Aqeel Anjam AwanColumn

اوور تھنکنگ !!!

اوور تھنکنگ !!!
عقیل انجم اعوان
اوور تھنکنگ ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان کا ذہن مسلسل کسی نہ کسی خیال کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ یہ خیالات اکثر ماضی کے واقعات یا مستقبل کے اندیشوں سے جڑے ہوتے ہیں اور انسان بار بار انہی باتوں کو دہراتا رہتا ہے۔ عام سوچ اور گہری سوچ انسانی ذہن کی فطری صلاحیت ہے کیونکہ اسی کے ذریعے انسان مسائل کا حل تلاش کرتا ہے اور اپنے فیصلے بہتر بناتا ہے۔ مگر جب یہی سوچ ایک نہ ختم ہونے والے دائرے میں تبدیل ہو جائے تو اسے اوور تھنکنگ کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں انسان کا ذہن آرام نہیں کر پاتا اور وہ ہر معاملے کو حد سے زیادہ سوچنے لگتا ہے۔ چھوٹی سی بات بھی اس کے ذہن میں بڑے مسئلے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اوور تھنکنگ دراصل ایک نفسیاتی کیفیت ہے جو آہستہ آہستہ انسان کے اندر جنم لیتی ہے۔ یہ کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوتی بلکہ مختلف ذہنی دباؤ اور زندگی کے تجربات کے نتیجے میں انسان کے اندر جڑ پکڑ لیتی ہے۔ جب انسان بار بار ناکامیوں کا سامنا کرتا ہے یا اسے اپنے فیصلوں پر اعتماد نہیں رہتا تو اس کا ذہن ہر بات کو باریک بینی سے پرکھنے لگتا ہے۔ ابتدا میں یہ عمل ایک احتیاطی رویہ معلوم ہوتا ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی احتیاط ایک ذہنی بوجھ بن جاتی ہے۔ اوور تھنکنگ کے پیدا ہونے کی ایک بڑی وجہ خوف ہے۔ انسان جب مستقبل کے بارے میں حد سے زیادہ فکرمند ہو جائے تو وہ ہر ممکن صورت حال کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ یہ تصور کرتا ہے کہ اگر فلاں کام کیا تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا اور اگر نہ کیا تو کیا ہو گا۔ یوں اس کے ذہن میں امکانات کی ایک لمبی فہرست بن جاتی ہے۔ یہی امکانات رفتہ رفتہ اس کے ذہنی سکون کو چھین لیتے ہیں۔ اس کیفیت کے پیدا ہونے کی ایک اور اہم وجہ ماضی کے تلخ تجربات ہوتے ہیں۔ اگر کسی انسان نے زندگی میں کسی بڑے دھوکے یا ناکامی کا سامنا کیا ہو تو وہ آئندہ ہر معاملے میں حد سے زیادہ محتاط ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے ہر قدم کو کئی بار پرکھتا ہے اور اس کے ذہن میں یہ خوف بیٹھ جاتا ہے کہ کہیں وہ دوبارہ وہی غلطی نہ دہرا دے۔ یہی خوف اس کے ذہن کو مسلسل سوچ کے بھنور میں گرفتار رکھتا ہے۔ معاشرتی دبائو بھی اوور تھنکنگ کے پھیلائو میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آج کی دنیا میں کامیابی کے پیمانے بہت سخت ہو چکے ہیں۔ ہر شخص دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس مقابلے کو مزید تیز کر دیا ہے کیونکہ لوگ دوسروں کی کامیابیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں۔ جب انسان اپنے آپ کو دوسروں سے موازنہ کرنے لگتا ہے تو اس کے ذہن میں بے شمار سوالات جنم لیتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ اس کی زندگی میں وہ سب کچھ کیوں نہیں جو دوسروں کے پاس ہے۔ یہی سوالات اسے مسلسل سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اوور تھنکنگ کا تعلق انسان کی شخصیت سے بھی ہوتا ہے۔ کچھ لوگ فطرتاً زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ وہ ہر بات کو دل پر لے لیتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے معاملات کو بھی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ ایسے لوگ دوسروں کے الفاظ اور رویوں کو بار بار یاد کرتے ہیں اور ان کے ممکنہ مطلب تلاش کرنے لگتے ہیں۔ یہی عادت آہستہ آہستہ ان کے ذہن کو ایک مسلسل سوچ کے جال میں پھنسا دیتی ہے۔ اس کیفیت کے نقصانات بہت گہرے اور دور رس ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا نقصان ذہنی سکون کا ختم ہونا ہے۔ اوور تھنکنگ میں مبتلا انسان کا ذہن ہمیشہ مصروف رہتا ہے۔ وہ بظاہر خاموش بیٹھا ہوتا ہے مگر اس کے اندر خیالات کا ایک طوفان برپا ہوتا ہے۔ اس مسلسل ذہنی دبائو کی وجہ سے وہ تھکن محسوس کرتا ہے اور اسے سکون کے لمحات کم ہی نصیب ہوتے ہیں۔ اوور تھنکنگ انسان کی نیند کو بھی شدید متاثر کرتی ہے۔ ایسے لوگ رات کے وقت بستر پر لیٹ کر بھی گھنٹوں سوچتے رہتے ہیں۔ ان کے ذہن میں دن بھر کے واقعات گردش کرتے رہتے ہیں اور وہ مختلف امکانات کے بارے میں غور کرتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انہیں نیند دیر سے آتی ہے اور جب آتی بھی ہے تو گہری نہیں ہوتی۔ نیند کی کمی جسم اور دماغ دونوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس بیماری کا ایک بڑا نقصان فیصلہ کرنے کی صلاحیت کا متاثر ہونا ہے۔ جب انسان ہر بات کو حد سے زیادہ سوچنے لگے تو اس کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ ہر فیصلے کے ممکنہ نتائج کے بارے میں سوچتا رہتا ہے اور کسی ایک نتیجے پر پہنچنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے۔ یوں اس کی زندگی میں تاخیر اور الجھن بڑھ جاتی ہے۔ اوور تھنکنگ جسمانی صحت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ مسلسل ذہنی دبائو کی وجہ سے انسان کے جسم میں تنائو کے ہارمون بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سر درد معدے کے مسائل اور دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ کچھ لوگوں میں یہ کیفیت ڈپریشن اور اینزائٹی کی شکل بھی اختیار کر لیتی ہے۔ سماجی زندگی بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔ جو لوگ حد سے زیادہ سوچتے ہیں وہ اکثر دوسروں کے الفاظ اور رویوں کا غلط مطلب نکال لیتے ہیں۔ وہ کسی معمولی بات کو بھی اپنے خلاف سمجھ لیتے ہیں اور اس کے بارے میں بار بار سوچتے رہتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کے تعلقات میں دوری پیدا ہونے لگتی ہے۔ دنیا بھر میں اوور تھنکنگ ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن چکی ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق دنیا کی ایک بڑی تعداد کسی نہ کسی سطح پر اس کیفیت کا شکار ہے۔ اندازوں کے مطابق قریباً پچیس سے تیس فیصد بالغ افراد ایسی ذہنی سوچ کے چکر میں مبتلا رہتے ہیں جو انہیں مسلسل پریشان رکھتی ہے۔ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ دیکھی گئی ہے کیونکہ ان پر مستقبل کے بارے میں دبائو زیادہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ مسئلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ معاشی مشکلات بے روزگاری سماجی دبائو اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال نوجوانوں کو زیادہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق پاکستان میں شہری آبادی کا ایک قابل ذکر حصہ ذہنی دبائو اور حد سے زیادہ سوچنے کی عادت میں مبتلا ہے۔ اندازاً بیس سے پچیس فیصد افراد کسی نہ کسی سطح پر اس کیفیت کا سامنا کرتے ہیں۔ اگرچہ اس بارے میں مکمل قومی اعداد و شمار دستیاب نہیں مگر ہسپتالوں اور نفسیاتی کلینکس کے مشاہدات سے یہی اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اوور تھنکنگ سے بچائو کے لیے سب سے اہم قدم یہ ہے کہ انسان اپنے خیالات کو پہچانے اور یہ سمجھے کہ ہر خیال حقیقت نہیں ہوتا۔ اکثر انسان کے ذہن میں آنے والے خدشات صرف تصور ہوتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جب انسان یہ فرق سمجھ لیتا ہے تو اس کے لیے اپنے ذہن کو قابو میں رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ زندگی میں مصروف رہنا بھی اس مسئلے سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔ جب انسان کے پاس بامقصد مصروفیات ہوتی ہیں تو اس کا ذہن غیر ضروری خیالات میں کم الجھتا ہے۔ ورزش مطالعہ تخلیقی سرگرمیاں اور سماجی میل جول ذہن کو مثبت سمت میں لے جاتے ہیں۔ روحانی سکون بھی ذہنی سکون کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ عبادت دعا اور ذکر انسان کے دل کو اطمینان دیتے ہیں۔ جب انسان اپنے معاملات کو اللہ پر چھوڑنے کا یقین پیدا کر لیتا ہے تو اس کے دل سے بے جا خوف کم ہو جاتا ہے۔ یہی یقین اس کے ذہن کو سکون دیتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کو یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ ہر مسئلہ فوری حل نہیں ہوتا۔ کچھ معاملات کو وقت کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔ جب انسان ہر بات کا جواب فوراً تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا ذہن تھک جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان صبر اور برداشت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ سوچ انسان کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔ جب سوچ متوازن ہو تو یہ انسان کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے مگر جب یہی سوچ حد سے بڑھ جائے تو انسان کے ذہنی سکون کو تباہ کر دیتی ہے۔ اوور تھنکنگ اسی بے قابو سوچ کا نتیجہ ہے۔ اس سے بچنے کے لیے انسان کو اپنی سوچ کو نظم و ضبط میں لانا پڑتا ہے اور زندگی کو سادہ انداز میں قبول کرنا پڑتا ہے۔ جب انسان یہ سیکھ لیتا ہے کہ ہر بات کو حد سے زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں تو اس کے دل اور دماغ دونوں کو وہ سکون مل جاتا ہے جس کی تلاش میں وہ ساری زندگی بھٹکتا رہتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button