
جگائے گا کون؟
اسکے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہو گا
تحریر: سی ایم رضوان
ماضی کے ایک معروف شاعر ندا فاضلی کا ایک شعر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شخصیت کو درپیش موجودہ صورتحال پر صادق آتا ہے کہ ’’ اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا۔۔۔۔ وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا ‘‘۔
اس شعر کی مناسبت سے فیلڈ مارشل کے اچھا ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ملک کے اکثر تجزیہ کار، سوشل میڈیا پرسنز اور بعض سٹریٹ سنگرز پر صورتحال میں سے فیلڈ مارشل عاصم منیر پر تنقید کا پہلو بزور من مانی ضرور نکال لیتے ہیں اور جوں ہی یہ تنقید سامنے آتی ہے تو بھارت اسرائیل جیسے پاکستان دشمن ممالک اس تنقید کو ٹاپ ٹرینڈ بنا دیتے ہیں۔
ذہنی اور فکری طور پر پاکستان کے ماضی کے حالات میں الجھے ہوئے ان نیم خوابیدہ عناصر کو پچھلے تین سال سے اس ادھیڑ بن میں ہی دیکھا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور وقار کو یکسر فراموش کر کے موجودہ عسکری و سول رجیم پر وہی الزامات لگا رہے ہیں جو ماضی کی عمران، باجوہ رجیم پر درست طور پر لگائے جا سکتے تھے۔ انتہائی ڈھٹائی اور احمقانہ انداز میں بار بار اب بھی اسی نوعیت کی تنقید کی جا رہی ہے جس نوعیت کی تنقید سابقہ عمران حکومت پر درست طور پر روا تھی، حالانکہ ماضی قریب کی بہ نسبت اب پاکستان کی معاشی حالت سے قطع نظر اس کی سفارتی اور بین الاقوامی حوالے سے صورتحال اور حیثیت خوش کن حد تک اطمینان بخش ہے۔ یہ بات ذرا کھل کر کی جائے تو اس طرح کی جا سکتی ہے کہ جنرل سید عاصم منیر پر یہ تنقید بے تکی، غیر منطقی اور یکطرفہ ہے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات نبھانے کے چکر میں نعوذ باللہ ملک، قوم یا پاک فوج کو حتیٰ کہ پاکستانی موقف کو فراموش کر بیٹھے ہیں یا اس تعلق کے چکر میں پاکستان خدا نخواستہ کسی نقصان یا ہزیمت سے دوچار ہو گیا ہے۔ حالات حاضرہ کے درست اور بے لاگ تجزیہ کے بعد ہر ذی شعور اور غیر جانبدار مبصر یہی کہہ رہا ہے کہ یقینی اور حقیقی طور پر ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ اب تو پاکستان ایک مرحوم روحانی بزرگ کی سالوں پہلے کی گئی پیش گوئی کے مطابق اقوام عالم کی تقدیر کے فیصلے کرنے کی پوزیشن حاصل کر چکا ہے مگر روایتی تنقید نگار اور سوشل میڈیا کے اندھے انقلابی یہ کہتے ہوئے ذرا بھی نہیں جھجکتے کہ پاکستان اب بھی انہی کوششوں میں مصروف ہے کہ وہ کہاں سے مار کھائے یا کہاں سے چوٹ کھائے بلکہ پاکستان تو اب خلیج اور مشرق وسطیٰ کو نقصان اور چوٹوں سے بچانے کے لئے امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کی پوزیشن حاصل کر چکا ہے اور ایک طرف امریکہ، روس اور چین جیسی طاقتیں پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہیں تو دوسری طرف سعودیہ، ترکیہ اور مصر وغیرہ اس کی قیادت میں خطے کے اہم فیصلوں کے حوالے سے کوشاں ہیں۔ ایسے میں منہ اٹھا کر یہ کہہ دینا سراسر فساد انتشار اور افتراق پیدا کرنے کے مترادف ہے کہ پاکستان غلامی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کو اس پالیسی کے نتیجے میں مستقبل میں جا کر کسی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جہاں تک پاکستان کے اسلامی تشخص اور مسلم ممالک میں اس کے موجودہ کردار کا تعلق ہے تو وہ بھی بلا خوف تردید ایک قابل فخر کردار قرار دیا جا سکتا ہے۔
بعض جھوٹے تنقید نگار ماضی میں بھی فوج پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ فوج ملک کا سارا بجٹ کھا جاتی ہے اور فوج اگر عسکری اخراجات نہ بھی کرے تو کوئی نقصان نہیں۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ایک تو پاک فوج نے کبھی بھی اپنے حصے سے زیادہ یا ضرورت سے زائد فنڈز نہیں لئے تھے دوسرا یہ کہ وہ اپنے فنڈز اپنی عسکری و پیشہ ورانہ مہارت کو جدت اور ناقابل تسخیر دفاعی ٹیکنالوجی کے حصول پر خرچ کرتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی بڑی طاقتیں بھی پاکستان سے مرعوب ہیں اور لفاظی کے طور پر نہیں بلکہ حقیقی طور پر کوئی بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔
ٹرمپ سے قربت کو پاکستان کی موجودہ حکومت کی کامیابی قرار دینا گو کہ ایک پیچیدہ موضوع ہے۔ لیکن یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ٹرمپ کی قربت کے باوجود پاکستان نے انتہائی مشکل حالات میں بھی اپنی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ اپنی خودمختاری اور آزادی کا دفاع کیا ہے۔ پاکستان نے اپنے ازلی موقف پر قائم رہتے ہوئے اپنی خودمختاری اور آزادی کا دفاع کیا ہے۔ اس لئے ٹرمپ سے قربت کو حکومت کی کامیابی قرار دینا شاید مناسب نہ ہو، بلکہ یہ پاکستان کی خودمختاری اور آزادی کی حفاظت کے لئے ایک حکمت عملی ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حاصل شدہ اہداف یہ ہیں کہ پاکستان اپنی خود مختاری اور آزادی کا دفاع بطریق احسن کرتا ہے اور کسی بھی خارجی دبائو کو قبول نہیں کرتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز کھل کر نہ صرف ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا بلکہ ایران کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ببانگ دہل ارادہ بھی ظاہر کیا۔ یہاں یہ امر بھی غور طلب ہے کہ اس بیان کے باوجود گزشتہ روز جب شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ٹرمپ سے ملے تو تینوں رہنماں کے مابین گرم جوشی اور احترام و دلچسپی حسب سابق تھی۔ مطلب یہ کہ ترجیحی طور پر پاکستان خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لئے کام کر رہا ہے، خاص طور پر بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں اس کی امن پسندی اور اپنی خودداری کی حفاظت تسلیم شدہ ہے۔ ساتھ ہی ساتھ پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے اور ترقی دینے کے لئے تجارتی معاہدے اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے۔ اب پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ایک نئے اور بڑے تجارتی معاہدے سے اپنی تجارت میں اضافہ کر سکتا ہے، خاص طور پر وہ اپنی زراعت اور صنعت کے لئے فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ ٹیکسٹائل اور توانائی کے شعبوں میں بھی آنے والے سالوں میں اس کی ترقی اور وسعت ممکن ہے۔ ایسے میں یہ کہہ دینا کہ پاکستان کے حکمران ایک کافر ملک کے سربراہ کے ساتھ ہاتھ کیوں ملاتے ہیں یا اس کے ساتھ والی کرسی پر کیوں بیٹھ جاتے ہیں ایک احمقانہ اور غیر منطقی تنقید پے۔
جیسا کہ پاکستان میں حالیہ دنوں میں کچھ شیعہ علماء کے بیانات اور ان کی پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں موضوع بحث بنی ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ شیعہ علماء کی ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں مبینہ طور پر اشتعال انگیز یا سیاسی نوعیت کے خطبات شامل ہیں۔ جن میں عاصم منیر کے حوالے سے کہا گیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر ان علماء سے کہا کہ اگر انہوں نے ایران سے ہمدردی کرنی ہے تو وہ ایران چلے جائیں۔ اس مبینہ دھمکی کے جواب میں یہ علماء یہ کہہ رہے ہیں کہ عاصم منیر امریکہ یا اسرائیل چلے جائیں۔ یہ بیانات کس قدر باعث فساد ہیں کہ وہ پاک فوج کے سربراہ کو ان کی تمام تر حب الوطنی اور وطن دفاع کے حوالے سے تاریخی طور پر قابل ذکر اور قابل احترام کوششوں کے باوجود ملک چھوڑنے کا مشورہ دے رہے جن کی کمان میں پاکستان کی فوج دنیا کی قابل فخر فوج اور پاکستان دنیا کا اہم ترین ملک بن گیا ہے۔
آج ایسے امکانات ہیں کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ یہ مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ بندی کے لئے کیے جا رہے ہیں۔ سنا ہے کہ اسرائیل اس جنگ بندی سے انکاری ہے لیکن پاکستان کا ایک اپنا صولی اور پُرامن نصب العین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان، ترکی اور مصر نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کیا ہے۔ ایران کی نمائندگی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے جبکہ امریکہ کی طرف سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر، اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس شریک ہوں گے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایرانی بجلی گھروں پر حملے کو 5دن کے لئے موخر کر دیا ہے تاکہ سفارتی عمل کو موقع دیا جا سکے۔
یہ بھی تسلیم شدہ ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی موجودہ حکومت نے سفارتی اور عسکری محاذ پر چند اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ مثال کے طور پر شنگھائی تعاون تنظیم کی میزبانی میں پاکستان نے چین، روس، بھارت، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے۔ امریکہ، سعودی عرب، ایران اور ترکی کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائی ہے، جس سے خطے میں امن اور استحکام کو فروغ ملا ہے فلسطین، کشمیر، اور غزہ کے معاملے پر پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر اپنا موقف واضح کیا ہے۔ بھارت کے ساتھ عسکری کشیدگی میں کمی لانے میں بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے دفاعی معاہدوں کے ذریعے اپنی عسکری صلاحیتوں کو بھی مضبوط کیا ہے، خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور کئی دہائیوں سے جاری اس غیر علانیہ جنگ کے خلاف کامیابی اس طرح حاصل کی ہے کہ اب دہشت گردانہ کارروائیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔
ذہنی طور پر ماضی میں رہنے والے عناصر آج کے بااثر پاکستان پر تنقید کر کے شاید یہ حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ لوگوں کو ماضی کی یاد دلائیں اور اپنی موجودہ صورتحال سے ہٹائیں۔ یہ عناصر شاید یہ چاہتے ہیں کہ لوگ اپنی موجودہ مشکلات کو بھول جائیں اور ماضی کی خوبصورتی میں گم ہو جائیں۔ تاہم اس نوعیت کی تنقید اکثر مثبت نتائج نہیں دیتی۔ اس سے لوگوں میں منفی جذبات پیدا ہوتے ہیں اور حکومت کی کارکردگی پر برا اثر پڑتا ہے۔ اس کے بجائے، لوگوں کو موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے کام کرنا چاہیے اور حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے زور دینا چاہیے۔ مگر ایسے مشکوک مقاصدِ کے حامل لوگوں کی کثرت اور دیدہ دلیری یہ ثابت کر رہی ہے کہ عاصم منیر ملک و قوم کے لئے بہتر کام کر رہے ہیں۔





