Column

یومِ پاکستان: عزم، اتحاد اور مستقبل کا سفر

یومِ پاکستان: عزم، اتحاد اور مستقبل کا سفر
23 مارچ کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب1940ء میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک علیحدہ وطن کے قیام کا متفقہ فیصلہ کیا اور ایک ایسے ملک کا خواب دیکھا جہاں وہ اپنی مذہبی، ثقافتی اور سماجی اقدار کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں۔ اس سال بھی یومِ قراردادِ پاکستان ملک بھر میں منایا گیا۔ یہ دن نہ صرف ماضی کی عظیم جدوجہد کی یاد دلاتا ہے بلکہ ہمیں حال کے چیلنجز اور مستقبل کی ذمے داریوں کا بھی احساس دلاتا ہے۔ اس موقع پر ملکی قیادت صدر، وزیراعظم اور مسلح افواج نے اپنے اپنے پیغامات میں قومی اتحاد، ترقی اور سلامتی کے عزم کو اجاگر کیا، جو اس دن کی اہمیت کو مزید بڑھاتے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں قوم کو یومِ پاکستان کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ 23مارچ ہمیں اس تاریخی لمحے کی یاد دلاتا ہے جب مسلمانوں نے ایک علیحدہ وطن کے قیام کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی عزم کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اتحاد سب سے اہم عنصر ہے۔ صدر کے مطابق، قیامِ پاکستان کے وقت درپیش بے شمار چیلنجز کے باوجود قوم نے باہمی تعاون سے مشکلات پر قابو پایا اور ہر شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت، جوہری طاقت کے حصول اور دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کو قوم کی بڑی کامیابیوں میں شمار کیا۔ صدر کا یہ پیغام دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ قومی یکجہتی ہی ہر مشکل کا حل ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی یومِ پاکستان کے موقع پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے 23مارچ کو جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 86سال قبل مسلم قیادت نے متحد ہو کر ایک آزاد ریاست کی بنیاد رکھی جہاں مسلمانوں کے آئینی اور سیاسی حقوق محفوظ ہوں۔ وزیراعظم نے اپنے پیغام میں موجودہ چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مشکلات کے باوجود اپنی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے اور مثبت اقتصادی اشاریے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک درست سمت میں گامزن ہے۔ وزیراعظم نے خطے کی صورت حال، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان بطور ایک ذمے دار ریاست متوازن اور فعال سفارت کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن بنیانِ مرصوص میں مسلح افواج نے دشمن کو دندان شکن جواب دیا جب کہ 26فروری 2026ء کو ہونے والی بلااشتعال جارحیت کا جواب آپریشن غضبِ للحق کے ذریعے دیا گیا۔ انہوں نے افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بہادر افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے بھی یومِ پاکستان پر خصوصی پیغام جاری کیا گیا، جس میں اس دن کو ایمان، امید اور استقامت کی علامت قرار دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ دن اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ پاکستان جمہوریت کے سائے تلے ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا۔ پیغام میں کہا گیا کہ ملک کو درپیش دہشت گردی اور انتہاپسندی جیسے چیلنجز کے خلاف جنگ جاری ہے اور مسلح افواج، عوام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دشمن کے خلاف متحد اور ثابت قدم ہیں۔ افواجِ پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ ہر قسم کی جارحیت اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ پیغام میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ پاکستان ایک ذمے دار ریاست کے طور پر عالمی اور علاقائی استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ یہ پیغام نہ صرف دفاعی عزم کی عکاسی کرتا ہے بلکہ قومی سلامتی کے وسیع تر تصور کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ یومِ پاکستان کے موقع پر آنے والے یہ پیغامات ہمیں ایک مشترکہ نکتہ پر لے آتے ہیں۔ اتحاد، استحکام اور ترقی۔ اگرچہ پاکستان نے مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن ابھی بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں، جن میں معاشی عدم استحکام، سیاسی تقسیم اور سماجی ناہمواری شامل ہیں۔ ان مسائل کا حل صرف اسی صورت ممکن ہے جب ہم قومی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں اور اجتماعی طور پر آگے بڑھیں۔ یہ دن ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ حقیقی ترقی صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ مضبوط معیشت، معیاری تعلیم، مثر انصاف کے نظام اور سماجی ہم آہنگی سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر ہم واقعی قراردادِ پاکستان کے وژن کو عملی شکل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں ان شعبوں پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ نوجوان نسل اس ملک کا مستقبل ہے اور انہیں بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیم، ہنر اور مواقع فراہم کرکے ہم انہیں ایک مثبت سمت دے سکتے ہیں، جو ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ آخر میں، یومِ قراردادِ پاکستان ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے آباو اجداد کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے متحد رہیں گے۔ صدر، وزیراعظم اور مسلح افواج کے پیغامات اسی عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان ایک مضبوط، خودمختار اور خوشحال ریاست کے طور پر اپنا سفر جاری رکھے گا۔ یہ دن صرف ایک یادگار نہیں بلکہ ایک ذمے داری بھی ہے، ایک ایسی ذمے داری جسے ہمیں بطور قوم سنجیدگی سے نبھانا ہوگا۔
پنجاب: پہلا اسکل سٹی قائم کرنے کا فیصلہ
پنجاب میں پہلا ’’ اسکل سٹی‘‘ قائم کرنے کا اصولی فیصلہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے جو نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے نوجوانوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہوسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے اس منصوبے کی منظوری اور تفصیلی پلان طلب کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کو ترجیح دے رہی ہے۔ پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج بے روزگاری اور ہنر کی کمی ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے اکثر طلبہ کو عملی زندگی اور انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق تیار نہیں کر پاتے، جس کے نتیجے میں ڈگری یافتہ نوجوان بھی ملازمت کے حصول میں مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ اسکل سٹی منصوبہ اس خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش معلوم ہوتا ہے، جہاں ٹیکنیکل اور پریکٹیکل تعلیم کو براہِ راست صنعتوں کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت ٹیکنیکل ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹس کا قیام اور انہیں سینٹر آف ایکسی لینس میں تبدیل کرنے کا ہدف نہایت اہم ہے۔ مزید برآں، پنجاب کے ٹیکنیکل ووکیشنل ایجوکیشن بورڈ کا اسکاٹ لینڈ اور برطانیہ کے اداروں سے الحاق عالمی معیار کی تعلیم کے حصول میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر اس تعاون کو موثر انداز میں نافذ کیا گیا تو پاکستانی نوجوان عالمی مارکیٹ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ تاہم، کسی بھی بڑے منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس کے عملی نفاذ پر ہوتا ہے۔ ماضی میں بھی کئی ترقیاتی منصوبے بلند دعوں کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے۔ اسکل سٹی کے لیے ضروری ہے کہ اس میں شفافیت، میرٹ اور جدید تقاضوں کو یقینی بنایا جائے۔ اساتذہ کی تربیت، جدید لیبارٹریز اور انڈسٹری کے ساتھ مضبوط روابط اس منصوبے کی کامیابی کے بنیادی عناصر ہوں گے۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے دیگر سماجی مسائل جیسے صاف پانی، موسمیاتی تبدیلی، شجرکاری اور خصوصی بچوں کی فلاح پر توجہ دینا بھی ایک مثبت پہلو ہے، جو ایک جامع حکومتی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، اصل امتحان ان اعلانات کو عملی اقدامات میں بدلنے کا ہے۔ اگر اسکل سٹی منصوبہ سنجیدگی اور تسلسل کی ساتھ مکمل کیا گیا تو یہ نہ صرف نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کرے گا بلکہ معیشت کو بھی مضبوط بنیادیں فراہم کرے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو خود انحصاری اور پائیدار ترقی کی جانب لے جاسکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button