استاد عظیم ہے، اس کی قدر کیجیے

استاد عظیم ہے، اس کی قدر کیجیے
رفیع صحرائی
آج کل پنجاب کے سرکاری ملازمیں خصوصاً اساتذہ صاحبان حکومتِ پنجاب کی جانب سے سلب کیے گئے اپنے حقوق کی بحالی کے لیے سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ گو چالیس سے زائد محکمے پنجاب حکومت کی اس پالیسی کی زد میں آئے ہیں جس کے بارے میں صوبائی ملازمین کا موقف ہے کہ ان کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے مگر سڑکوں پر سب سے زیادہ تعداد اساتذہ کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فوج کے بعد سب سے زیادہ سرکاری ملازمین اساتذہ ہی ہیں۔ مہذب معاشروں میں استاد کو باوقار مقام حاصل ہے۔ انہیں انتہائی قدر و منزلت سے دیکھا جاتا ہے۔ انہیں سوسائٹی میں خاص مقام حاصل ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس کے برعکس معاملہ ہے۔ ہماری معیشت پر چونکہ آئی ایم ایف کا کنٹرول ہے اس لیے ہماری حکومتیں اور حکمران آئی ایم ایف پروگرام پر عمل کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ پنجاب اس معاملے میں مرکز اور دوسروں صوبوں پر سبقت لیے ہوئے ہے۔ ڈنگ ٹپائو اور وقتی ریلیف کی پالیسیاں پنجاب میں بہت بڑے پیمانے پر متعارف کروائی جارہی ہیں۔ البتہ مستقل مراعات کا حق واپس لیا جا رہا ہے۔ گڈ گورننس اور فلاحی حکومت میں ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ایم پی ایز، وزراء اور مشیران کی مراعات میں سات آٹھ سو فیصد اضافہ کر دیا جائے۔ بیوروکریسی پر نوازشات کی بارش کر دی جائے جبکہ عام سرکاری ملازمین کو پہلے سے حاصل مراعات میں کمی کر دی جائے۔ اس سلسلے توازن قائم رکھنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے ورنہ معاشرے کے ایک طبقے میں احساسِ محرومی بہت بڑھ جاتا ہے۔
اس وقت پنجاب میں سرکاری ملازمین سڑکوں پر ہیں۔ وہ اپنے غصب شدہ حقوق اور مراعات کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لاہور کے دو ہفتے کے دھرنے کے بعد اب ڈویژنل سطح پر احتجاج کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ وزیرِ اعلیٰ صاحبہ نے اپنی سواری کے لیے مہنگا اور لگژری جہاز خرید لیا ہے۔ ان کے اعلیٰ منصب کے حساب سے یہ کوئی ان ہونی نہیں ہے۔ بس اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ سرکاری ملازمین خاص طور پر استاد کے سائیکل کی سہولت باقی رہے۔ استاد کی تذلیل نہ کی جائے اور اسے اپنے جائز مطالبات کے حصول کے لیے سڑکوں پر خوار نہ ہونا پڑے۔
والدین بچے کو پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اسے عالمِ بالا سے زمین پر لاتے ہیں جبکہ استاد وہ ہستی ہے جو اسے تعلیم دے کر، اس کی تربیت کر کے اسے فرش سے اٹھا کر دوبارہ عرش کی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔ استاد ایک چراغ ہے جو تاریک راہوں میں روشنی کے وجود کو برقرار رکھتا ہے۔ استاد وہ پھول ہے جو اپنی خوشبو سے معاشرے میں امن، مہر و محبت اور دوستی کا پیغام پہنچاتا ہے۔ استاد ایک ایسا رہنما ہے جو آدمی کو زندگی کی گمراہیوں سے نکال کر منزل کی طرف گامزن کرتا ہے۔
اسلام نے دنیا کو علم کی روشنی عطا کی، استاد کو عظمت اور طالب علم کو اعلیٰ و ارفع مقام عطا کیا ہے۔
نبیِ کریمؐ نے اپنے مقام و مرتبہ کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:’’ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘۔ ( ابنِ ماجہ۔ 229)
اسلام نے معلم کو روحانی والد قرار دے کر ایک قابلِ قدر ہستی اور محترم و معظم شخصیت کی حیثیت عطا کی ہے۔ معلم کے کردار کی عظمت و اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس عالمِ رنگ و بُو میں معلمِ اوّل خود ربِ کائنات ہیں۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے: ’’ اور آدم کو اللّٰہ کریم نے سب چیزوں کے اسماء کا علم عطا کیا‘‘۔ ( البقرہ:31)
قرآن کریم میں تقریباً ہر نبی کے لیے ’’ و یعلمہ الکتاب و الحکمتہ‘‘ کا جملہ استعمال کیا گیا ہے یعنی، وہ نبی اپنی قوم کو علم و حکمت سکھاتے ہیں۔
استاد کے بغیر کوئی بھی قوم گمراہی کا شکار ہو جاتی ہے اسی لیے جو قبیلہ بھی اسلام قبول کرتا پیارے نبیؐ وہاں ایک استاد مقرر کر دیتے تھے کہ قوم اندھیرے سے روشنی کی طرف آ جائے۔
استاد ہونا ایک بہت بڑی نعمت اور عظیم سعادت ہے۔ معلم کو اللّٰہ اور اس کی مخلوقات کی محبوبیت نصیب ہوتی ہے۔ مخبرِ صادقؐ نے استاد کی محبوبیت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا: ’’ لوگوں کو بھلائی سکھانے والے پر اللّٰہ، اس کی فرشتے، آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں پانی میں رحمت بھیجتی اور دعائیں کرتی ہیں‘‘۔ (ترمذی: 2675)
اساتذہ کے لیے نبیِ کریمؐ نے دعا فرمائی: ’’ اللّٰہ تعالیٰ اس شخص کو خوش و خرم رکھے جس نے میری کوئی بات سنی، اسے یاد رکھا اور اس کو جیسا سنا اسی طرح لوگوں تک پہنچایا‘‘۔ ( ابو دائود: 366)
نبیِ کریم ٔ کے بعد خلفائے راشدین اور تابعین و تبع تابعین نے بھی استاد کی تعظیم و تکریم کی مثال قائم کی۔
خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ معلمین کو درس و تدریس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ انتظامی امور اور عہدوں پر فائز کرتے تھے۔ حضرت علی المرتضیٰ ؓ کا قول ہے: ’’ جس نے مجھے ایک حرف بھی پڑھا دیا میں اس کا غلام ہوں خواہ وہ مجھے آزاد کر دے یا بیچ دے‘‘۔ ( تعلیم المتعلم:21)
آج ہمارا معلم سڑکوں پر اپنے ناکردہ جرائم کی سزا بھگت رہا ہے۔ یہ استاد حکومت سے خصوصی مراعات نہیں مانگ رہے بلکہ اپنی ان مراعات کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں جو انہیں آئین نے دی ہیں اور ملازمت کے آغاز میں جن مراعات کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ حکومت سرکاری ملازمین کو ان مراعات سے محروم کر رہی ہے۔ اساتذہ حکومت سے لڑائی کے لیے نہیں نکلے، نہ ہی وہ بے چارے لڑ سکتے ہیں۔ وہ تو دادرسی چاہتے ہیں۔ وہ حکومت سے اشک شوئی کی آس لگا کر اپنی فریاد لے کر آئے ہیں۔ فریادیوں کی فریاد سنی جاتی ہے انہیں نظر انداز نہیں کیا جاتا۔
یاد رکھیے! یہ بڑے عہدے اور مناصب استاد ہی کے مرہونِ منت ہیں۔ ان اساتذہ پر معاشی ظلم نہ کیجیی۔ یہ حکمرانوں کی ہمدردی کے مستحق ہیں۔ ان کے ساتھ کمیٹی کمیٹی کا کھیل مت کھیلیے۔
آج معاشرتی انحطاط کا جو عالم ہے کیا کبھی اس کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے؟ اسے سمجھنے کے لیے سادہ سا نکتہ ذہن میں رکھیے کہ امام ابو حنیفہ، سکندرِ اعظم اور ہارون الرشید جیسے لوگ تاریخ میں کیوں زندہ ہیں؟ کیونکہ انہوں نے اساتذہ کو کبھی گلیوں میں اپنے حقوق کے لیے جوتے چٹخانے پر مجبور نہیں کیا بلکہ ان کے جوتے اٹھانے میں فخر محسوس کیا جبکہ ہم نے استاد کو اچھوت بنا کر رکھ دیا ہے۔ یہ ہماری بد بختی ہے کہ ہمارے معاشرے میں استاد کی عزت سے کسی چور اور کرپٹ سیاسی رہنما کا احترام زیادہ ہے۔ یہ آفاقی سچائی ہے کہ جس سماج نے استاد کی اہمیت کو جانا اور شعوری طور پر استاد کو اس کا حق دیا اسی نے کامیابی کی منزلیں عبور کیں







