ColumnTajamul Hussain Hashmi

غیرایٹمی ممالک میں جنگ کا آغاز   

غیر ایٹمی ممالک میں جنگ کا آغاز

تحریر : تجمل حسین ہاشمی

سنہ 2003میں میرا پہلا لکھا ہوا ٹوٹا اخبار میں شائع ہوا تو بری خوش ہوئی، ایڈیٹر کے نام وہ ایک خط تھا ، آج 2026ہے یہ سلسلہ جاری ہے، سیکھنے اور لکھنے کا عمل جاری ہے، دعا ہے یہ عمل آخری سانس تک جاری رہے، کراچی کے حالات سب کو معلوم ہیں، علاقائی لوگ پستول، بندوق اور پتہ نہیں کس کس قسم کا اسلحہ جمع رکھتے تھے، اسلحہ رکھنے کے حوالے سے اپنا من نہیں مانا اور میں اکثر یہ کہ کر ٹال دیتا تھا کہ مجھے اس کی کیا ضرورت ہے، میں ایک سیدھا سادہ بندہ ہوں، جو کسی کے تین میں ہے اور نہ تیرا میں۔ مجھے ایف آئی اے کے اس دوست افسر کی بات یاد آ رہی ہے، وہ کہتا تھا ’’ طاقتور ہی تو کمزور، شریف لوگوں کو تنگ کرتے ہیں ‘‘۔

گزشتہ ڈیڑھ سال میں ریاستوں اور عام شہریوں کی سوچ ان کے رویے کو شدید متاثر کیا ہے، کمزور سے کمزور بندہ بھی اب جارحانہ زندگی کی طرف چلا گیا ہے۔ کمزور اور طاقتور مخالف جنگ کا آغاز ہے۔ شرافت گئی تیل لینے، کے رخ پر چل نکلے ہیں، حالات کے سامنے کھڑا ہونا، اس کا مقابلہ کرنا بھی لازم ٹھہرا ہے۔ اگر آپ حق پر کھڑے ہیں۔ اگر جنگ ، حق پر لڑی جائے تو اس سے انسان اور ریاستیں مضبوط ہوتی ہیں۔ صورتحال جیسی بھی ہو دنیا میں حالیہ رونما تبدیلی کا بنیادی نقط ایک ہے، کمزور ملک ہو یا فرد، دبا کر اپنے مقاصد کو حاصل کیا جائے۔ یہ سوچ دنیا میں آگ لگا دے گی۔ میرے جیسے بندہ سوچتا تھا کہ امن، محبت اور بھائی چارہ سب سے بڑی طاقت ہے، شرافت میں ہی کامیابی ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں، میں اپنے کئی کالموں میں معاشرے کے کردار اور ملک کے امن کیلئے فرد کے کردار کو بڑی اہمیت دیتا رہا ہوں اور دینی بھی چاہئے ۔ لیکن گزشتہ ڈیڑھ سے دو سال میں میری سوچ میں بڑی تبدیلی آ گئی ہے، میں اب خیال کرتا ہوں کہ زندگی کے اس حصے پر زیادہ توجہ رہی، جس میں امن محبت، بھائی چارہ اور جنگ نہیں تھی، میں سوچتا تھا جنگ میں کیا رکھا، لڑائی جھگڑا نہیں ہونا چاہئے، ریاستوں یا افراد کو اپنی اپنی حدود میں رہنا چاہئے، لیکن حالات و واقعات نے سوچ کو یکسر تبدیل کر دیا ہے، لیکن ہمیں عوامی فیصلوں، معاشی پلاننگ یا سیاسی جوڑ توڑ میں طاقتور قوتوں کی جی حضوری کے علاوہ کچھ نظر نہیں آیا، اس میں بھی دو رائے نہیں کہ ان 77سال میں سب سے زیادہ تنقید ، اعتراضات سیکیورٹی اداروں پر کئے جاتے رہے ہیں، لفظ اسٹیبلشمنٹ کا سہارا لیا جاتا رہا۔ حکومتی ایوانوں، سیاسی بیٹھکوں میں پرورش پانے والی سیکیورٹی حوالے سے تنقیدی سوچ کو سیاسی لیڈر گلی محلوں تک لے کر آ گئے، لیکن عسکری طاقت کی اہمیت کا اندازہ انڈیا کے حملوں کے جواب میں نظر آیا۔ اس کے بعد سے ہمارے لیڈروں کی سوچ میں بھی تبدیلی نظر آئی ہے۔ حالات و واقعات نے انٹر نیشنل جنگی جنون میں اضافہ کیا ہے۔ اس کا شکار کمزور ممالک ہیں۔ ٹرمپ کی جیت کے بعد پوری دنیا میں جنگ، اسلحہ اور بم، بارود کی خرید و فروخت میں اضافہ ہوا ہے، طاقت کے زور پر کمزور ملکوں کی قیادت کو مار کر ان کے وسائل اور عوام کی سوچوں پر قبضہ کرنے کا ٹرینڈ چل نکلا ہے، جس میں تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ خود ایٹم بم رکھیں اور دوسرا کوئی ملک اپنی حفاظت کے لیے ایٹم نہیں رکھ سکتا، یہ کیسی جمہوریت یا انصاف پسندی ہے۔ امریکہ کی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جینس تلسی گبارڈ نے پاکستان کے میزائل پروگرام کو اپنے ملک کے لئے خطرہ قرار دیا، لیکن بھارت کے میزائل پروگرام کا ذکر تک نہیں کیا ،جس کی رینج بہت زیادہ ہے۔ ایسے بیانات کا مقصد پاکستان پر دبائو ڈال کر ایران کے خلاف استعمال کرنا ہے، جو ممکن نہیں۔ پاکستان کو موثر جواب دینا ہو گا۔ پاکستانی سلامتی اداروں کی پلاننگ کا ثمر آج قوم کو مل رہا ہے اور ہم لوگ ابھی بھی آزاد ہیں اور پوری قوم ملکی سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ہمارے آرمی چیف سید عاصم منیر نے اپنے کئی خطابات میں ملکی سلامتی پر واضح پیغام دیا ہے، انہوں نے ہارڈ سٹیٹ کا اعلان کیا، آج اس پیغام کی اہمیت سمجھ آ رہی ہے۔ ملک مخالف طالبان کو اپنے ملک میں بسا کر امن تلاش کرنے والوں کی عقل پر اقتدار کا پردہ پڑ گیا تھا ۔ امن کے دشمنوں نے عراق ، شام ، فلسطین، دیگر کئی ممالک پر ظلم جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اب ایران پر حملے کر رہے ہیں، اس جنگ کا جو بھی نتیجہ نکلے لیکن دنیا میں امن، محبت کی سوچ رکھنے والے کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ اقوام متحدہ اپنی ساکھ کھو چکی ہے۔ ریاستی سطح پر آپ جیتنے مرضی پر امن ہوں، اپنی بقا کیلئے طاقت کا اعلان انتہائی ضروری ہے ، جنگ بری چیز ہے، ہتھیار انسان کا دشمن ہے۔ لیکن جب بات اپنی بقا یا عزت کی آ جائے اور طاقتور سنگین صورت پیدا کر دے، جس میں لاکھوں لوگوں کی جانوں کو خطرہ ہو، تو اپنی بقا کیلئے حملے کا جواب دینا لازم ہے۔

جواب دیں

Back to top button