جیلوں میں کرپشن۔ مانیٹرنگ ٹیموں کے چھاپے

جیلوں میں کرپشن۔ مانیٹرنگ ٹیموں کے چھاپے
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
اس وقت ملک کو کوئی شعبہ کرپشن سے پاک نہیں۔ جس ملک میں کرپشن کو جرم نہ سمجھا جائے اور کرپشن میں ملوث لوگوں کو چھوڑ دیا جائے ایسے ملک معاشی طورپر کبھی مستحکم نہیں ہو سکتے۔ ملک کو جہاں اور کئی مسائل کا سامنا ہے وہاں ایک بڑ ا چیلنج کرپشن بھی ہے۔ کرپشن کے ادارے بنانے کے باوجود کرپشن میں کمی کی بجائے کرپشن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پولیس رولز میں اگر پانچ روپے چوری ہو جائیں تو ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے مگر یہاں تو اربوں کی کرپشن کرنے والوں کو پلی بارگین کے قانون کے تحت چھوڑ دیا جاتا ہے۔ پنجاب کی جیلوں میں کرپشن کے خاتمے کیلئے آج کل مانیٹرنگ ٹیم بڑی متحرک ہے۔ مانیٹرنگ ٹیموں کا جیلوں میں اچانک چھاپوں سے کرپشن کا خاتمہ نہ سہی کم از کم کرپشن کرنے والوں کا پتہ چل جاتا ہے۔ سینٹرل جیل راولپنڈی میں ڈائریکٹر جنرل مانیٹرنگ اور ان کی ٹیم نے اچانک چھاپہ مارا تو ملاقاتی شیڈ میں لوگوں نے انہیں بتایا فلاں اہل کار ملاقاتیوں سے پیسے لے کر جرابوں میں رکھ رہا ہے۔ اہل کار کی تلاشی لینے پر اٹھارہ ہزار روپے سے زائد رقم برآمد ہوگئی۔ تعجب ہے ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں مانیٹرنگ ٹیم نے اچانک چھاپہ مارا تو پانچ ہزار روپے برآمد ہوئے تو سپرنٹنڈنٹ اشتیاق گل اور دیگر عملے کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا لیکن سینٹرل جیل اڈیالہ میں اہل کار سے اٹھارہ ہزار سے زائد رقم برآمد ہوئی تو شیڈ کے انچارج اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اور دو وارڈرز کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا جو محکمہ جیل خانہ جات کے امتیازی سلوک کی واضح مثال ہے۔ پنجاب کی جیلوں میں سینٹرل جیل راولپنڈی کا شمار ان جیلوں میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ سب اچھا ہوتا ہے۔ شاید اسی لئے اڈیالہ جیل میں تعیناتی کے لئے جیل افسران اور ملازمین ہاتھ پائوں مارتے رہتے ہیں۔ اگر ہم سینٹرل جیل اڈیالہ میں ہونے والی مبینہ کرپشن کی بات کریں تو قارئین کو حیرت ہوگی جیل کا ایک قیدی گزشتہ کئی برس سے سرکاری کنٹین سے اشیائے خورونوش خرید کر بیرک میں فروخت کرتا ہے۔ کئی موقعوں پر شکایات کی صورت میں چند روز کے لئے شاپ بند کرنا پڑتی ہے، جس کے بعد دوبارہ شروع ہوجاتی ہے۔ اغوا برائے تعاون میں عمر قید کا یہ قیدی لاکھوں روپے ماہانہ بھتہ ادا کرتا ہے۔ اگر کوئی اچانک چھاپہ مارے تو بیرک نمبر چار کے ایک کمرہ کے ایک کونے میں جہاں لوہے کا جنگلا نصب ہوتا ہے وہیں اپنی اشیا رکھ کر شام کے اوقات میں فروخت کرتا ہے۔ یوں تو کسی قیدی بارے معمولی شکایت ہو تو جیل افسران انتظامی امور قیدی کے ہسٹری کارڈ پر لکھ کر اس کا چالان نکال دیتے ہیں لیکن ایسے قیدی جو لاکھوں روپے کما کر جیل والوں کو دیتے ہوں ان کا چالان کون نکالے گا؟ مجھے یاد ہے سینٹرل جیل ساہیوال میں جن دنوں مبشر ملک سپرنٹنڈنٹ جیل ہوا کرتے تھے ایک روز ملاحظہ میں قیدیوں کے ہسٹری کارڈ دیکھتے ہی برہم ہوگئے اور کہنے لگے جس قیدی کا گتہ دیکھتا ہوں انتظامی امور لکھا ہے اللہ کے بندوں گتے پر لکھا تو کرو قیدی نے کیا جرم کیا ہے۔ بدقسمتی سے یہ سلسلہ ابھی تک چل رہا ہے حالانکہ اصولی طور پر قیدی نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہو اس کے ہسٹری کارڈ پر تحریر ہونا چاہیے۔ انتظامی امور ایک ایسا لفظ ہے جسے دیکھتے ہی جس جیل میں قیدی کو بھیجا جاتا ہے وہاں کے ملازمین قیدیوں پر تشدد شروع کر دیتے ہیں ان کے نزدیک نہ جانے قیدی نے کتنا بڑا جرم کیا ہوگا۔ جیلوں میں جس افسر کو پیسے نہ دیئے جائیں ایسے قیدیوں کا چالان نکال دیا جاتا ہے جیل والوں نے اندھیر مچایا ہوا ہے ۔ ہمیں یاد ہے سینٹرل جیل راولپنڈی میں ایوب نامی ایک اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جو قیدی پیسے نہ دیں یا اگر کسی قیدی کی دوسرے قیدی سے نہ بنتی ہو تو ایوب کو رشوت دے کر چالان نکلوایا جا سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے ایک قیدی نے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایوب کے خلاف شکایت کی تو چیف جسٹس نے قیدی اور ایوب دونوں کو سپریم کورٹ میں طلب کرلیا جس کے بعد چیف جسٹس کا حکم تھا ایوب کو جب تک ملازمت میں اسے سینٹرل جیل راولپنڈی نہ لگایا جائے جس کے بعد وہ سنٹرل جیل گوجرانوالہ سے بطور ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ ملازمت سے ریٹائر ہو گیا۔ گزشتہ برس راولپنڈی کی ڈسٹرکٹ کورٹس میں ریٹائرمنٹ کے بعد وکالت کرتے دل کا دورہ پڑنے سے جہان فانی سے رخصت ہو گیا۔ قارئین کو حیرت ہوگی جیل کے قصوری بلاک جہاں کسی جرم کی پاداش میں قیدیوں کوسزا کے طور پر رکھا جاتا ہے وہاں ڈیوٹی لگوانے کے لئے بھی ماہانہ بھتہ طے ہوتا ہے۔قصوری بلاک میں صرف لنگر خانے سے آنے والا کھانا میسر ہوتا ہے نہ تو قیدی وہاں سے باہر نکل سکتا ہے نہ ہی وہ اپنے طور پر کچھ پکا سکتا ہے۔ یہاں تک کے اسے وہاں سگریٹ پینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ سگریٹ اور نشے کے عادی قیدیوں کو سگریٹ کی طلب ہوتی ہے تو یا وہ اپنے پاس سگریٹ رکھتے ہیں لیکن عام طور پر قصوری بلاک کا انچارج ہیڈ وارڈر سگریٹ اپنی تحویل میں رکھ لیتا ہے تاکہ اگر کسی موقع پر اچانک تلاشی آجائے اور سگریٹ برآمد ہو ں تو انچارج کے خلاف کارروائی ہوتی ہے۔ جیلوں کو کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں مبینہ طور پر کرپشن نہ ہوتی ہے مثال کے طور پر ملاقاتی شیڈ سے اندرون جیل تلاشی، فیکٹری، لنگر خانہ، بیرکس ، سزائے موت، ہسپتال، منشیات بیرکس، مسجد میں مشقت، جھاڑو پنجہ ،اسکول، سینٹرل ٹاور جسے چکر کہا جاتا ہے وہاں ردیف پر قیدی کی ڈیوٹی وغیرہ سب مال پانی کمانے کے بڑے ذرائع ہوتے ہیں۔ مانیٹرنگ ٹیم اچانک لنگر خانے میں چھاپہ مار کر دیکھ لے اگر وہاں دو سو قیدیوں کی مشقت ڈالی گئی ہے تو مشقت کرنے والے سو قیدی ہوں گے جب کہ سو قیدی سب اچھے پر ہوں گے۔ سینٹرل جیلوں جیسا کہ راولپنڈی جیل ہے وہاں تو کم از کم چار پانچ سو قیدیوں کو لنگر خانے پر مشقت کے لئے ڈالا جاتا ہے۔ اس وقت سینٹرل جیل راولپنڈی میں کم از کم لنگر خانے کا سب اچھا پانچ ہزار روپے سے زائد ہے۔ اگر دو سو قیدی بھی سب اچھے پر ہوں تو کتنے لاکھ روپے سب اچھے کی رقم جمع ہوتی ہے۔ باقی ان شاء اللہ پھر سہی۔





