ColumnImtiaz Aasi

ایران اسرائیل جنگ شکست نہیں نئے توازن کی بنیاد رکھے گی۔

ایران اسرائیل جنگ شکست نہیں نئے توازن کی بنیاد رکھے گی۔
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
مسلمان جب تک رسول ٔ اور اپنے اسلاف کی پیروی کرتے رہے دنیا پر حکمرانی کرتے رہے لیکن جوں جوں اپنے اسلاف کی تقلید سے پہلو تہی کرنے لگے فرقوں میں بٹ گئے جس کے نتیجہ میں مسلمان کمزور ہوتے گئے۔ عہد حاضر کی بات کریں تو اس وقت مسلمان اغیار کی زیر نگیں ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ تعداد میں ہونے کے باوجود اغیار کے دست نگر اور اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہیں۔ اگر ہم عرب دنیا کی بات کریں تو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں عیش و عشرت کی زندگی گزارنی کے باوجود کیا مجال کسی مسلمان بھائی پر کڑا وقت آئے تو اس کی دست گیری کر سکیں۔ اس وقت امریکہ جیسی طاغوتی طاقت عالم اسلام پر بھاری ہے جس کے سامنے واحد مسلم ملک ایران ہے جو نبردآزما ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے امریکہ ایران میں رجیم چینج کا خواہاں ہے اس مقصد کے لئی مشرق وسطیٰ کے مسلم ملکوں میں اڈے قائم کر رکھے ہیں جن کا واحد مقصد ایران کی اسلامی حکومت کا تختہ الٹا کر من پسند حکومت کا قیام ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے حضرت آیت اللہ خمینی کے پیروکار امریکہ کے سامنے ڈٹ گئے جو ان کی قوت ایمانی کا منہ بولتا ثبوت ہے ورنہ امریکہ جیسے سپر پاور ملک کے سامنے کھڑا ہونا کسی ملک کے بس کا روگ نہیں۔ جب یہ سطور لکھی جا رہی تھیں اسرائیل ایران جنگ کو سات روز ہو چکے ہیں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت نے اہل ایران میں جذبہ شہادت کی روح پھونک دی ہے اور وہ امریکہ اسرائیل کے سامنے سینہ سپر ہو گئے ہیں۔ عجیب تماشا ہے عرب ملکوں نے امریکہ کو اپنے ہاں اس مقصد کے لئے اڈے مہیا کئے کہ جب کبھی امریکہ اسرائیل کو ایران پر یلغار کرنا پڑے تو ان جہاز ان ملکوں سے فیول لے کر ایران پر حملہ آور ہو سکیں۔ شائد امریکہ کو ایران کی عسکری قوت کا کچھ اندازہ نہیں تھا ایران نے وہ کچھ کر دکھایا جس کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا تمام مسلم ملک یکجا ہو کر امریکہ پر دبائو ڈالتے تاکہ جنگ بندی کی عملی صورت نکل آتی لیکن امریکہ اسرائیل نے باہم مل کر مسلمانوں پر ہولو کاسٹ کو دہرایا ہے۔ گو ایران کے پاس فضائی برتری کا فقدان ہے تاہم ایرانی عوام اور اس کی لیڈرشپ کے جذبہ ایمانی نے امریکہ اور اسرائیل کی چولیں ہلا دی ہیں۔توجہ طلب پہلو یہ ہے ایران نے امریکی اڈوں کو اپنے ڈرون سے نشانہ بنا کر میزائل داغ کر امریکیوں کے ایران کو تباہ کرنے کے خواب چکنا چور کر دیئے۔1979 ء تک ایران امریکہ کا اتحادی اور اس کے زیرنگین ملک تھا۔ حضرت آیت اللہ خمینی کے اسلامی انقلاب کے بعد برسراقتدار اسلامی حکومت نے خلیج سے امریکہ فوجوں کی واپسی اور اڈوں کے خاتمہ کا مطالبہ کر دیا، جس کے بعد امریکہ اسرائیل ایران کے درپے ہو گئے۔ ایک بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی جو فورس میگزین کے ایڈیٹر بھی ہیں نے اپنے وی لاگ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشمکش کو ایک بالکل مختلف زاوے سے دیکھا ہے۔ ان کا دعوی سادہ مگر چونکا دینے والا ہے۔ ایران یہ جنگ نہیں ہارے گا ان کے مطابق مسئلہ یہ نہیں کہ کون زیادہ بم گراتا ہے یا کس کے پاس جہاز ہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اکیسویں صدی کی جنگ کس قسم کے تصور کے مطابق لڑی جا رہی ہے۔ ساہنی کے مطابق ایران کے لئے یہ کوئی محدود فوجی آپریشن نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔ جب کسی ریاست کے سامنے وجود کا سوال کھڑا ہو جائے تو اس کی جنگ کی تعریف بدل جاتی ہے۔ ایران کو امریکہ یا اسرائیل کو مکمل طور پر شکست دنیا ضروری نہیں، اسے صرف اپنے نظام ،اپنی سرزمین اور اپنی خودمختاری کو برقرار رکھنا ہے۔ اگر ریاست باقی رہتی ہے تو وہی اس کی فتح ہے۔ یہی وہ ذہنیت ہے جو طویل جنگوں میں فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیںکہ ایران نے کمانڈ اینڈ کنٹرول کو دانستہ طور پر غیر مرکزی بنایا ہے۔ اگر قیادت کو نشانہ بنایا جائے تب بھی نچلی سطح کے کمانڈر متحدہ کوشش کے ساتھ جنگ جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ ماڈل روایتی یونیٹی آف کمانڈ سے مختلف ہے۔ اس میں نظام کسی ایک شخصیت پر کھڑا نہیں ہوتا بلکہ ایک نظریاتی اور قومی ڈھانچے پر قائم ہوتا ہے۔ ساہنی کے مطابق یہی وجہ ہے کہ قیادت کو ہدف بنانے سے جنگ ختم نہیں ہوگی۔ ان کے تجزیئے کا ایک اہم نکتہ ایرانی قوم پرستی ہے۔ وہ یاد دلانے ہیں کہ ایران ایک قدیم تہذیبی ریاست ہے جس کی جڑیں ہزاروں برس پیچھے جاتی ہیں۔ اس پس منظر میں جنگ کو صرف مذہبی رنگ دنیا درست نہیں۔ ایران نے قومیت کو مرکز بنا کر داخلی اتحاد کو مضبوط کیا ہے۔ ساہنی کے مطابق جب بیرونی خطرہ بڑھتا ہے تو داخلی تقسیم کم ہوجاتی ہے اور یہی عنصر طویل مزاحمت کو طاقت دیتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں ساہنی کا موقف اور بھی زیادہ جرات مندانہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جنگ اب صرف ٹینکوں اور لڑاکا طیاروں کی نہیں رہی بلکہ سگنل، ڈیٹا اور خلا کی ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ایران نے امریکی جی ایس پی پر انحصار کم کرکے چین کے BeiDou 3سسٹم کو اختیار کیا ہے۔ اس سے میزائل اور ڈرون ہدف تک زیادہ درستی سے پہنچ سکتے ہیں اور جیمنگ کے باوجود مواصلات برقرار رہتے ہیں۔ ساہنی کے بقول اصل ہتھیار ا ب سگنل ہے۔ اگر آپ دشمن کے ریڈار کو دھوکہ دے سکیں، اس کے دفاعی نظام کو غلط شناخت پر مجبور کر دیں تو بغیر فضائی برتری کے تصور پر کھڑا ہے۔ جب کہ ایران اور اس کے اتحادی الیکٹرانک، خلائی اور سائبر میدان میں لڑائی کو پھیلا چکے ہیں۔ اس بدلتی ہوئی جنگی نوعیت میں طاقت کا معیار بھی بدل جاتا ہے۔ یوں جغرافیہ بھی ایران کے حق میں ایک اہم عنصر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی شہ رگ ہے۔ اگر یہاں کشیدگی بڑھتی ہے تو صرف ایک ملک نہیں، بلکہ پوری عالمی معیشت متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح بحیرہ احمر اور باب المندب کی صورت حال عالمی تجارت کو براہ راست متاثر کر سکتی ہے۔ ساہنی کے مطابق یہ وہ دبائو ہے جس عسکری طاقت سے زیادہ موثر ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا اثر عالمی منڈیوں ،تیل کی قیمتوں اور سفارتی فیصلوں پر پڑتا ہے۔ ساہنی نے یاد دہانی کرائی ہے کہ جدید جنگ صرف ہتھیاروں کی دوڑ نہیں بلکہ ارادے، ٹیکنالوجی، جغرافیہ، اتحاد اور بیانیے کی جنگ بھی ہے۔ اس کی نظر میں اکیسویں صدی کی جنگ وہ جیتے گا جو ڈیجیٹل، الیکٹرانک اور غیر مرکزی ماڈل کو بہتر سمجھتا ہو۔ ان کے مطابق ایران نے اسی سمت قدم بڑھا دیا ہے اور اسی لئے وہ یقین سے کہتے ہیں کہ یہ جنگ ایران کے لئے شکست پر ختم نہیں ہو گی بلکہ ایک نئے توازن قوت سے بنیاد رکھے گی۔

جواب دیں

Back to top button