سلامتی بھی امتیازی حق ہے؟ ا

کیا سلامتی بھی امتیازی حق ہے؟
تحریر : محمد محسن اقبال
اقوام کی زندگی میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب طاقت اور بیانیے کے بوجھ تلے دبے ہوئے سوالات یکایک شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں، اور پھر انہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔ آج بھی ایک ایسا ہی سوال عالمی ضمیر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے؛ کیا صرف ریاستہائے متحدہ امریکہ کو ہی یہ حق حاصل ہے کہ وہ سلامتی، خودمختاری اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارے، جبکہ یہی حق جب دیگر اقوام مانگیں تو اسے شک، مخالفت یا حتیٰ کہ طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی جائے؟
امریکہ نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اپنے لیے دنیا کے سب سے طاقتور عسکری ذخائر میں سے ایک تیار کیا ہے۔ وہ اسلحے کے اس انبار کو اپنی سلامتی اور خودمختاری کے لیے ناگزیر قرار دیتا ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر، جب دیگر ممالک اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہی امریکہ گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ یہی تضاد درحقیقت موجودہ عالمی سیاست کی بے چینی کا بنیادی سبب ہے۔ اگر امریکہ کو اپنی حفاظت کے لیے طاقت جمع کرنے کا حق حاصل ہے تو کیا وہ اخلاقی طور پر یہی حق دوسروں سے چھین سکتا ہے؟ اور اگر اسے دوسروں کی طاقت سے خطرہ محسوس ہوتا ہے تو کیا یہ فطری نہیں کہ وہ ممالک بھی امریکہ کی قوت سے خوف محسوس کریں؟
تاریخ ہمیں کڑوے مگر سبق آموز حقائق سے روشناس کراتی ہے۔ عراق کا سانحہ اس حقیقت کی ایک المناک مثال ہے کہ جب خوف کو غلط معلومات اور سیاسی عزائم کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو اس کے نتائج کس قدر تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا دعویٰ ایک ایسی جنگ کا جواز بنا، جس نے ایک پورے ملک کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا، لاکھوں زندگیاں نگل لیں اور ایک پورے خطے کو عدم استحکام کی آگ میں جھونک دیا۔ مگر بعد ازاں یہ تسلیم کیا گیا کہ ایسے کوئی ہتھیار موجود ہی نہ تھے۔ یہ سوال آج بھی فضا میں معلق ہے کہ کیا اس تباہی کا کوئی منصفانہ حساب لیا گیا؟ کیا اس اعتماد شکنی کو تاریخ کے اوراق سے یوں ہی مٹا دینا ممکن ہے؟
مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ اپنے بعض اتحادی ممالک، جیسے برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسرائیل، اٹلی، آسٹریلیا اور بھارت، کے بارے میں اس نوع کی تشویش کا اظہار نہیں کرتا، حالانکہ ان میں سے کئی ممالک کے پاس جدید اور بعض صورتوں میں ایٹمی صلاحیتیں بھی موجود ہیں۔ آخر کیوں ایک ہی نوعیت کی طاقت کچھ کے لیے استحکام کی علامت اور دوسروں کے لیے خطرے کی گھنٹی بن جاتی ہے؟ کیا یہ فرق کسی معروضی اصول پر مبنی ہے یا پھر یہ محض مفادات اور تعلقات کی بدلتی ہوئی سرحدوں کا عکس ہے؟
حالیہ عالمی پیش رفت نے اس تضاد کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ایران کے خلاف ممکنہ عسکری کارروائی میں اپنے اتحادیوں کو قائل کرنے میں امریکہ کی ناکامی نے اس کی حکمت عملی میں ایک طرح کی بے چینی کو جنم دیا ہے۔ مگر خود احتسابی کے بجائے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ توجہ نئے موضوعات اور نئے بیانیوں کی طرف موڑ دی گئی ہے، اور پاکستان جیسے ممالک کو شبہات کے دائرے میں لایا جا رہا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف سفارتی تعلقات کو متاثر کرتا ہے بلکہ ان اتحادوں کی بنیادوں کو بھی کمزور کرتا ہے جو برسوں کی محنت سے قائم کیے گئے تھے۔
امریکی پالیسی ساز حلقوں کے اندر بھی یکسوئی کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ کچھ اہلکاروں نے عسکری اقدامات کے جواز پر سوال اٹھائے ہیں، حتیٰ کہ بعض نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ تک دے دیا۔ جبکہ دیگر حلقے مسلسل نئے خطرات کا ذکر کر رہے ہیں۔ یہ اختلاف ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے؛ اصل امریکی پالیسی کی نمائندگی کون کر رہا ہے؟ وہ آواز جو احتیاط اور تحمل کی تلقین کرتی ہے، یا وہ جو خوف کو ہوا دیتی ہے؟ ایک ایسی طاقتور ریاست کے لیے، جس کے فیصلے دنیا بھر پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس قسم کی ابہام خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
اگر خوف پر مبنی پیشگی کارروائی کے اصول کو عالمی سطح پر اپنایا جائے تو اس کا نتیجہ ایک مضحکہ خیز مگر مہلک صورتحال کی صورت میں نکلے گا، جہاں ہر ملک دوسرے کی طاقت ختم کرنے میں مصروف ہوگا۔ یہ راستہ امن کی طرف نہیں بلکہ دائمی تصادم کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے برعکس، حقیقی حل باہمی سلامتی کے تصور میں پوشیدہ ہے، جہاں خودمختاری کا احترام اور مکالمے کو طاقت پر ترجیح دی جائے۔
پاکستان کی مثال اس تناظر میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ قیام کے بعد سے پاکستان نے امریکہ کے ساتھ ایک ایسا تعلق قائم رکھا ہے جو اکثر مشکل حالات میں بھی تعاون اور اشتراک پر مبنی رہا ہے۔ سرد جنگ ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ، پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا، اور اس کی قیمت بھی ادا کی۔ ایسے میں پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھنا نہ صرف تاریخی حقائق سے انحراف ہے بلکہ مستقبل کے تعمیری تعلقات کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ کیا وہ تجزیے، جو ایسے تصورات کو جنم دیتے ہیں، تعصب یا بیرونی اثرات سے پاک ہیں؟ بین الاقوامی سیاست کے پیچیدہ کھیل میں بیانیے اکثر ان قوتوں کے زیر اثر بنتے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتیں۔ غلط اندازے، اگر بروقت درست نہ کیے جائیں، تو پالیسی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، اور ان کے اثرات دور رس ہوتے ہیں۔
آج کی دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں طاقتور ممالک کے فیصلے یہ طے کریں گے کہ آنے والا کل تعاون کا ہوگا یا تصادم کا۔ امریکہ کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ ان اصولوں کی تجدید کرے جن کا وہ ہمیشہ دعویدار رہا ہے، انصاف، مساوات اور تمام اقوام کی خودمختاری کا احترام۔ حقیقی سلامتی نہ صرف ہتھیاروں کے انبار سے حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی خوف کے فروغ سے: بلکہ یہ اعتماد، فہم اور مشترکہ انسانیت کے ادراک سے جنم لیتی ہے۔
خدا کے لیے، اس دنیا کو امن کا گہوارہ رہنے دیجیے، شک و شبہ کے میدانِ جنگ میں تبدیل نہ کیجیے۔ اور عقل کو خوف پر غالب آنے دیجیے، اس سے پہلے کہ خوف ایک بار پھر انسانیت کو ایسے راستے پر لے جائے جہاں سے واپسی نہایت کٹھن اور تکلیف دہ ہو۔





