CM RizwanColumn

مہنگائی ایڈونچر کا انعام، عوام کا کہرام

مہنگائی ایڈونچر کا انعام، عوام کا کہرام

تحریر : سی ایم رضوان

ایران امریکہ جاری کشیدگی کے حوالے سے عباس عراقچی کا تازہ بیان ہے کہ امریکہ سفارت کی آڑ میں ایڈونچر کرتا ہے۔ اسی طرح اگر پاکستان کے مسائل کی بات کی جائے تو یہ کہنا بالکل درست ہو گا کہ ایران امریکہ کشیدگی کے بہانے حکومت پاکستان اپنے عوام کے ساتھ مسلسل مہنگائی ایڈونچر کرنے میں مصروف ہے۔ حکومت کا تازہ ترین مہنگائی ایڈونچر یہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 8مئی 2026ء کو اضافہ کر دیا گیا۔ جس کا اطلاق اسی رات 12بجے سے ہو چکا ہے۔ 14روپے 92پیسے فی لٹر اضافے کے بعد اب پٹرول 414روپے 78 پیسے میں اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 15روپے فی لٹر اضافے کے بعد 414روپے 58پیسے فی لٹر کے حساب سے فروخت ہو گا۔ یہ اضافہ ایک ہفتے کے لئے کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھائو، ایران امریکہ تنازع کے باعث یہ اضافہ کرنا پڑا تاکہ عالمی منڈی کے اثرات کو مقامی سطح پر منتقل کیا جا سکے، تاہم عوامی سطح پر اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافے کا براہ راست اثر نہ صرف عام آدمی کی جیب پر پڑتا ہے بلکہ یہ پوری معیشت میں ایک ’’ ڈومینو ایفیکٹ‘‘ (Domino Effect)پیدا کرتا ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے، تو اس کے اثرات محض گاڑی چلانے تک محدود نہیں رہتے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں جو کہ ٹرانسپورٹ والوں نے اپنے طور اسی رات بڑھا بھی دیئے ہیں۔ اسی طرح مال بردار گاڑیوں کے کرائے بڑھ جاتے ہیں۔ سبزیوں، پھلوں اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ رکشہ، ٹیکسی اور بسوں کے کرایوں میں فوری اضافہ ہوتا ہے، جو خاص طور پر دیہاڑی دار طبقے اور طلبہ کے لئے شدید ذہنی اور مالی اذیت کا باعث بنتا ہے۔ دوسرا یہ کہ پاکستان میں بجلی کا ایک بڑا حصہ فرنس آئل اور ڈیزل سے پیدا کیا جاتا ہے۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے یہ بوجھ بھی آخر کار صارفین کے بجلی کے بلوں میں منتقل ہو جاتا ہے، چونکہ کارخانوں اور فیکٹریوں میں مشینری چلانے کے لئے ڈیزل کا استعمال ہوتا ہے لہٰذا پیداواری لاگت بڑھنے سے مقامی مصنوعات مزید مہنگی ہو جاتی ہیں۔ مہنگائی کے اس تسلسل کے ساتھ جھٹکوں سے متوسط اور غریب طبقے کی قوتِ خرید مزید کم ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے لوگ اپنی بنیادی ضروریات مثلاً تعلیم اور صحت کے بجٹ میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ حکومتیں مالیاتی خسارہ پورا کرنے کے لئے لیوی کا سہارا لیتی ہیں، لیکن ایک ایسے وقت میں جب عالمی منڈی میں قیمتیں مستحکم ہوں، مقامی سطح پر ٹیکسز کا اضافہ عوامی سطح پر شدید ردِعمل اور معاشی بے چینی کا سبب بنتا ہے۔ عوام کی یہ دہائی محض جذباتی نہیں بلکہ ان تلخ معاشی حالات کی عکاس ہے جہاں آمدن اور اخراجات کا توازن بگڑ چکا ہے۔ ان حالات میں حکومت کو ٹیکسوں کے لئے پٹرولیم کے بجائے دیگر شعبوں پر توجہ دینی چاہیے لیکن حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے عوام کی تقدیر سے خطرناک کھیل کھیلنے میں مصروف ہے۔ حکومت کی اس ظالمانہ پالیسی کے نتیجے میں چونکہ آئی ایم ایف کے تقاضے پورے ہو رہے ہیں لہٰذا اس نے حکومت پاکستان کے مہنگائی ایڈونچر کے عوضانہ میں انعامات کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ جن کا عوام کو ایک دھیلے کا بھی فائدہ نہیں ہوتا۔ بہرحال آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے اسی 8مئی 2026ء کو پاکستان کے معاشی پروگرام کا تیسرا جائزہ کامیابی سے مکمل کر کے پاکستان کے لئے تقریباً 1.1ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ 1.1ارب ڈالر کی اس قسط کے علاوہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (RSF)کے تحت تقریباً 220ملین ڈالر کی رقم بھی فوری طور پر جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے اعتراف کیا کہ ایران اور خطے کی صورتحال کے باوجود پاکستان نے اپنی معاشی پالیسیوں پر سختی سے عمل درآمد کیا اور اپنے عوام کو افلاس کے گڑھے میں پھینک کر میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھا جبکہ موجودہ مالی سال میں پاکستان کی شرح نمو 3.6%رہنے کی توقع ہے، جو کہ علاقائی حالات کے تناظر میں ایک مثبت اشارہ ہے۔ تاہم، مشرقِ وسطیٰ جنگ کے طویل مدتی اثرات اور تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کی وجہ سے آئی ایم ایف نے اگلے سال کے لئے گروتھ ریٹ کا تخمینہ4.1%سے کم کر کے 3.5%کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ کی شدت بڑھتی ہے تو توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں رکاوٹیں پاکستان کے لئے مزید چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں۔ اسی لئے عالمی ادارے نے پاکستان کو اپنی اصلاحات کا عمل جاری رکھنے اور بیرونی جھٹکوں سے بچنے کے لئے مالیاتی ذخائر کو مزید بہتر بنانے کی تاکید کی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس وقت عالمی اور مقامی سطح پر معاشی حالات جس نہج پر ہیں، وہاں کسی بھی لیڈر اور حکمران کے لئے معیشت کو ’’ انقلابی سہارا‘‘ دینا ایک کڑا امتحان ہے۔ اگر ہم ٹرمپ کے پسندیدہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر یا کسی ایسی ہی بااثر شخصیت کے حوالے سے یہ بات کریں کہ جو عوامی مقبولیت بھی رکھتی ہو اور جس کی بات کو عالمی فورمز پر بھی سنجیدگی کے ساتھ اہمیت دی جا رہی ہو، تو ایسی شخصیت کی جانب سے معیشت کی بحالی کے لئے تزویراتی اقدامات اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ تسلیم کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کے سیلاب کا سبب بنتی ہیں لیکن ایک مضبوط نظم و ضبط رکھنے والی قیادت سپلائی چین سے مڈل مین اور ذخیرہ اندوزوں کا خاتمہ کر کے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں فوری کمی لا سکتی ہے۔ اس سے عوام کو براہِ راست ریلیف ملتا ہے، چاہے عالمی سطح پر پٹرول مہنگا ہی کیوں نہ ہو۔

ان حالات میں جبکہ ملکی معیشت اور عام پاکستانی کی کے گھر کا بجٹ دونوں مصیبت اور تباہی کے دہانے پر ہیں جس کی بڑی وجہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہی۔ ان حالات میں پٹرول پر انحصار کم کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر سولر اور ونڈ انرجی جیسے منصوبوں کی سرپرستی کرنا بھی ضروری ہے۔ ظاہر ہے کہ جب توانائی کی پیداوار کے لئے درآمدی ایندھن کی ضرورت کم ہو گی، تو ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دبائو کم سے کم ہو گا اور معیشت مستحکم ہو گی۔ دوسرا یہ کہ چونکہ پاکستانی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے۔ اس تناظر میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سطح کی قیادت بنجر زمینوں کو آباد کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے زرعی پیداوار میں اضافہ کر کے نہ صرف ملک کو خود کفیل بنا سکتی ہے بلکہ برآمدات کے ذریعے معیشت کو سہارا دے سکتی ہے۔ لاک ڈائون کے اثرات کو ختم کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر تعمیراتی منصوبے شروع کرنا بھی ایک آزمودہ حل ہے۔ اس سے دیہاڑی دار طبقے کو فوری روزگار ملتا ہے اور مارکیٹ میں پیسے کی گردش بڑھتی ہے، جو جمود کا شکار معیشت میں جان ڈال دیتی ہے۔ ایک مقبول اور طاقتور لیڈر اپنی ساکھ کی بنیاد پر بیرونِ ملک مقیم شہریوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر سکتا ہے۔ جب نظام میں شفافیت نظر آتی ہے، تو سرمایہ کاری بڑھتی ہے جو ملکی معیشت کے لئے آکسیجن کا کام کرتی ہے۔ مختصر یہ کہ معیشت کو انقلابی سہارا دینے کے لئے صرف مقبولیت کافی نہیں۔

یہ درست کہ معرکہ حق کی کامیابی ایک تاریخی فتح اور قابل قدر، قابل ذکر اور قابل یادداشت ہے لیکن اس جشن کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی مدنظر رہے کہ حکومت کے مہنگائی ایڈونچر کی وجہ سے غریبوں کے چولہے بجھتے جا رہے ہیں۔ اس وقت سخت گورننس، خود انحصاری اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کو پٹرول اور مہنگائی کے بوجھ سے مستقل نجات دلائی جا سکے۔

موجودہ دور میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اکانومی بھی اس معاشی بحران سے نکلنے میں روایتی طریقوں سے زیادہ مددگار ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ڈیجیٹل اکانومی اور دفاعی ٹیکنالوجی محض فوجی یا تکنیکی ضرورت نہیں، بلکہ معاشی خود مختاری کا طاقتور ستون بن چکے ہیں جبکہ روایتی طریقے جیسے قرض لینا یا صرف زراعت پر انحصار کرنا اب اتنی تیزی سے نتائج نہیں دیتے جتنی تیزی سے ٹیکنالوجی معیشت کو بدل سکتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل معیشت کسی بھی ملک کے لئے کم خرچ بالا نشین والا معاملہ ہے۔ پاکستان جیسے نوجوانوں کی زیادہ تعداد والے ملک کے لئے آئی ٹی برآمدات زرِ مبادلہ کمانے کا تیز ترین ذریعہ ہیں۔ اس کے لئے نہ تو بڑے کارخانوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی پٹرول کی۔ صرف ایک لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ سے لاکھوں ڈالر ملک میں لائے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے بھی معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکتی ہے۔ یعنی جب لین دین آن لائن ہو گا، تو بدعنوانی بھی کم ہو گی اور حکومت کے لئے ٹیکس جمع کرنا آسان ہو جائے گا، جس سے معاشی بحران میں کمی آئے گی۔ دفاعی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کے ساتھ ساتھ اس کی کمرشلائزیشن بھی اہمیت کی حامل ہے۔ جدید دور میں دفاعی صنعت صرف جنگ کے لئے نہیں بلکہ معیشت کو سہارا دینے کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے۔ اگر کوئی ملک جدید دفاعی آلات جیسے ڈرونز، سافٹ ویئر، یا مواصلاتی نظام خود بنا کر دوسرے ممالک کو فروخت کرے، تو یہ اربوں ڈالر کے منافع کا ذریعہ بنتا ہے۔ دفاع کے لئے بنائی گئی ٹیکنالوجی اکثر عام زندگی میں بھی انقلاب لاتی ہے۔ مثال کے طور پر انٹرنیٹ اور جی پی ایس پہلے فوجی مقاصد کے لئے بنے تھے، لیکن آج وہ عالمی معیشت کی بنیاد ہیں۔ اسی طرح دفاعی شعبے کی مزید تحقیق سے بھی مقامی صنعتوں کو جدید بنایا جا سکتا ہے۔ روایتی طریقوں میں فائلیں ایک دفتر سے دوسرے دفتر جاتی تھیں جس میں مہینوں لگتے تھے جبکہ اب ڈیجیٹل اکانومی ای گورننس کے ذریعے وقت بچاتی ہے، جس سے کاروبار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جب سرمایہ کار کو پتہ ہو کہ اسے این او سی لینے کے لئے دھکے نہیں کھانے پڑیں گے، تو وہ زیادہ سرمایہ کاری کرتا ہے اور ملکی معیشت کو بڑھاوا ملتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ روایتی طریقے معیشت کی بنیاد ہو سکتے ہیں، لیکن ڈیجیٹل اکانومی اور ٹیکنالوجی وہ راکٹ فیول ہیں جو معیشت کو تیزی سے بحران سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔ اگر ہمارا موجودہ تعلیمی نظام نوجوانوں کو اس ڈیجیٹل انقلاب کے لئے تیار کر رہا ہے، یا ہمیں نصاب میں بڑی تبدیلیاں میسر آ گئی ہیں تو یہ انقلاب کوئی مہنگائی اور کوئی جنگ نہیں روک سکتی لیکن اگر حکومت یہ سب کرنے کی بجائے محض مہنگائی ایڈونچر کے ذریعے ہی آئی ایم ایف سے انعام لیتی رہی تو عوام کو بھوکوں مرنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

سی ایم رضوان

جواب دیں

Back to top button