سوشل میڈیا کا جھوٹا سکون
سوشل میڈیا کا جھوٹا سکون
شہر خواب ۔۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔۔
ہم نے سکون کی تلاش میں فون اٹھایا تھا۔ ہمیں لگا تھا کہ دنیا ہماری مٹھی میں آ جائے گی۔ لائک، کمنٹ، شئیر اور نوٹیفکیشن کے شور میں ہمیں محسوس ہوا کہ ہم اکیلے نہیں رہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ جتنا انسان اسکرین کے قریب آیا، اتنا ہی خود سے دور ہوتا گیا۔
رات کے دو بجتے ہیں۔ کمرے کی لائٹ بند ہے۔ فون کی سفید روشنی چہرے پر پڑ رہی ہے۔ انگوٹھا مسلسل سکرین پر چل رہا ہے۔ ایک ویڈیو، پھر دوسری، پھر تیسری، اچانک احساس ہوتا ہے کہ دو گھنٹے گزر گئے۔ فون بند ہوتا ہے تو کمرہ خاموش ہو جاتا ہے، مگر دل کے اندر شور بڑھ جاتا ہے۔ یہی سوشل میڈیا کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔ یہ انسان کو وقتی مصروفیت دیتا ہے، مستقل سکون نہیں۔
پہلے نشے پہچانے جاتے تھے۔ شراب، سگریٹ، افیون، ان کے عادی لوگوں کو معلوم ہوتا تھا کہ وہ تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ مگر یہ نیا نشہ بہت مہذب ہے۔ یہ جیب میں رہتا ہے، ہاتھ میں چمکتا ہے، اور تہذیب کے نام پر انسان کا وقت، توجہ اور ذہنی سکون کھاتا رہتا ہے۔ آج انسان صبح آنکھ کھولنے سے پہلے فون دیکھتا ہے۔ رات سونے سے پہلے آخری چیز بھی فون ہی ہوتی ہے۔ گویا اب ہماری نیند بھی الگوریدھم کے حوالے ہو چکی ہے۔ پہلے انسان تنہائی میں خود سے ملتا تھا۔ اب تنہائی آتے ہی فون اٹھا لیتا ہے۔ کیونکہ انسان خاموشی سے ڈرنے لگا ہے۔ خاموشی میں انسان کو اپنی کمزوریاں، اداسیاں اور خالی پن سنائی دیتا ہے، اور سوشل میڈیا اسی خوف سے بچنے کا سب سے آسان راستہ بن چکا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہر فرار وقتی ہوتا ہے۔
انسٹا گرام کھولیں تو لگتا ہے پوری دنیا خوش ہے۔ ہر شخص سفر کر رہا ہے، ہنس رہا ہے، کافی پی رہا ہے، کامیاب ہو رہا ہے۔ کوئی اپنی اداسی پوسٹ نہیں کرتا۔ کوئی اپنے گھر کے جھگڑے، قرض، بے خوابی یا تنہائی کی تصویر نہیں ڈالتا۔ہم دوسروں کی زندگی کے منتخب لمحے دیکھتے ہیں اور پھر اپنی پوری زندگی سے ان کا موازنہ کرتے ہیں۔ یہی موازنہ انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ایک لڑکی اپنی تصویر پر کم لائکس آنے پر پوری رات بے چین رہتی ہے۔ ایک نوجوان دوسروں کی کامیابی دیکھ کر خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے۔ ایک عام انسان روز یہ محسوس کرتا ہے کہ شاید دنیا میں سب خوش ہیں، صرف وہ اداس ہے۔
حالاں کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ جتنی چمک اسکرین پر نظر آتی ہے، اتنی ہی تھکن اکثر انسان کے اندر چھپی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا نے حسد کو خاموش بیماری بنا دیا ہے۔ اب لوگ ایک دوسرے سے نفرت نہیں کرتے، خاموشی سے خود کو کمتر محسوس کرتے ہیں۔ پہلے رشتے وقت مانگتے تھے۔ اب صرف ریپلائی مانگتے ہیں۔ پہلے دوست ملنے آتے تھے، گھنٹوں بیٹھتے تھے، خاموشیاں بھی ساتھ گزرتی تھیں۔ اب ’’ یار کبھی ملتے ہیں‘‘ لکھ کر لوگ مہینوں غائب رہتے ہیں۔ رشتے اب آن لائن موجود ہیں، زندگی میں نہیں۔
ہمارے پاس سیکڑوں فالوورز ہیں مگر دکھ سننے والا کوئی نہیں۔ ہزاروں نمبر موبائل میں محفوظ ہیں مگر رات کے دو بجے ایک کال کرنے سے پہلے انسان سوچتا ہے کہ کس کو پریشان نہ کرے۔ یہ تعلق نہیں، رابطے ہیں۔ اور رابطے ہمیشہ تعلق نہیں ہوتے۔ ہم اپنے حال سے اس قدر کٹ جاتے ہیں کہ جہاں بیٹھے ہوتے ہیں، وہیں سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ پاس بیٹھی بیوی اجنبی لگتی ہے، ساتھ کھیلتا بیٹا دور پڑ جاتا ہے، بیٹی کی خاموشی سنائی نہیں دیتی، اور بہن کی پکار بے معنی ہو جاتی ہے۔ اور ہم رابطہ اس سے جوڑے رکھتے ہیں جس کا نام تک ہمیں معلوم نہیں، جس کی صورت دیکھی نہیں، جس کا ٹھکانہ تک پتہ نہیں۔
سب سے بڑا نقصان شاید ہماری توجہ کا ہوا ہے۔ انسان اب ٹھہر نہیں سکتا۔ ایک منٹ کی ویڈیو لمبی لگتی ہے۔ دو صفحے پڑھنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ نماز میں دھیان بھٹکتا ہے۔ کتاب کھولتے ہی ہاتھ فون کی طرف بڑھ جاتا ہے۔کیونکہ دماغ اب مسلسل نئے محرکات کا عادی ہو چکا ہے۔ ہر چند سیکنڈ بعد نئی ویڈیو، نئی خبر، نیا چہرہ، نیا شور، دماغ کو سکون نہیں، مسلسل حرکت چاہیے۔
اور یہی مسلسل حرکت انسان کی اندرونی گہرائی کو ختم کر رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سوشل میڈیا مفت استعمال کر رہے ہیں، مگر حقیقت میں سوشل میڈیا ہمیں استعمال کر رہا ہے۔ یہ سب ایک خاموش نظام کے تحت ہوتا ہے جسے الگوریدھم کہتے ہیں۔ یہ ہماری پسند، ہماری کمزوری اور ہمارے جذبات کو پڑھ کر ہمیں وہی دکھاتا ہے جس میں ہم زیادہ دیر ٹھہر جائیں۔
یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا نظام ہے جو ہماری سوچ سے پہلے ہماری خواہش کو پہچان لیتا ہے۔تخلیق تنہائی مانگتی ہے۔
سوچ خاموشی مانگتی ہے۔
محبت توجہ مانگتی ہے۔
اور عبادت یکسوئی مانگتی ہے۔
مگر سوشل میڈیا انسان سے یہ چاروں چیزیں چھین رہا ہے۔
ایک لکھنے والا لکھنے بیٹھتا ہے مگر دس منٹ بعد نوٹیفکیشن دیکھ لیتا ہے۔ ایک طالب علم کتاب کھولتا ہے مگر جلد ہی یوٹیوب پر چلا جاتا ہے۔ ایک باپ بیٹے کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہے مگر نظریں فون پر ہوتی ہیں۔ ایک بیوی بات کر رہی ہوتی ہے اور شوہر صرف ’’ ہاں، ہوں‘‘ کہہ رہا ہوتا ہے۔ جسم ساتھ ہوتے ہیں، توجہ کہیں اور ہوتی ہے۔ بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ایک آٹھ سال کا بچہ اب گلی سے زیادہ اسکرین کو جانتا ہے۔ اسے مٹی میں کھیلنے سے زیادہ موبائل گیم میں دلچسپی ہے۔ اس کی انگلیاں تیز ہو گئی ہیں مگر تخیل کمزور ہو گیا ہے۔ پہلے بچے لکڑی کو بندوق بنا لیتے تھے، چادر کو خیمہ اور صحن کو دنیا سمجھ لیتے تھے۔ اب انہیں ہر چیز اسکرین پر بنی بنائی چاہیے۔ یہ صرف کھیل کی تبدیلی نہیں، ذہن کی ساخت کی تبدیلی ہے۔ بچپن صبر سے بنتا ہے۔ اسکرین جلد بازی سکھاتی ہے۔ بچپن تجربہ مانگتا ہے۔ اسکرین صرف تماشہ دیتی ہے۔ اسی لیے نئی نسل زیادہ بے چین، زیادہ حساس اور زیادہ تنہا ہوتی جا رہی ہے۔سب سے خطرناک کھیل سیاست اور کاروبار کا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں ہم سوشل میڈیا مفت استعمال کر رہے ہیں، مگر حقیقت میں سوشل میڈیا ہمیں استعمال کر رہا ہے۔ آپ کس پوسٹ پر رکتے ہیں، کس بات پر غصہ کرتے ہیں، کس چیز پر ہنستے ہیں، کس ویڈیو کو بار بار دیکھتے ہیں، سب ریکارڈ ہو رہا ہے۔ پھر الگوریدھم آپ کو وہی دکھاتا ہے جو آپ کو زیادہ دیر روکے رکھے۔ اور انسان سب سے زیادہ کس چیز پر رکتا ہے؟، غصے پر۔ نفرت پر۔ خوف پر۔
اسی لیے جھگڑے وائرل ہوتے ہیں۔ اسی لیے نفرت انگیز مواد تیزی سے پھیلتا ہے۔ کیونکہ آپ کی بے چینی کسی اور کا کاروبار ہے۔ سیاست دان بھی یہ راز سمجھ چکے ہیں۔ اب وہ مسائل کم، جذبات زیادہ بیچتے ہیں۔ ایک اشتعال انگیز جملہ ہزار دلیلوں پر بھاری پڑتا ہے۔ یوں آہستہ آہستہ سچ کمزور اور شور طاقتور ہو گیا۔ سب سے بڑا نقصان شاید روحانی زندگی کو ہوا ہے۔ پہلے انسان فجر کے بعد خاموش بیٹھتا تھا۔ سوچتا تھا۔ دعا کرتا تھا۔ ذکر کرتا تھا۔ اب وہ آنکھ کھلتے ہی فون دیکھتا ہے۔
چند لمحوں میں دنیا بھر کی خبریں، ویڈیوز، تنازعات اور شور اس کے دماغ میں داخل ہو جاتے ہیں۔ پھر وہ سارا دن بے نام تھکن محسوس کرتا رہتا ہے۔ نماز میں دل اس لیے نہیں لگتا کیونکہ دل مسلسل منتشر رہنے کا عادی ہو چکا ہے۔ روح خاموشی مانگتی ہے، اور ہم نے اپنی زندگی شور کے حوالے کر دی ہے۔ حل کیا ہے؟، کیا فون توڑ دینا چاہیے؟، نہیں۔مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، اس کی غلامی ہے۔ فون استعمال کریں مگر اس کے غلام نہ بنیں۔ روز کچھ وقت ایسا رکھیں جب کوئی اسکرین نہ ہو۔ کتاب پڑھیں۔ چہل قدمی کریں۔ ماں کے پاس بیٹھیں۔ دوست سے ملیں۔ اپنے بچوں کے ساتھ کھیلیں۔ خاموشی میں بیٹھنا سیکھیں۔ کیونکہ سکون اسکرین پر نہیں ملتا۔ سکون انسانی قربت میں ملتا ہے۔ ایک سچے دوست میں۔ ماں کی دعا میں۔ باپ کی آواز میں۔ بچے کی ہنسی میں۔ اور اس خاموش لمحے میں جب انسان خود سے بھاگنا چھوڑ دیتا ہے۔
سوشل میڈیا برا نہیں، مگر حد سے بڑھ جائے تو ہر چیز انسان کو اندر سے خالی کر دیتی ہے۔ اگر انسان نے وقت پر خود کو نہ روکا تو ایک دن اس کے پاس ہزاروں فالوورز ہوں گے، مگر دکھ بانٹنے والا ایک انسان بھی نہیں ہوگا۔ اور شاید اُس دن اُسے پہلی بار احساس ہوگا کہ سکون کبھی اسکرین میں تھا ہی نہیں۔
اب آخر میں میرا افسانچہ۔۔۔
نوٹیفکیشن
رات کے پچھلے پہر اُس نے فون بند کیا اور لمبی سانس لی۔
سارا دن اسکرین پر لوگوں کی خوشیاں گن گن کر وہ اپنی زندگی سے اُکتا چکا تھا۔ کمرے میں نیلے اجالے کے سوا کچھ نہ تھا۔
اچانک کونے سے ماں کی ہلکی کھانسی سنائی دی۔
وہ چونکا۔ کئی مہینے ہو گئے تھے، اس نے یہ آواز غور سے نہیں سنی تھی۔
فون ہاتھ سے پھسل کر بیڈ پر رہ گیا، اور وہ پہلی بار بغیر اسکرین کے ماں کے پاس جا بیٹھا۔
ماں نے چارپائی پر کروٹ بدلی، آنکھیں نیم وا کر کے دیکھا۔
حیرت سے بولی، ’’ خیریت ہے؟ آج فون نہیں چل رہا؟‘‘، وہ ہلکا سا مسکرایا۔ ماں کے سرد ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ہتھیلی کی کھردری لکیروں پر انگلی پھیری، جیسے برسوں بعد کوئی گمشدہ نقشہ پڑھ رہا ہو۔
آہستہ سے بولا ، امی، آج پتا چلا ہے کہ سب سے خوبصورت نوٹیفکیشن تو آپ کی آواز تھی، جسے میں برسوں سے میوٹ کیے بیٹھا تھا۔
ماں کچھ نہ بولی۔ صرف اس کے ہاتھ کو دبا دیا۔
کمرے میں ایک بار پھر کھانسی کی آواز گونجی، مگر اس بار وہ آواز شور نہیں لگی۔ سکون لگی۔





