دہشت گردی کا عالمی منظر نامہ اور پاکستان
دہشت گردی کا عالمی منظر نامہ اور پاکستان
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔۔
عصرِ حاضر میں دہشت گردی دنیا کے لیے ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جس نے نہ صرف ریاستی ڈھانچوں کو متزلزل کیا بلکہ انسانی اقدار، معاشرتی توازن اور عالمی امن کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اکیسویں صدی کی یہ جنگ روایتی جنگوں سے مختلف ہے: اس میں دشمن واضح نہیں ہوتا، محاذ غیر متعین ہوتے ہیں اور ہدف عام شہری ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں Institute for Economics & Peaceکی جانب سے جاری کردہ Global Terrorism Index دنیا بھر میں دہشت گردی کے رجحانات کو سمجھنے کا ایک معتبر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار دیا گیا ہے۔ یہ صورت حال نہ صرف پاکستان کے داخلی امن کے لیے خطرے کی علامت ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم سوالیہ نشان ہے کہ آخر کن عوامل نے ایک ایٹمی طاقت کو اس نہج تک پہنچا دیا۔
دہشت گردی محض تشدد کا نام نہیں بلکہ یہ ایک منظم حکمتِ عملی ہے جس کے ذریعے خوف و ہراس پھیلا کر سیاسی، مذہبی یا نظریاتی مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو دہشت گردی کی جڑیں قدیم ادوار تک جاتی ہیں، مگر جدید دہشت گردی کی شکل خاص طور پر سرد جنگ کے بعد ابھری۔ نائن الیون کے بعد دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا، وجہ یہ رہی کہ امریکا کے پالے ہوئے ایجنٹ اس کو آنکھیں دکھانے لگے ۔ جب اپنے دامن کو آگ لگی تو امریکہ پہلے افغانستان اور پھر عراق پر چڑھ دوڑا۔ اس عالمی جنگِ دہشت گردی میں وطن عزیز کو ایک کلیدی اتحادی کے طور پر شامل ہونا پڑا، جس کے نتیجے میں اسے داخلی سطح پر شدید ردِعمل، بدامنی اور انتہاپسندی کے نئے رجحانات کا سامنا کرنا پڑا۔ سرحدی علاقوں میں عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی، پناہ گاہیں اور نقل و حرکت نے ریاستی رٹ کو چیلنج کیا اور ایک طویل المدت سیکیورٹی بحران کو جنم دیا۔
پاکستان میں دہشت گردی کا مسئلہ ایک دم پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ ایک تدریجی عمل کا نتیجہ ہے۔ 1980ء کی دہائی میں افغان سوویٹ یونین جنگ کے دوران خطے میں اسلحہ، جنگجوں اور نظریاتی شدت پسندی کا سیلاب آیا۔ جس نے ملک کی جڑیں ہلا ڈالیں۔ نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مختلف شدت پسند گروہوں نے قدم جما لیے، جن میں تحریک طالبان نمایاں تھی۔ اس تنظیم نے ریاستی اداروں، سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا، جس سے ملک بھر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوئی۔پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور عسکری اقدامات کیے ( آپریشن ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد) ۔ یہ اقدامات اہم سنگِ میل ثابت ہوئے۔ ان کے نتیجے میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ ہوئے، نیٹ ورکس کمزور پڑے اور امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی۔ عالمی سطح پر پاکستان کے اقدامات کو سراہا گیا۔ تاہم، یہ کامیابیاں عارضی ثابت ہوئیں کیوں کہ دہشت گردی کی جڑیں مکمل طور پر ختم نہ کی جا سکیں۔Institute for Economics & Peace کی تازہ Global Terrorism Indexمیں پاکستان پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ اس رپورٹ کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
درجہ بندی: پاکستان نے برکینا فاسو کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہونے کا درجہ پایا ہے۔
اموات کا تناسب: رپورٹ کے مطابق سال 2025میں پاکستان میں دہشت گردی کے باعث 1139اموات ہوئیں، جو کہ 2013ء کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے
واقعات: گزشتہ سال ملک میں دہشت گردی کے 1045واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
علاقائی اثرات::رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقے خیبر پختونخوا اور بلوچستان رہے، جہاں ملک بھر میں ہونے والے حملوں کے 74فیصد واقعات پیش آئے۔
وجوہات: انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس (IEP)کی اس رپورٹ میں ہمسایہ ممالک ( خاص طور پر افغانستان) کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور کالعدم تنظیموں (TTPاور BLA) کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو اس بگاڑ کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں 28فیصد کمی آئی ہے، لیکن پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں صورت حال مزید خراب ہوئی ہے۔
اس کے پیچھے کئی پیچیدہ عوامل کارفرما ہیں: افغانستان میں بدلتی ہوئی سیاسی و عسکری صورت حال نے پاکستان کے سرحدی علاقوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ سرحد پار سے دراندازی اور عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ کچھ شدت پسند تنظیمیں نئے ناموں اور حکمتِ عملیوں کے ساتھ دوبارہ منظم ہو رہی ہیں، جس سے سیکیورٹی اداروں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ماضی میں دہشت گردی زیادہ تر قبائلی علاقوں تک محدود تھی، مگر اب بڑے شہروں میں بھی حملوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، جو صورت حال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، مگر بعض پالیسی خلا اور انٹیلیجنس کوآرڈینیشن کے مسائل اب بھی موجود ہیں۔دہشت گردی صرف جسمانی تباہی نہیں لاتی بلکہ یہ معاشرے کے ذہنی ڈھانچے کو بھی متاثر کرتی ہے: خوف، عدم تحفظ اور بے یقینی کا ماحول، نوجوانوں میں مایوسی اور انتہا پسندی کا رجحان، سماجی ہم آہنگی کا فقدان۔ یہ اثرات نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں اور ایک دیرپا بحران کو جنم دیتے ہیں۔ دہشت گردی کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آتی ہے، سیاحت متاثر ہوتی ہے، کاروباری سرگرمیاں سست ہو جاتی ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ نقصانات انتہائی سنگین ہیں، کیونکہ معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجز سے دوچار ہوتی ہے۔
اگرچہ پاکستان اس وقت فہرست میں سرفہرست ہے، مگر یہ مسئلہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں۔ برکانا فاسو، شام اور عراق جیسے ممالک بھی شدید متاثر رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے، جس کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے کے لیے کئی اقدامات کی ضرورت ہے: بیانیے کی اصلاح، شدت پسندی کے خلاف ایک مضبوط فکری بیانیہ تشکیل دینا، تعلیم اور روزگار کے فروغ کے مواقع، علاقائی تعاون، جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس نظام کو مضبوط بنانا۔ پاکستان کا دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر آنا ایک سنجیدہ و فکر انگیز صورت حال ہے۔ یہ نہ صرف سیکیورٹی اداروں بلکہ پوری قوم کے لیے ایک امتحان ہے۔ اس مسئلے کا حل محض عسکری کارروائیوں میں نہیں بلکہ ایک جامع، مربوط اور دیرپا حکمتِ عملی میں پوشیدہ ہے۔ اگر پاکستان نے بروقت اور موثر اقدامات نہ کیے تو یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے، مگر اگر درست سمت میں پیش رفت کی جائے تو ایک پرامن اور مستحکم مستقبل کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔





