Column

فتنہ، طاقت اور خلیج کا غیر یقینی مستقبل

فتنہ، طاقت اور خلیج کا غیر یقینی مستقبل
تحریر: محمد محسن اقبال
آج مشرقِ وسطیٰ غیر معمولی کشیدگی کی فضا میں گھرا ہوا ہے، جہاں سیاسی حکمتِ عملی اور عسکری تیاری خوف، بدگمانی اور اچانک جنگ کے ہمہ وقت خطرے کے ساتھ بے اطمینانی سے ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ جو منظر بظاہر اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک محاذ آرائی دکھائی دیتا ہے، جسے امریکہ کی بھرپور حمایت حاصل ہے، درحقیقت ایک ایسے بحران میں تبدیل ہو چکا ہے جس کے ارتعاشات پورے خطہ خلیج میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اب تنازعے کا جغرافیہ محض بیانات یا محدود جھڑپوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں اتحاد، فوجی اڈے، مقدس مقامات، توانائی کی گزرگاہیں اور پوری امتِ مسلمہ کا اجتماعی ضمیر شامل ہو چکا ہے۔
خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی، جسے طویل عرصے سے بازدار قوت اور علاقائی استحکام کے نام پر جائز قرار دیا جاتا رہا، اب ایک خطرناک پیچیدگی کو جنم دے چکی ہے۔ خود مختار مسلم ممالک کی سرزمین پر قائم یہ تنصیبات ایک طرف شراکت داری کی علامت ہیں تو دوسری طرف ممکنہ خطرے کا استعارہ بھی۔ تہران واضح کر چکا ہے کہ اگر ان اڈوں کو ایران کے خلاف کسی معاندانہ کارروائی کے لیے استعمال کیا گیا تو وہ جائز ہدف تصور ہوں گے، اور یوں واشنگٹن براہِ راست کسی بھی تصعید میں ملوث ہو جائے گا۔ تاہم ایران نے یہ بھی اعلانیہ کہا ہے کہ اس کا ہمسایہ مسلم ممالک کی شہری آبادیوں یا تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ یہ امتیاز سفارتی لحاظ سے اہم سہی، مگر ایسے خطے میں جہاں غلط فہمی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، اس سے اضطراب کم نہیں ہوتا۔
ایسے ماحول میں قرآنِ کریم کی تنبیہ غیر معمولی معنویت اختیار کر جاتی ہے:’’ وَالْفِتْنَُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ‘‘ ( البقرہ: 191)۔ ترجمہ: فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔
فتنہ، یعنی انتشار، دانستہ اشتعال انگیزی یا عدم استحکام پیدا کرنا، ایسی آگ بھڑکا سکتا ہے جس کا ارادہ ابتدا میں کسی فریق کا نہ ہو۔ خطرہ صرف اعلانیہ جنگ میں نہیں بلکہ خفیہ کارروائیوں، جھوٹے واقعات اور تخریب کاری میں بھی مضمر ہے، جو کشیدگی کو ہوا دینے کے لیے ترتیب دئیے جا سکتے ہیں۔ بعض حلقوں میں ایسی خفیہ سرگرمیوں اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس کی خبریں گردش کر رہی ہیں جو مبینہ طور پر خلیجی سرزمین پر ایسے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جن کا الزام ایران پر عائد کیا جا سکے۔ یہ دعوے خواہ مبالغہ آمیز ہوں یا مستند، ان کی محض گردش ہی بدگمانی کو بڑھا دیتی اور علاقائی اعتماد کو مجروح کرتی ہے۔
قرآن مزید ہدایت دیتا ہے: ’’ یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا ِن جَائَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبٍَ فَتَبَیَّنُوا‘‘ ( الحجرات: 6) ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو۔
ابلاغ کے اس برق رفتار اور نفسیاتی جنگ کے دور میں یہ حکم صرف اخلاقی نہیں بلکہ اسٹریٹیجک اہمیت بھی رکھتا ہے۔ ادھوری یا مسخ شدہ معلومات کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے پوری قوموں کو طویل جنگ میں جھونک سکتے ہیں۔ احتیاط، تحقیق اور تحمل کمزوری نہیں بلکہ مدبرانہ قیادت کی علامت ہیں۔
فوری عسکری حساب کتاب سے ہٹ کر ایک وسیع تر اسٹریٹیجک بیانیہ بھی سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ بہت سے تجزیہ نگاروں کے مطابق اسرائیل اور اس کے سرپرست ایک ایسے منصوبے پر کاربند ہیں جس کا تصور برسوں پہلے پیش کیا گیا تھا، اور جس کا مقصد موجودہ اسرائیل کو ایک’’ گریٹر اسرائیل‘‘ میں تبدیل کرنا ہے۔ حالیہ دنوں میں تل ابیب میں متعین امریکی سفیر کی جانب سے’’ گریٹر اسرائیل‘‘ کے تصور کا حوالہ بعض حلقوں میں دیرینہ نظریاتی عزائم کے اظہار کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ یہ بیانات سرکاری پالیسی ہوں یا محض خطیبانہ انداز، انہوں نے اس اندیشے کو تازہ کر دیا ہے کہ موجودہ بحران کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ ایک تسلسل کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اس بدگمانی کی فضا میں ہر پیش رفت کو وسیع تر جغرافیائی و سیاسی تبدیلی کے تناظر میں پرکھا جا رہا ہے۔
یہاں خصوصی تشویش مقدس اور علامتی مقامات کے حوالے سے پائی جاتی ہے۔ یروشلم تینوں ابراہیمی مذاہب کے لیے روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی شہر میں مسجدِ اقصیٰ واقع ہے، جو اسلام کا قبلہ اول اور بے مثال تقدس کی حامل امانت ہے۔
قرآن ان لوگوں کی مذمت کرتا ہے: ’’ جو اللہ کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے روکتے اور ان کی ویرانی کی کوشش کرتے ہیں‘‘ (البقرہ:114)۔
شدید بحران کے لمحات میں یہ خدشہ سر اٹھاتا ہے کہ ایسے مقدس مقامات کو اشتعال انگیزی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ وسیع تر فوجی کارروائی کا جواز پیدا کیا جائے۔ بعض حلقے اس سے بھی سنگین منظرناموں کا تصور کرتے ہیں کہ اگر کسی ناپاک سازش کے تحت اسرائیل مسجد کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس کا الزام کسی بیرونی فریق یعنی ایران پر عائد کر کے ایک ناقابلِ اندازہ جنگ کو بھڑکایا جا سکتا ہے۔ یہ خدشات خواہ قیاس آرائی ہوں، ان کی معقولیت ہی اس امر کی غماز ہے کہ موجودہ ماحول کس قدر آتش گیر ہو چکا ہے۔
خلیجی بادشاہتیں نہایت نازک مقام پر کھڑی ہیں۔ ایک طرف واشنگٹن کے ساتھ اسٹریٹیجک شراکت داری، دوسری طرف ایران کے ساتھ ثقافتی، مذہبی، جغرافیائی اور معاشی قربت، انہیں بازدار قوت اور سفارت کاری کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ ان کی تیل کی تنصیبات نہ صرف علاقائی خوشحالی بلکہ عالمی معیشت کے استحکام کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان پر کسی بھی حملے کی بازگشت عالمی منڈیوں، سپلائی چینز اور مالیاتی نظام میں سنائی دے گی۔ لہٰذا خلیج میں رونما ہونے والا کوئی بھی واقعہ محض مقامی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی اثرات کا حامل ہے۔
قرآن کی یہ ہدایت کہ ’’ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا‘‘ ( آلِ عمران: 103) ترجمہ: سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ۔
محض روحانی نصیحت نہیں بلکہ اجتماعی استحکام کا لائحہ عمل ہے۔ اگر امتِ مسلمہ فتنہ اور سازش کے مقابلے میں صف بندی نہ کر سکی تو شاید ہی کوئی ریاست وسیع تر جنگ کے اثرات سے محفوظ رہ سکے۔
اس لیے موجودہ بحران مسلم دنیا کے لیے ایک فیصلہ کن امتحان ہے۔ اگر باہمی رقابتیں، مسلکی بیانیے اور محدود جغرافیائی مفادات اتحاد کی ضرورت پر غالب آ گئے تو خطہ ایسی جنگ کی نذر ہو سکتا ہے جو کسی دارالحکومت، کسی معیشت اور کسی مقدس امانت کو نہ بخشے گی۔ اس کے برعکس، باہمی احترام، شفافیت اور علاقائی سلامتی کے اپنے نظام کی بنیاد پر مربوط سفارتی کوششیں تباہی کو ٹال سکتی ہیں۔ مسلم ریاستوں کے درمیان مکالمہ، عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن روابط اور اشتعال انگیزی کا دوٹوک انکار ناگزیر ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ایک بار بھڑک اٹھیں تو اپنے معماروں کے منصوبوں تک محدود نہیں رہتیں۔ نیابتی قوتیں خود فریق بن جاتی ہیں، محدود حملے طویل مہمات میں بدل جاتے ہیں اور سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ شہری آبادی اٹھاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ دہائیوں سے تباہی اور عدم استحکام کا سامنا کر رہا ہے؛ اس کے معاشرے مسلسل بے یقینی سے تھک چکے ہیں۔ ایک اور آگ کی قیمت صرف عسکری نقصانات میں نہیں بلکہ بکھرتی معیشتوں، بے گھر آبادیوں اور صدموں سے دوچار نسلوں میں ادا کی جائے گی۔
اس نازک موڑ پر ضروری ہے کہ جذبات پر ضبط، افواہوں پر تحقیق اور تقسیم پر اتحاد کو ترجیح دی جائے۔ معاملہ محض قومی وقار یا اسٹریٹیجک برتری کا نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ، مقدس امانتوں کی حفاظت اور تاریخ و خدا کے حضور جواب دہی کا ہی۔ ایسے خطے میں جہاں ایک غلط اندازہ اتحادوں اور دشمنیوں کا نقشہ بدل سکتا ہے، حکمت ہی سب سے مضبوط دفاع ہے۔

جواب دیں

Back to top button