لفظوں کو تحریریں سہنی پڑتی ہیں
لفظوں کو تحریریں سہنی پڑتی ہیں
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔۔
کتاب الٰہی کہتی ہے’’ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ‘‘۔
اب یہ انسان پر ہے کہ موت کا یہ جام تعصب کی تلخی کھول کر پیتا ہے یا الفت کی چاشنی ملا کر کہ مہلت بھی اسے حاصل ہے اور انتخاب کا حق بھی ( مجھے لگتا ہے جس کے حلق میں خوش گفتاری مٹھاس بن کر گھلی ہو ، موت کبھی اس کے گلے میں تلخی بن کر نہیں اترتی ) کچھ یہی حال لفظوں کا بھی ہے ۔ کسی کا کوئی کومل سا جملہ اسے لاکھوں دلوں میں زندہ رکھتا ہے تو کسی کی زبان کی ہلکی سی بے احتیاطی اسے تاریخ کے کوڑے دان میں ’’ رول ‘‘ دیا کرتی ہے ۔ شاعر کو شعروں کا انتخاب رسوا کرتا ہے تو نثر نگار اور باتونی آدمی کو اس کا لکھا یا بولا گیا کوئی ایک جملہ خلق کی نظروں سے ہمیشہ کے لئے یوں گراتا ہے کہ بندے کی روح اوپر اٹھ جاتی ہے گرا ہوا مقام کبھی بلند نہیں ہو پاتا۔
کہتے ہیں اللہ کو زبان کی سختی پسند نہیں جبھی تو اس خالقِ خشک و تر نے زبان میں کوئی ہڈی نہیں رکھی ۔ پھر بھی کتنی عجیب بات ہے کہ یہ ہڈیوں کی یہ عمارت ایک چمڑے کے لوتھڑے پر استوار ہے ۔ اور کیوں نہ ہو کسی کے بارے میں ہمارا پہلا تاثر اس کی اخلاقی خوبصورتی کا ہی تو پرتو ہوتا ہے۔ اخلاق کا پودا نرم خوئی کی کھاد سے پروان چڑھتا ہے اور اسے تسلسل کا موسم نصیب ہو جائے تو اسے چھتنار درخت بننے سے کوئی روک نہیں پاتا۔
پھر یہ شجر سایہ دار ایک عالم کو اپنی ٹھنڈی چھائوں کا اسیر بنائے رکھتا ہے ۔
سو برگد کا یہ درخت تا دیر محسن نقوی کے الفاظ میں ’’ دھوپ پھانکتا اور چاندنی اگلتا‘‘ رہتا ہے۔
خوش خلقی کا اسیر انسان برگد کے اس تناور درخت کی ماند ہوتا ہے جس کی ہمسری کسی طور ممکن نہیں کہ برگد کے درخت کے نیچے کبھی کوئی دوسرا درخت پروان نہیں چڑھ پایا ۔
لفظوں کے ضمن میں جناب امیر کا یہ فرمان آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے ’’ لفظ تمہارے غلام ہیں جب تک انہیں استعمال نہیں کر لیتے اور جب ایسا کر لیتے ہو تو تم ان کے غلام ہوتے ہو ‘‘۔
کسی بھی قوم پر جب زوال آتا ہے تو سب سے پہلے اخلاق کی ڈھال اس کے ہاتھوں سے پھسل کر گرتی ہے اور اسے احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ اپنی متاع حیات مٹی میں خود ’’ رول‘‘ چکی ہے ۔ پھر رفتہ رفتہ عوام کے آئینہ دل میں خود اپنے ہی ہم وطنوں کے لئے بال سا آ جاتا ہے پھر یہ بال، ابال بن کر خود ان کے پیدا کردہ مال کو تاریخ کی بد ترین مثال بنا دیا کرتا ہے۔
آج وطن عزیز مسائل و مصائب کے جس گرداب میں پھنسا ہے اس سے اس قوم کا بچہ بچہ بخوبی واقف ہے ۔ لیکن افسوس حکمران انا کی جنگ میں یہ تک بھلا بیٹھے ہیں ۔
’’ ہم کس لیے آئے تھے کیا کر چلے‘‘۔
ہمارا اخلاقی معیار کتنا گر چکا ہے اس کا اندازہ ہمارے ہاں کے اہم قلم اور اہلِ صحافت حضرات کی باہمی دھینگا مشتی سے بخوبی ہو جاتا ہے۔
سوشل میڈیا کو جانے دیجیے ، الیکٹرانک میڈیا پر لوگوں کی نجی زندگیوں کو ڈسکس کیا جا رہا۔ آج آزادی اظہار رائے کا مطلب دوسروں پر کیچڑ اچھالنا سمجھا جاتا ہے۔
ملک کے سب سے بڑے ٹی وی چینل پر مانیکا کے ’’ کھلے ڈھلے‘‘ انٹرویو پر صرف ایک جملہ کافی ہے ’’ جو مکا لڑائی کے بعد یاد آئے اسے اپنے منہ پر مار لینا چاہیے ‘‘ اور اس نے اپنے منہ پر مکا نہیں مارا مکے برسائے ہیں۔
کاش وہ مولا علیؓ کے اس فرمان پر عمل کرتا کہ فتنے کے وقت اونٹ کے بچے جیسا کردار ادا کرو کہ نہ تمہاری سواری کی جا سکے اور نہ قربانی ۔
سچ ہے، لفظ تمہارے غلام ہیں جب تک انہیں استعمال نہیں کر لیتے اور جب ایسا کر لیتے ہو تو تم ان کے غلام ہوتے ہو۔ اگر انسان ان کے غلام بنائے جانے کے حق میں نہیں تو دوست ہی بنا لے۔ اس میں آخر کیا قباحت ہے ؟
ایک حدیث کے مطابق ایمان کی سلامتی میں خاموشی کا حصہ دس میں سے نو کے برابر ہے۔ جناب ختمی مرتبتؐ نے اپنی زبان کو پکڑ کر بتایا کہ ایمان سارے کا سارا اس میں ہے۔
آپ نے اکثر بد اخلاق اور منہ پھٹ لوگوں کو یہ کہتے سنا ہو گا’’ زبان کے برے ضرور ہیں، پر دل کے صاف ہیں ‘‘۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آدمی دل کا صاف ہو مگر زبان کا نا صاف۔
میرے ایک افسانے ’’ منہ پھٹ ‘‘ میں ایک شوہر اپنے ماں سے کہتا ہے کہ آپ کی بھانجی ہے اور آپ کی وجہ سے اس گھر میں آئی ہے۔ میں مانتا ہوں وہ زبان کی کچھ تلخ ہے مگر دل کی بڑی اچھی ہے۔ تو ماں جل کے کہتی ہے، کاش زبان کی اچھی ہوتی، دل کی بے شک بری ہوتی ہے۔
یہ بات وزن دار ہے کہ بندہ زبان کا اچھا ہو۔ دل اچھا ہے یا برا، کون جانے، کس نے دیکھا ہے ؟
ہماری زبان ہی سے تو ہمارے باطن کا پتہ چلتا ہے۔ ہم اگر اتنے ہی منہ پھٹ اور صاف گو ہیں تو ہمیں ان سے بھی ویسا ہی برتائو کرنا چاہیے جو ہم سے رتبے اور عہدے میں بڑے ہیں۔ تب ہماری صاف گوئی کہاں جا سوتی ہے۔
ایک انتہائی نفیس کتاب ’’ اخلاق عملی ‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ تین سو اسی صفحات میں سے دو سے زائد صفحات زبان پر تھے۔ عنوان تھا ’’ زبان کی آفتیں ‘‘ اس سے پتہ چلا کہ خوش اخلاقی کس قدر اہمیت کی حامل ہے۔
جناب رسالت مآبؐ نے اپنی بعثت کا مقصد مکارم اخلاق کی تکمیل قرار دیا تھا۔
’’ اور بے شک آپ اخلاق کے عظیم مرتبے پر فائز ہیں ‘‘۔
آپؐ کے حسن خلق نے انہیں مہر محبت کے حسین بندھن میں باندھ رکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ عرب کے بدو آپؐ کی تربیت کے سبب شائستگی کے امام بن گئے۔
’’ ( اے رسولؐ) یہ مہر الٰہی ہے کہ آپؐ ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے اور اگر آپؐ تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ لوگ آپؐ کے پاس سے منتشر ہو جاتے، پس ان سے درگزر کریں اور ان کے لیے مغفرت طلب کریں اور معاملات میں ان سے مشورہ کر لیا کریں، پھر جب آپؐ عزم کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کریں، بے شک اللہ بھروسہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘ ۔
پیارے دوست اور نامور شاعر افتخار شاہد نے مجھے زبان و بیان میں احتیاط کی نصیحت کرتے ہوئے منظوم انداز میں کہا تھا ’’ کبھی کوئی ایسی تحریر نہ لکھنا کہ تمہارے لفظوں کو تمہاری تحریر کا بوجھ سہنا پڑے‘‘۔
ان کا لازوال شعر آ پ کی نظر کرتا ہوں۔ دعا ہے اللہ ہم سب کو زبان پر قابو کی توفیق سے نوازے کہ ہماری ہڈیوں کی یہ عمارت ایک چمڑے کے لوتھڑے پر ہی تو استوار ہے۔
جسموں کو ملبوس اٹھانے پڑتے ہیں
لفظوں کو تحریریں سہنی پڑتی ہیں
سالن میں نمک ( ترجمہ)
محمد مبشر انوار
قارئین کرام! آج کی تحریر شہر ریاض میں مقیم ایک نامور پاکستانی کاروباری شخصیت، متعدد و مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری و اہم انتظامی امور سے متعلق، کی آبزرور میں شائع شدہ ایک تحریر ’’ سالن میں نمک‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ لکھاری محمد غزالی واسطی ہیں، جو خلیج کے موجودہ حالات کے تناظر میں پاک سعودی تعلقات پر تاریخی حوالوں سے اپنا درد دل قوم کے سامنے کھول رہے ہیں تا کہ عوام کی یادداشت ایک بار پھر تازہ ہو جائے کہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان رشتہ کتنا مضبوط اور کتنا گہرا ہے۔ اس کا اندازہ آپ کو تحریر کا ترجمہ پڑھ کر بخوبی ہو جائے گا کہ دیار غیر میں موجود ہر پاکستانی، دونوں ممالک کے درمیان رشتہ کو کیسے دیکھتا ہے قطع نظر اس کی سماجی حیثیت کے جو،ان تعلقات کے حوالے سے ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے اور دیار غیر میں بسنے والے پاکستانیوں ،بالخصوص سعودی عرب، کے دلوں کی دھڑکن دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے ایسے ہی جذبات رکھتی ہے۔ تحریر روایتی انداز سے ہٹ کر ہے اور اس کو خالصتا پروفیشنل انداز میں یوں تحریر کیا گیا ہے کہ ہر اہم گوشہ کا نہ صرف احاطہ الگ ہے بلکہ الگ عنوان کے تحت باقاعدہ حوالوں سے پیش کیا گیا ہے، ترجمہ قارئین کی نذر ہے:
ایک رشتہ جو شروع ہونے سے پہلے لکھا جا چکا تھا
پاکستان کی ،سعودی عرب میں خدمات کا معاملہ،ایسے ہی ہے جیسے کسی سالن میں نمک کا معاملہ ہو کہ سالن میں حل ہونے کے بعد نمک بذات خود اوجھل ہوجاتا ہے مگر اس کا احساس سالن میں موجود رہتا ہے جبکہ اس کی عدم موجودگی سے پورا پکوان بے جان ہو جاتا ہے۔ سعودی عرب کے سالن میں پاکستان کی حیثیت اسی نمک کی ہے،لازمی ،منکسر المزاج،ناقابل تلافی جبکہ سعودی عرب نے اس نمک کو صلہ سخاوت،گرم جوشی ، گہرائی اور ہر اس چیز سے بہتر دیا جو پاکستان اپنے ساتھ لایا ۔ پاکستان کی خدمات سعودی تعمیر و ترقی میں کسی بھی طرح نمک سے کم نہیں کہ پاکستان نے انتہائی خاموشی سے اپنا کردار ادا کیا مگر اس کا اثر ہر شعبہ ہائے زندگی میں بخوبی نظر آتا ہے۔
دونوں نے مل کر وہ کچھ تخلیق کیا جو اکیلے کوئی بھی نہیں بنا سکتا تھا۔
کہیں ریاض میں ایک پاکستانی انجینئر اُس عمارت کے نقشے دیکھ رہا ہے جو اُس کی زندگی سے بھی آگے تک قائم رہے گی۔ جدہ میں ایک پاکستانی ڈاکٹر اُس مریض کی دیکھ بھال کر رہا ہے جس نے اپنی جان اُس کے ہاتھوں میں سونپ دی ہے۔ مکہ میں ایک پاکستانی مزدور اُس راستے پر پتھر جما رہا ہے جس پر لاکھوں لوگ چلیں گے۔ اِن میں سے کسی کا نام کسی تختی پر کندہ نہیں ہوگا۔ لیکن اگر انہیں نکال دیا جائے تو کچھ بنیادی غائب ہو جاتا ہے۔آپ کو سالن میں نمک نظر نہیں آتا۔ مگر جس لمحے وہ غائب ہو جائے، پورا پکوان بے جان ہو جاتا ہے۔ یہی ہے پاکستان کی حیثیت سعودی عرب میں۔ لازمی۔ منکسر المزاج۔ ناقابلِ تلافی۔
تیل اور دولت سے پہلے، بھائی چارہ تھا
زیادہ تر اتحاد بورڈ رومز میں طے ہوتے ہیں۔ یہ رشتہ دل میں قائم ہوا تھا۔
جب کوئی فائدہ حاصل کرنے کو نہیں تھا، اُس وقت بھی یہ دو قومیں ایک دوسرے کو پہچان چکی تھیں۔ نہ معاہدوں سے، نہ سفارت کاری سے۔ بلکہ ایمان سے، گرمجوشی سے، اور ایک ایسے احساس سے جسے لفظوں کی حاجت نہیں۔
ایک پاکستانی نے ہمیشہ مکہ کی طرف دیکھا ہے، ہر مقدس شے کے گھر کی طرف۔ ایک سعودی نے ہمیشہ پاکستان کو صرف شراکت دار نہیں، بلکہ ایک بھائی کے طور پر دیکھا ہے۔ پہلے یہ احساس آیا۔ باقی سب کچھ اس کے پیچھے چلتا ہوا آیا۔
جب اگست 1947ء میں پاکستان وجود میں آیا تو سعودی عرب اُن ابتدائی ممالک میں سے تھا جنہوں نے خوش آمدید کہا۔ مگر یہ داستان ایک سال پہلے شروع ہو چکی تھی۔ 1946ء میں، جب پاکستان ابھی کسی نقشے پر موجود نہ تھا، شہزادہ فیصل بن عبدالعزیز نے نیو یارک میں مسلم لیگ کے وفد کے لیے اپنے دروازے کھولے اور اُن کے موقف کے ساتھ کھڑے ہوئے، اُس وقت جب دنیا نے ابھی یہ فیصلہ ہی نہیں کیا تھا کہ پاکستان وجود میں آئے گا بھی یا نہیں۔
اس سے بھی پہلے، شاہ عبدالعزیز آل سعود نے مسلم لیگ بنگال ریلیف فنڈ میں ذاتی عطیہ دیا تھا۔ کسی سیاسی اشارے کے طور پر نہیں۔ ایک انسانی اشارے کے طور پر۔
یہ وہ نمک تھا جو پکوان پکنے کے شروع ہونے سے بھی پہلے ڈل چکا تھا۔
( حوالہ: پاکستان ایمبیسی سعودی عرب، عرب نیوز)
ایک شخص، ایک کھاتا، پاکستان نے سعودی عرب کی مالی روح تعمیر کی
اگر ایک شخص اُس ہر چیز کی نمائندگی کر سکے جو پاکستان نے سعودی عرب کو دی ہے، تو وہ انور علی ہیں۔ وہ 1958ء کسی مہمان کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک معمار کی حیثیت سے آئے ۔ سولہ سال تک وہ سعودی عرب مانیٹری ایجنسی کے گورنر رہے ، وہ ادارہ جو بعد میں سعودی مرکزی بینک بنا۔ مملکت کے پاس تیل تو تھا مگر اُسے سنبھالنے کے لیے کوئی مالی نظام نہ تھا۔ انور علی نے وہ نظام زمین سے اُٹھا کر تعمیر کیا۔
جب 1973ء میں تیل کا بحران آیا اور شاہ فیصل نے سپریم کونسل برائے پٹرولیم قائم کی، تو انہوں نے انور علی کو صرف مدعو نہیں کیا ، اُن کی ضرورت تھی۔ ایک پاکستانی اُس میز پر بیٹھا تھا جہاں عالمی تیل کی پالیسی تشکیل پا رہی تھی۔
جب 1974ء میں انور علی واشنگٹن کے ایک سرکاری دورے کے دوران انتقال کر گئے، تو سعودی عرب نے ایک خاموش اور گہرا فیصلہ کیا۔ انہوں نے انہیں مدینہ منورہ میں دفن کیا۔ اُسی سرزمین میں جس کی خدمت میں انہوں نے اپنی زندگی گزاری تھی۔ یہ پروٹوکول نہیں تھا۔ یہ ایک ملک کی طرف سے ایک شخص کو یہ بتانا تھا کہ وہ ہمیشہ ہم میں سے ایک تھا۔
انہوں نے کوئی یادگار نہیں بنائی۔ انہوں نے ایک بنیاد رکھی۔ اور سعودی معیشت سے گزرنے والا ہر ایک ریال، کسی نہ کسی طرح، اُس نظام سے گزرا ہے جو انہوں نے تعمیر کیا۔ایک ایسا پیشہ ور جو اپنے کام میں مکمل طور پر گھل گیا۔ اور ہر چیز کو اپنے پیچھے پہلے سے بہتر چھوڑ گیا۔
( حوالہ: پاکستان آبزرور، وکی پیڈیا، این ڈی یو مارگلہ پیپرز)
وہ ہاتھ جنہوں نے مملکت کو تعمیر کیا
ریاض کے ہر اسپتال کے پیچھے، جدہ کی ہر شاہراہ کے پیچھے، ہر اُس یونیورسٹی اور ریفائنری کے پیچھے جو جدید سعودی عرب کو توانائی دیتی ہے ، پاکستانی ہاتھ موجود ہیں۔ وہ ہاتھ جنہوں نے بحیرہ عرب پار کر کے اُسے حقیقت بنایا۔
مرد اور عورتیں جنہوں نے اپنے خاندان اور اپنے چولہے چھوڑے، اور اپنی زندگی کے بہترین سال اُس ملک کو دئیے جس نے انہیں اجنبی نہیں، بھائی سمجھ کر خوش آمدید کہا۔ وہ انجینئر، ڈاکٹر، استاد، سپاہی اور مزدور بن کر آئے۔ وہ جوانی میں آئے اور اُن میں سے بہت سے وہیں بوڑھے ہوئے۔
ڈھائی ملین سے زیادہ پاکستانی سعودی عرب کو اپنا گھر کہتے ہیں، جو سالانہ ساڑھے چھ ارب ڈالر پاکستان میں اپنے پندرہ ملین انحصار کرنے والوں کو بھیجتے ہیں ، جبکہ اٹھارہ سو پاکستانی افسران اُسی مقدس سرزمین کی حفاظت کر رہے ہیں جس کی حفاظت اُن کے باپ اُن سے پہلے کرتے رہے ہیں۔
اور سعودی عرب نے بھی کبھی پاکستان کو تنہا کھڑا نہیں چھوڑا۔ 2014ء سے 2022ء کے درمیان قریب ساڑھے نو ارب ڈالر کی امداد ، اُس وقت جب پاکستان کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔
یہ لین دین نہیں ہے۔ یہ دو خاندان ہیں جو نسلوں، سرحدوں، اور زندگی کی ہر مشکل کے آر پار ایک دوسرے کا خیال رکھ رہے ہیں۔
( حوالہ: پاکستان قونصل خانہ جدہ، ایکسپریس ٹریبیون، ٹیلی پورٹ مین پاور)
وہ ڈھال جس نے کبھی شہرت نہ مانگی
ہر عظیم سالن کو کچھ ایسا چاہیے جو اُس کی گرمی کو سہار سکے۔ سعودی عرب کے لیے، اُس کے مشکل ترین لمحات میں، پاکستان ہمیشہ وہی برتن رہا ہی۔
1980ء کی دہائی میں پاکستان نے خاموشی سے پندرہ ہزار تک سپاہی سعودی عرب میں تعینات کیے۔ کوئی جشن نہیں۔ کوئی تقریریں نہیں۔ صرف پاکستانی مائیں اپنے بیٹوں کو الوداع کہتی ہوئیں، تاکہ مقدس سرزمین محفوظ رہے۔
1991ء میں جب خلیج کی جنگ چھڑی، پاکستان کا پورا ایک ڈویژن مکہ اور مدینہ کے مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے روانہ ہوا۔ وہ تیل کے لیے نہیں گئے۔ وہ علاقے کے لیے نہیں گئے۔ وہ اس لیے گئے کیونکہ جب آپ کے بھائی کا گھر خطرے میں ہو، تو آپ دوبارہ بلائے جانے کا انتظار نہیں کرتے۔ آپ بس دروازے پر پہنچ جاتے ہیں۔
پھر مئی 1998ء آیا۔ پاکستان نے اپنے ایٹمی دھماکے کیے اور چند ہی گھنٹوں میں دنیا نے منہ موڑ لیا۔ پابندیاں لگ گئیں۔ تجارت ٹھپ ہو گئی۔ سالن کو ٹھنڈا ہونے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
سوائے ایک ہاتھ کے، جو پھر سے چولہے کی طرف بڑھا۔
شاہ فہد نے پاکستانی سفیر سے جمعہ کے روز ایک ہنگامی ملاقات میں وہ الفاظ کہے جنہیں تاریخ کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے: ’’ ہم جانتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ آپ نے یہ کیوں کیا۔ اور ہم آپ کی آپ کی توقع سے بڑھ کر مدد کریں گے‘‘۔
سعودی عرب نے پاکستان کو چار سال تک روزانہ پچاس ہزار بیرل تیل مفت دینے کا عہد کیا۔ یہی ہوتا ہے جب نمک اور مصالحہ اتنی دیر ایک ساتھ پکتے ہیں کہ ذائقے ایک ہو جاتے ہیں۔ اور کوئی بیرونی ہاتھ، چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ نہیں کھول سکتا جو گھل چکا ہو۔
ستمبر 2025ء میں، اٹھتر سال کی خاموش وفاداری کو بالآخر ایک نام ملا۔ پاکستان اور سعودی عرب نے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ دنیا نے اسے ایک نئی پیش رفت کہا۔ وہ لوگ جو اس تاریخ کو جی چکے تھے، بہتر جانتے تھے۔ یہ کوئی نیا رشتہ نہیں بن رہا تھا۔ یہ ایک پرانا رشتہ تھا جسے تسلیم کیا جا رہا تھا۔ بالآخر، باضابطہ طور پر، اور استحقاق کے ساتھ۔
( حوالہ: ایٹلس انسٹیٹیوٹ، عرب نیوز، این ڈی یو مارگلہ پیپرز)
سماجی اور ثقافتی بندھن: ایک ایسا ذائقہ جس کی نقل ممکن نہیں
نمک اپنے ارد گرد کی ہر چیز میں سے بہترین کھینچ لاتا ہے۔ یہی ہے جو ان دو قوموں نے ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے کیا ہے۔
ہر سال لاکھوں پاکستانی مسلمان مکہ اور مدینہ، سیاحوں کی طرح نہیں بلکہ گہر لوٹنے والوں کی طرح جاتے ہیں۔
فیصل مسجد اسلام آباد، پاکستان کی سب سے بڑی مسجد، سعودی عرب نے محض اس لیے بنا کر تحفے میں دی کہ وہ پاکستان کو تحفہ دینا چاہتے تھے۔ یہ فنِ تعمیر نہیں ہے۔ یہ کنکریٹ اور پتھر میں ڈھلی ہوئی محبت ہے۔
قریب تین ملین پاکستانی مملکت میں گھر کی طرح رہتے ہیں اور کوئی بھی اجنبی محسوس نہیں کرتا۔
کبھی کبھی تعلق ایک پوری زندگی بن جاتا ہے۔ عبدالکبیر شاہ اکیس سال کی عمر میں کراچی سے روانہ ہوئے ، صرف اپنی رضامندی ساتھ لے کر۔ ایک سعودی گاہک نے اُن کی دیانت کو محسوس کیا اور اعتماد کی بنیاد پر شراکت داری کی پیشکش کی۔ آج اُن کا فوڈ چین سعودی عرب بھر میں آٹھ شاخوں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہی ہے جو نمک کرتا ہے۔ وہ اجنبیوں کو خاندان بنا دیتا ہے۔
جب مسجد الحرام کے آئمہ کرام پاکستان تشریف لاتے ہیں، تو نماز پڑھانے کے لئے آتے ہیں نہ کہ تقریبات کے لیے۔ لاہور ، اسلام آباد میں، جہاں سینکڑوں ہزاروں لوگ ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور جب امام کی آواز بلند ہوتی ہے، تو اُن میں سے بہت غم سے نہیں بلکہ قلبی تعلق کی اس گہرائی سے روتے ہیں، جس کو نام دینا آسان نہیں۔
یہ رشتہ میٹنگ روم میں نہیں رہتا۔ یہ ہر مشترکہ کھانے، ہر دعا، ہر دل میں زندہ ہے۔
نمک نے کبھی دیگ کو نہیں چھوڑا
جیسے جیسے سعودی عرب اپنے وژن 2030ء کا خواب تعمیر کرتا جا رہا ہے، پاکستانی ہاتھ اور ذہن اُس کی ہر تہہ میں، صرف سستے انتخاب کے باعث نہیں بلکہ اس لئے موجود ہیں کہ پاکستان سب سے زیادہ قابل اعتماد ہیں، بنے ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے پاکستان مضبوط ہوتا جا رہا ہے، سعودی عرب اُس کے ساتھ اُس طرح کھڑا ہے جیسا صرف ایک سچا دوست کھڑا ہوتا ہے۔
دونوں ملکوں کے لیے ایک خوبصورت مستقبل سامنے ہے۔ ضرورت پر نہیں، محبت پر تعمیر ہونے والا۔ لین دین پر نہیں، اعتماد پر۔
وہ محض ایک تاریخ نہیں بانٹتے۔ وہ ایک باورچی خانہ بانٹتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ پکایا جانے والا ہر کھانا اُس سے بہتر رہا ہے جو کوئی بھی اکیلا بنا سکتا تھا۔
دیگ ابھی بھی چولہے پر ہے، دوستی ابھی بھی بڑھ رہی ہے اور نمک، وفادار اور ناقابلِ تلافی، جیسا کہ وہ ہمیشہ رہا ہے ، ٹھیک وہیں موجود ہے جہاں وہ ہمیشہ سے رہا ہے۔ ہر چیز کے قلب میں۔
دعا ہے کہ یہ دوستی کبھی اپنا ذائقہ نہ کھوئے۔
دعا ہے کہ یہ دو قومیں ہمیشہ ایک ہی دسترخوان پر واپس آئیں۔
اور دعا ہے کہ سالن پکتا رہے۔
( حوالہ جات: عرب نیوز، پبلک ڈپلومیسی، عرب نیوز، اسکالرشپس، عرب نیوز، گلوبل ہارمنی، سعودی سافٹ پاور پر علمی تحقیق)







