یادوں کا طلسم کدہ
یادوں کا طلسم کدہ
تحریر : صفدر علی حیدری
یادیں محض ماضی کے بکھرے ہوئے لمحے نہیں ہوتیں، بلکہ ایک ایسا جادو ہیں جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر ہمارے وجود میں بسیرا کر لیتا ہے۔ یہ وہ طلسم ہے جسے نہ دیکھا جا سکتا ہے، نہ چھوا جا سکتا ہے، مگر اس کے اثرات انسان کی روح تک اتر جاتے ہیں۔ جب کوئی لمحہ یاد بن جاتا ہے تو وہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ ایک نئی زندگی اختیار کر لیتا ہے، کبھی خوشبو بن کر مہکتا ہے تو کبھی زخم بن کر رستا ہے۔
انہی یادوں کے نہاں خانوں سے کچھ ایسی کہانیاں برآمد ہوتی ہیں جو وقت کی دھول میں بھی دھندلی نہیں ہوتیں۔ آئیے! ان لازوال کہانیوں کے کچھ اوراق پلٹتے ہیں:
معیار کی سولی:
ایک لڑکی جو ہمیشہ سچائی کے بت تراشتی رہی۔ اس کا عہد تھا کہ وہ صرف اس مرد سے رشتہ جوڑے گی جو جھوٹی تعریف کا سہارا نہ لے۔ عمر کی نقدی ختم ہوتی گئی اور آخر کار اسے اپنی مرضی کا ’’ سچا‘‘ انسان مل گیا، مگر شادی کی پہلی رات جب شوہر نے اس کی تمام زیبائش کو بے معنی قرار دے کر حقیقت کا آئینہ دکھایا، تو اس کے اندر کا سارا مان ٹوٹ گیا۔ تب اسے احساس ہوا کہ زندگی کے کٹھن سفر میں کبھی کبھی سچ سے زیادہ محبت بھرے ’’ جھوٹ‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔
محرومی کا بوجھ:
ایک معصوم تمنا، جس کا کل اثاثہ رنگین چوڑیاں تھیں۔ حالات نے بچپن چھین لیا مگر حسرت جوان رہی۔ برسوں بعد شادی کی پہلی عید پر جب اس نے اپنی خواہش بیان کی تو جواب ملا، ’’ اب تم بچی نہیں رہی ہو‘‘۔ اس ایک جملے نے اس کی برسوں کی پیاس کو ہمیشہ کے لیے پتھر کر دیا۔
ضمیر کی عدالت:
قاتل قانون سے بچ نکلتا ہے، مگر اپنی ذات کے قید خانے میں پھنس جاتا ہے۔ پولیس انسپکٹر ایک تصویر ہاتھ میں پکڑ کر اسے کہتا ہے کہ تم پہچان لیے گئے ہو، اپنا جرم قبول کر لو۔ وہ اندر کے شور سے گھبرا کر چیخ اٹھتا ہے اور جرم کا اعتراف کر لیتا ہے۔ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ تصویر آئوٹ آف فوکس تھی۔ انسان دنیا سے جیت کر بھی اپنے ضمیر سے ہار جاتا ہے۔
جذبات کا قحط:
ایک بیٹا جسے سکھایا گیا کہ ’’ مرد روتے نہیں‘‘۔ اس نے اس سبق کو اس قدر سنجیدگی سے لیا کہ باپ کے جنازے پر بھی اس کی آنکھیں خشک رہیں۔ تب اسے ادراک ہوا کہ یہ پتھر دلی اس کی طاقت نہیں، بلکہ اس کے انسانی جوہر کا زوال ہے۔
قربانی کا زیاں:
ایک عورت جس نے رشتوں کی آبیاری کے لیے اپنی ذات کو ایندھن بنا دیا۔ زندگی کے آخری پہر جب اس نے اپنے لیے جینا چاہا تو معلوم ہوا کہ اس کے پاس اپنا کچھ بچا ہی نہیں۔ جو خود کو مٹا دے، دنیا اسے اکثر فراموش کر دیتی ہے۔
اصولوں کی منافقت:
ایک شخص جو اصولوں کی تسبیح پڑھتا تھا، مگر جب آزمائش اس کے اپنے گھر تک پہنچی تو وہی اصول موم کی طرح پگھل گئے۔ سچ کا علم اٹھانا آسان ہے، اس کے لیے صلیب پر چڑھنا مشکل۔
کامیابی کا صحرا:
غربت سے نکل کر کامیابی کی چوٹی تک پہنچنے والا لڑکا، اس دوڑ میں اپنے لوگوں کے ہاتھ چھوڑ بیٹھا۔ آج اس کے پاس دولت کا انبار ہے، مگر روح کا سکون کہیں کھو گیا ہے۔
انا کی دیوار:
دو دوست، برسوں کی رفاقت، ایک معمولی غلط فہمی، اور درمیان میں کھڑی انا۔ رشتے سچ سے زیادہ برداشت کی بنیاد پر سانس لیتے ہیں۔
ٹوٹا ہوا مان:
ایک بچہ جس کی کائنات اس کا باپ تھا۔ ایک معمولی جھوٹ نے اس ہیرو کا طلسم توڑ دیا۔ اعتماد وہ آئینہ ہے جس میں بال آ جائے تو عکس کبھی پہلے جیسا نہیں رہتا۔
ادھوری معافی:
ایک بوڑھی ماں برسوں اپنے بیٹے کے ایک جملے کو دل میں دبائے رہی۔ بیٹا غصے میں گھر چھوڑ گیا۔ جب واپس آیا تو ماں کی آواز جا چکی تھی۔ وہ معافی مانگتا رہا، مگر ماں کی خاموش آنکھیں ہی جواب بن گئیں۔ کچھ معافیاں وقت پر نہ مانگی جائیں تو لفظ بھی بے اثر ہو جاتے ہیں۔
انتظار کی گھڑی:
ایک عورت روز شام کو دروازے کی کنڈی کھولتی اور بند کر دیتی۔ برسوں پہلے جو شخص ’’ جلد لوٹ آنے‘‘ کا وعدہ کر کے گیا تھا، وہ کبھی نہ آیا۔ وقت نے امید چھین لی، مگر انتظار کی عادت نہیں چھین سکا۔
خاموش خدمت:
ایک باپ نے ساری زندگی بچوں کے لیے محنت کی۔ اس کی جیب سے ایک کاغذ ملا، ’’ ایک بار سمندر دیکھنا ہے‘‘۔ مگر اب آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔ خواب بھی کبھی ذمہ داریوں کی قبر میں دفن ہو جاتے ہیں۔
لفظوں کی کمی:
ایک شوہر نے ساری زندگی بیوی کو کبھی ’’ شکریہ‘‘ نہ کہا۔ جب وہ رخصت ہوئی تو گھر کی ہر چیز اپنی جگہ تھی، بس وہ نہ تھی۔ تب اسے احساس ہوا کہ کچھ لفظ رشتوں کی سانس ہوتے ہیں۔
یادوں کا وارث:
ایک بزرگ کے انتقال کے بعد جائیداد نہیں، ایک ڈائری ملی۔ اس میں ہر بچے کے لیے چند جملے لکھے تھے۔ تب معلوم ہوا کہ بعض لوگ دولت نہیں، احساسات کی وراثت چھوڑ جاتے ہیں۔
گلے کا پھندا:
ایک شخص ساری زندگی دوسروں کو حوصلہ دیتا رہا۔ وہ کہتا تھا کہ مضبوط لوگ نہیں ٹوٹتے۔ لوگ اس کی باتوں سے حوصلہ پاتے رہے، مگر وہ خود اپنے ہی لفظوں کے بوجھ تلے دب گیا۔ وہ رو بھی نہیں سکتا تھا، کیونکہ اس نے آنسوں کو کمزوری کہا تھا۔ وہ مدد بھی نہیں مانگ سکتا تھا، کیونکہ وہ سب کا سہارا تھا۔ یوں اس کی اپنی بنائی ہوئی شبیہ اس کے گلے کا پھندا بن گئی۔
یہ اور اس جیسے ہزاروں لاکھوں کہانیاں محض واقعات نہیں، بلکہ انسانی فطرت کے وہ پوشیدہ گوشے ہیں جو وقت کے ساتھ گہرے ہوتے جاتے ہیں۔ زندگی کے آخری موڑ پر انسان کو دولت یا شہرت نہیں، یہی یادیں سہارا دیتی ہیں۔شاید یہی زندگی کا سب سے بڑا راز ہے کہ ہم وقت کی لہروں پر نہیں، یادوں کے جزیروں پر زندہ رہتے ہیں۔ اور جب ہم نہیں رہتے، تو ہماری یہی کہانیاں کسی اور کے وجود میں جادو بن کر اتر جاتی ہیں۔







