے نہیں، محنت اور تسلسل سے ترقی کرتی ہیں۔
مسئلہ صرف چھٹیوں کی تعداد کا نہیں، بلکہ ہماری مجموعی سوچ کا ہے۔ ہم ہر مسئلے کا حل ’’ چھٹی‘‘ میں تلاش کرتے ہیں۔ گرمی زیادہ ہو جائے تو سکول بند، سردی بڑھ جائے تو سکول بند، بارش ہو جائے تو سکول بند، کوئی تقریب ہو جائے تو سکول بند۔ یوں لگتا ہے جیسے تعلیمی ادارے نہیں بلکہ ایک ایسی جگہ ہو جو کسی بھی وقت بند کی جا سکتی ہے۔ اس طرزِ عمل نے تعلیم کی سنجیدگی کو ختم کر دیا ہے۔
اس مسئلے کا حل موجود ہے، اور بہت سادہ ہے، بس ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم واقعی تعلیم کو اہمیت دینا چاہتے ہیں یا نہیں۔ سب سے پہلے تو گرمیوں کی طویل چھٹیوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ 90دن کی چھٹیاں کسی بھی طرح مناسب نہیں۔ اگر موسم ایک مسئلہ ہے تو اس کا حل چھٹی نہیں بلکہ اوقات کار کی تبدیلی ہے۔ گرمیوں میں سکول کے اوقات صبح 6بجے سے 9بجے تک رکھے جا سکتے ہیں، جب موسم نسبتاً ٹھنڈا ہوتا ہے۔ اسی طرح سردیوں میں اوقات 11بجے سے 2بجے تک کیے جا سکتے ہیں تاکہ شدید سردی سے بھی بچا جا سکے۔
دوسرا اہم قدم غیر ضروری چھٹیوں کو ختم کرنا ہے۔ ہر چھٹی کا جائزہ لیا جائے کہ آیا وہ واقعی ضروری ہے یا نہیں۔ اگر نہیں، تو اسے ختم کیا جائے۔ تعلیمی اداروں کو ایک مستقل اور سنجیدہ نظام کے تحت چلایا جانا چاہیے، نہ کہ وقتی فیصلوں کے تحت۔
تیسرا پہلو یہ ہے کہ تعلیمی دنوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ دنیا کے کئی ممالک میں 200سے 220تدریسی دن ہوتے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں یہ تعداد بہت کم ہے۔ اگر ہم واقعی تعلیمی معیار کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں تدریسی دنوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔
آخر میں ایک تلخ مگر سچی بات: ہم اپنے بچوں کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں۔ ہم انہیں وہ وقت نہیں دے رہے جو ان کا حق ہے۔ ہم ان سے کامیابی کی توقع رکھتے ہیں مگر انہیں اس کے لیے ضروری مواقع فراہم نہیں کرتے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
تعلیم ایک مسلسل عمل ہے، یہ وقفوں میں نہیں پنپتی۔ اسے وقت، توجہ اور تسلسل چاہیے۔ خدارا، چھٹیوں کے اس نہ ختم ہونے والے سلسلے کو روکیے اور قوم کو پڑھنے دیجیے۔ کیونکہ اگر ہم نے آج تعلیم کو نظر انداز کیا تو کل ہمیں اس کی قیمت بہت بھاری چکانی پڑے گی۔





