Column

سرکاری شاہ خرچیوں کا بوجھ عوام کب تک اٹھائیں؟

سرکاری شاہ خرچیوں کا بوجھ عوام کب تک اٹھائیں؟
تحریر: رفیع صحرائی
ملک اس وقت شدید مالی دبائو، مہنگائی اور پٹرول بحران جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ بتایا یہ جا رہا ہے کہ اگر ایران، اسرائیل، امریکہ کی جنگ جاری رہی تو عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔ سمارٹ لاک ڈائون کی باتیں بھی ہو رہی ہیں اور پٹرول کے بعد اشیائے خورونوش کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کی وعید بھی سنائی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف حکومتی ایوانوں میں آج بھی ایسی مراعات جاری ہیں جو نہ صرف غیر ضروری بلکہ قومی خزانے پر بھاری بوجھ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی وسائل صرف اشرافیہ کے آرام کے لیے ہیں، یا عوام کی فلاح کے لیے؟
حالیہ کفایت شعاری مہم کے تحت حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے پٹرول میں پچاس فیصد کمی اور تقریباً ساٹھ فیصد گاڑیوں کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ایک مثبت قدم ضرور ہے مگر اس سے ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: اگر ساٹھ فیصد گاڑیاں بند ہونے کے باوجود نظام چل سکتا ہے تو پھر ان گاڑیوں کو مستقل طور پر ختم کیوں نہیں کیا جاتا؟ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہ گاڑیاں پہلے ہی غیر ضروری تھیں؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں سرکاری افسران، وزرائ، مشیروں، اور منتخب نمائندوں کو دی جانے والی گاڑیوں اور پٹرول کی سہولت سرکاری خزانے اور ملکی معیشت پر ایک مستقل بوجھ بن چکی ہے۔ ایک طرف ایک استاد یا کلرک اپنی محدود تنخواہ سے موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوانے پر مجبور ہے تو دوسری طرف ایک افسر یا وزیر ایک نہیں بلکہ دو یا تین سرکاری گاڑیاں استعمال کرتا ہے اور وہ بھی سرکاری پٹرول پر۔ یہ تضاد صرف ناانصافی ہی نہیں بلکہ ریاستی وسائل کے غلط استعمال کی واضح مثال بھی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر ایسی پالیسی بنائی جائے جس کے تحت کسی بھی افسر، سیکریٹری، وزیر یا مشیر کو ایک سے زائد سرکاری گاڑی رکھنے کی اجازت نہ ہو۔ مزید برآں، 1300سی سی سے بڑی گاڑیوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں اعلیٰ حکام بھی سادہ گاڑیاں استعمال کرتے ہیں مگر یہاں شاہانہ طرزِ زندگی کو سرکاری پروٹوکول کا نام دے کر جائز قرار دیا جاتا ہے جبکہ اصولی طور پر تو ہم ترقی پذیر بھی نہیں۔ ہمارا شمار پسماندہ ممالک میں ہونا چاہیے۔
اسی طرح پروٹوکول کے نام پر درجنوں گاڑیوں کے قافلے بھی قومی خزانے پر ایک غیر ضروری بوجھ ہیں۔ ان گاڑیوں کو فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔ ایک جمہوری معاشرے میں عوام کے نمائندے عوام کے درمیان سادگی سے چلتے ہیں، نہ کہ شاہانہ جلوسوں کے ساتھ چل کر عوام کو احساسِ کمتری میں مبتلا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ اراکینِ اسمبلی ( ایم این ایز، ایم پی ایز)، وزراء اور مشیروں کو دی جانے والی مفت پٹرول کی سہولت فوری طور پر ختم کی جائے۔ یہ افراد پہلے ہی بھاری تنخواہیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں لہٰذا پٹرول بھی انہیں اپنی جیب سے ہی ڈلوانا چاہیے۔ جب ایک عام سرکاری ملازم اپنی موٹر سائیکل کے لیے پٹرول خود خریدتا ہے تو یہ طبقہ کیوں مستثنیٰ ہو؟
حقیقت یہ ہے کہ پٹرول بحران کی اصل وجہ عوام نہیں بلکہ سرکاری شاہ خرچیاں ہیں۔ جب ہزاروں سرکاری گاڑیاں بلا ضرورت سڑکوں پر ہوں۔ افسران کے بچے اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں سرکاری گاڑیوں، سرکاری پٹرول اور سرکاری پروٹوکول میں آ جا رہے ہوں۔ ان کی سبزی اور گروسری کا سامان سرکاری گاڑیوں پر آ رہا ہو اور ان میں سرکاری پٹرول جل رہا ہو تو پھر عوام پر بوجھ ڈالنا کہاں کا انصاف ہے؟
وقت آ گیا ہے کہ حکومت عارضی اقدامات سے آگے بڑھ کر مستقل اصلاحات کرے۔ غیر ضروری سرکاری گاڑیوں کا مکمل خاتمہ، بڑی گاڑیوں پر پابندی اور مفت پٹرول کی سہولت کا خاتمہ ہی وہ اقدامات ہیں جو نہ صرف قومی خزانے کو بچا سکتے ہیں بلکہ عوام کے ساتھ انصاف بھی قائم کر سکتے ہیں۔ اگر واقعی ہم ایک ذمہ دار ریاست بننا چاہتے ہیں تو حکمرانوں کو وہی معیار اپنانا ہوگا جو وہ عوام کے لیے مقرر کرتے ہیں۔ کیونکہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ عملی انصاف سے ترقی کرتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button