مشرقِ وسطیٰ جنگ اور حقائق

مشرقِ وسطیٰ جنگ اور حقائق
مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کو محض ایک واقعہ یا ایک حملے تک محدود کرکے دیکھنا حقیقت سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہوگا۔ جنوبی اسرائیلی شہر عراد پر ایرانی میزائل حملہ دراصل ایک بڑے پس منظر کا حصہ ہے۔ ایک ایسا پس منظر جس میں برسوں سے جاری جارحیت، طاقت کا عدم توازن اور عالمی سیاست کے دوہرے معیار شامل ہیں۔ یہ بات نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ایران کی حالیہ کارروائیاں کسی خلا میں نہیں ہوئیں بلکہ ان کا تعلق براہِ راست ان حملوں سے ہے جو ایران کی سرزمین پر کیے گئے، خصوصاً نطنز جیسے حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں میں ایران کے اندر بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔ ایسے میں ایران کی جانب سے جوابی ردعمل کو یک طرفہ ’’ جارحیت‘‘ قرار دینا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ اسرائیل طویل عرصے سے خطے میں عسکری برتری رکھتا ہے اور متعدد بار ہمسایہ ممالک، خصوصاً ایران، شام اور لبنان میں کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ ایسی کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ایران کے خلاف پہلے سے منظم حملے کیے گئے، جنہوں نے موجودہ صورت حال کو جنم دیا۔ ایسے میں ایران کی جانب سے جوابی حملے کو محض ایک ’’ حملہ‘‘ کہنا اور اس کے پس منظر کو نظرانداز کرنا دراصل حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ایران کا مقف یہ ہے کہ اس نے اپنی خودمختاری اور دفاع کے حق کے تحت کارروائی کی ہے، جو کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہر ریاست کا بنیادی حق ہے۔ اگر ایک ملک کی جوہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے جائیں تو کیا وہ خاموش رہے؟ یا پھر وہ اپنی سلامتی کے لیے جواب دے؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب عالمی برادری اکثر دینے سے گریز کرتی ہے۔ دوسری جانب امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں اس بحران کو مزید سنگین بنارہی ہیں۔ ایران کو 48گھنٹے کی ڈیڈ لائن دینا اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے کھلی فوجی کارروائی کی بات کرنا دراصل ایک بڑی جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی پوری دنیا کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر اس کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو وہ بھی امریکی مفادات پر حملہ کرے گا۔ یہ بیان محض ایک دھمکی نہیں بلکہ اس بات کی نشان دہی ہے کہ اگر صورت حال قابو سے باہر ہوئی تو یہ تنازع ایک مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے، جس کے اثرات خلیج سے لے کر یورپ تک محسوس کیے جائیں گے۔ یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ عالمی میڈیا کا بڑا حصہ اس تنازع کو ایک خاص زاویے سے پیش کرتا ہے۔ ایران کے ردعمل کو نمایاں کیا جاتا ہے، مگر اس سے پہلے ہونے والی کارروائیوں کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام عوام کے سامنے ایک نامکمل تصویر آتی ہے، جس میں اصل محرکات چھپ جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران ایک ایسے دبا کا شکار ہے جو صرف فوجی نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی بھی ہے۔ پابندیاں، سفارتی تنہائی اور مسلسل دھمکیاں، یہ سب عوامل ایران کو ایک ایسے مقام پر لے آئے ہیں جہاں اسے اپنی بقا کے لیے سخت فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اس تنازع میں اصل مسئلہ طاقت کا عدم توازن اور عالمی انصاف کا فقدان ہے۔ اگر ایک فریق کو کھلی چھوٹ دی جائے اور دوسرے کو ہر اقدام پر مجرم ٹھہرایا جائے تو ایسے میں ردعمل ناگزیر ہوجاتا ہے۔ ایران کی حالیہ کارروائیاں اسی ردعمل کا حصہ ہیں، نہ کہ کسی بلاجواز جارحیت کا مظہر۔ آخر میں یہ بات واضح ہے کہ اگر عالمی طاقتیں، خصوصاً امریکا، اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہیں کرتیں اور خطے میں توازن قائم کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی تو یہ کشیدگی مزید بڑھے گی۔ ایران کو دی جانے والی دھمکیاں مسئلے کا حل نہیں بلکہ اسے مزید پیچیدہ بنائیں گی۔ یہ وقت ہے کہ دنیا یکطرفہ بیانیے سے نکل کر حقائق کو غیرجانبداری سے دیکھے۔ کیونکہ جب تک انصاف کا معیار سب کے لیے یکساں نہیں ہوگا، تب تک امن ایک خواب ہی رہے گا۔
فیلڈ مارشل کا عید پر کرم کا دورہ
پاکستان کے دفاع و سلامتی کے تناظر میں عیدالفطر کے موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کرم کا دورہ ایک اہم علامتی اور عملی پیغام کا حامل اقدام ہے۔ ایسے مواقع پر اعلیٰ عسکری قیادت کا سرحدی اور حساس علاقوں میں تعینات جوانوں کے ساتھ وقت گزارنا نہ صرف ان کے حوصلے بلند کرتا بلکہ قومی یکجہتی اور دفاعی عزم کو بھی تقویت دیتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل کا عید کی نماز فوجی جوانوں کے ساتھ ادا کرنا اور ملکی استحکام و خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ افواجِ پاکستان اپنی ذمے داریوں کو محض پیشہ ورانہ فریضہ نہیں بلکہ ایک قومی و دینی فریضہ سمجھتی ہیں۔ اس موقع پر جوانوں کی غیرمتزلزل لگن، بلند حوصلے اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہنا ایک مثبت روایت ہے جو ادارے کے اندر اعتماد اور وابستگی کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ خصوصی طور پر آپریشن غضب للحق کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ذکر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کی افواج نے قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے۔ یہ کامیابیاں نہ صرف داخلی امن کے لیے اہم ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کرتی ہیں۔ کرم کا علاقہ جغرافیائی اور اسٹرٹیجک لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جہاں سیکیورٹی چیلنجز ماضی میں بھی موجود رہے ہیں۔ ایسے میں عسکری قیادت کی موجودگی یہ پیغام دیتی ہے کہ ریاست اپنی سرحدوں کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے مکمل طور پر مستعد ہے۔ اس کے ساتھ افغانستان کے حوالے سے دیا گیا بیان بھی نہایت اہم ہے، جس میں واضح کیا گیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ موقف نہ صرف قومی سلامتی کی ترجمانی کرتا ہے بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں بلکہ اس کے لیے سیاسی، سفارتی اور سماجی سطح پر بھی ہم آہنگی درکار ہوتی ہے۔ عسکری قیادت کے ایسے بیانات اور اقدامات دراصل ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہوتے ہیں، جن کا مقصد نہ صرف خطرات کا مقابلہ کرنا بلکہ ایک پائیدار امن کی بنیاد رکھنا ہوتا ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عید جیسے خوشی کے موقع پر سرحدی علاقوں میں تعینات جوانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ایک مضبوط پیغام دیتا ہے کہ قوم اور اس کی افواج ایک ہیں۔ یہی اتحاد اور عزم پاکستان کے محفوظ اور مستحکم مستقبل کی ضمانت ہے۔





