CM RizwanColumn

عصر حاضر کے تین بڑے فسادی

عصر حاضر کے تین بڑے فسادی

سی ایم رضوان
آج کی دنیا جس طرح جنگ، دہشت، بدامنی اور منافقت سے نبرد آزما ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ اگر دنیا میں اکثریت کے ساتھ نافذ جمہوری نظام کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کہنا بھی بجا ہو گا کہ یہ سارا المیہ ہمیں آج کی دنیا میں رائج لولے لنگڑے جمہوری نظام نے دیا ہے اور یہ بات بلا خوف تردید درست اور واضح طور پر کہی جا سکتی ہے کہ اگر ٹرمپ، مودی اور نیتن یاہو اپنے اپنے ممالک کے اکثریتی ووٹ لے کر جمہوری اقتدار پر براجمان ہوئے ہیں تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آج کی مسلط شدہ عالمگیر جنگ ہمیں اسی جمہوری نظام نے دی ہے جس کو شروع میں سرمایہ دارانہ جمہوریت کہا جاتا تھا پھر یہی جمہوریت دنیا کے حکمران طبقے کے وسیع پراپیگنڈے سے ایک اخلاقی جواز بن گئی اور آج کا ثمر جنگ کی صورت میں پک کر ہماری جھولی میں آ گرا ہے دنیا کے تین بڑے جمہوری ممالک امریکہ، اسرائیل اور انڈیا کے آج کے حکمرانوں یعنی ٹرمپ یاہو اور مودی کو عالمی سطح کے عظیم فسادی کہا جائے تو اس کی تردید بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ عالمی میڈیا کی تصدیق شدہ رپورٹس کے مطابق ایران پر حالیہ اسرائیلی میزائل حملوں سے عین پہلے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل نے عالمی سطح پر بھارت کو شرمندگی سے دوچار کیا کہ ایران پر حملے سے عین قبل مودی کی اسرائیل یاترا کی ٹائمنگ بتاتی ہے کہ مودی نے بھارتی خارجہ پالیسی کو ذاتی اور انفرادی سیاسی مفادات کی نذر کر دیا۔ یاد رہے کہ مودی نے دورہ اسرائیل میں نیتن یاہو کو ایران کے خلاف ممکنہ امداد کی یقین دہانی بھی کروائی تھی۔ سابق امریکی وزیر دفاع کے مشیر ڈگلس میکگریگر نے بھی یہ انکشاف کیا ہے کہ امریکی بحری جہاز بھارتی بندر گاہوں پر لنگر انداز ہو کر سامان اتارتے رہے ہیں۔ ریٹائرڈ امریکی کرنل ڈگلس میکگریگر کے مطابق امریکی بحریہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران بھارتی بندر گاہیں استعمال کر رہی ہے۔ یہ بھی تصدیق شدہ امر ہے کہ مودی نے نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں ’’ پوسٹر بوائے‘‘ کے طور پر کام کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی صحافی ایتائے میک نے دی وائر میں مودی کو نیتن یاہو کی انتخابی مہم کا سستا اشتہار قرار دیا۔ دی وائر نے انکشاف کیا ہے کہ مودی کا اصل ہدف نیتن یاہو کے ذریعے ٹرمپ تک رسائی اور خوشنودی تھا اور مودی نے ٹرمپ سے دوستانہ تعلقات دوبارا استوار کروانے کے بدلے نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں ان کی مدد کی تھی۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی کا یہ دورہ متنازع اسرائیلی حکومت کے لئے سیاسی سہارا بنا۔ بلوم برگ نے رپورٹ کیا کہ مودی کو اسرائیلی پارلیمنٹ میں دیا گیا ’’ میڈل‘‘ محض نمائشی تھا۔ پھر مودی کا ایران حملے سے پہلے کا دورہ اسرائیل مشکوک اور سفارتی طور پر خطرناک عمل تھا۔ اس سے قبل بھارت نے اسرائیل کو غزہ میں بھی نسل کشی کے لئے ہر طرح کی امداد دی تھی۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق اب ایران کے معاملے پر بھی مودی اپنے سیاسی مفاد کی وجہ سے خاموش رہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی مبصرین نے اب سوال اٹھایا ہے کہ کیا مودی کا دورہ چابہار بندرگاہ کے تحفظ کیلئے پس پردہ یقین دہانیوں کے لئے تھا۔ یا پھر اڈانی گروپ کی اسرائیلی حیفہ اور ایرانی چابہار بندرگاہوں میں سرمایہ کاری بھی انہی مقاصد کے حصول کی ایک کوشش ہے۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ مودی نے اپنے دیرینہ دوست گوتم اڈانی کے کاروباری مفادات بچانے کے لئے اسرائیل کو درخواست کی تھی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اسرائیلی اور امریکی بمباری میں چابہار بندرگاہ محفوظ رہی۔ ناقدین کا یہ بھی سوال اہم ہے کہ کیا بھارت کے قومی وقار پر کاروباری مفادات کو ترجیح دی گئی؟ کیا ایک کاروباری فائدے کے لئے مودی ایرانی قیادت کی ہلاکت پر خاموش رہے ؟ بھارتی اپوزیشن نے بھی مودی کے اس دورے کو خارجہ پالیسی کی ناکامی اور ایران سے بے وفائی کہا ہے۔ کانگریس، کیمونسٹ پارٹی، مقبوضہ کشمیر کے سیاسی لیڈرز اور بھارت کی سول سوسائٹی نے بھی مودی کی اس منافقانہ سیاست پر کھلی تنقید کی ہے۔ اس حوالے سے اسد الدین اویسی نے سوال اٹھایا کہ کیا مودی کو ممکنہ حملے کی پیشگی اطلاع تھی؟ سونیا گاندھی اور جے رام رمیش نے اس دورے کو بھارت کی روایتی پالیسی سے انحراف قرار دیا۔ یعنی بین الاقوامی رسوائی کے ساتھ ساتھ مودی کو اپنے ملک کے اندر بھی عوامی سطح پر شکوک و شبہات اور تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مودی کے اس نوعیت کے غلط سیاسی فیصلوں پر مقبوضہ کشمیر سمیت بھارت کے مختلف علاقوں میں مسلسل احتجاج بھی کیا گیا اور ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں حکومتی عملداری ختم ہو چکی ہے۔ یہ بھی خاص طور پر کہا گیا کہ مودی نے ایران سے تمام فائدے اٹھا کر اب آنکھیں پھیر لی ہیں۔ عالمی سطح پر بھارت نے خود کو ناقابلِ اعتبار اتحادی ثابت کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اسرائیل کی جارحیت کا ساتھ دے کر خود کو فسادی بھی ثابت کیا ہے۔
ادھر دنیا کے ایک اور عظیم فسادی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جب سے صیہونی ریاست اسرائیل کا اقتدار سنبھالا ہے تب سے لے کر آج تک اس نے دنیا کو لاشوں، بدامنی، نفرت اور فساد و انتشار کے سوا کچھ نہیں دیا۔ آج ایک طرف اس کے دیئے ہوئے قتل عام کے زخموں سے فلسطین کا ہر بچہ کراہ رہا ہے تو دوسری طرف ایران اور حماس کو اس نے جو نقصانات پہنچائے ہیں وہ ناقابل تلافی ہیں۔ اب گزشتہ دنوں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور آن کے دیگر قائدین کو میزائلوں کے ذریعے حملے کر کے شہید کرنے کے بعد بھی ایران کے خلاف جنگ جاری رکھ کر نیتن یاہو نے نہ صرف دنیا کو دوزخ بنایا ہوا ہے بلکہ انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ ایران کو دنیا کے نقشے سے مٹا دینے کے ارادے پر عمل پیرا ہے جس کے جواب میں اب ایران بھی انتہائی جنگی اقدامات پر تلا ہوا ہے۔ ان حالات میں دنیا ایک جنگ عظیم سے دوچار ہو گئی ہے۔ نصف سے کم دنیا میں کاروبار ٹھپہ ہو کر رہ گئے ہیں اور مستقبل کے ہولناک مناظر نے دنیا کے باشعور لوگوں کو عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ساتھ ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور اقدامات نے عالمی سطح پر بہت سے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ ظالم نیتن یاہو کے ساتھ ساتھ ان دونوں جھوٹے لیڈرز پر بجا طور پر منافقت، ظلم اور غصب کے الزامات لگائے گئے ہیں، ایک طرف نریندر مودی کی حکومت پر اقلیتوں، خاص طور پر بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جانے کے الزامات ہیں۔ دوسری طرف بھارتی مسلمانوں کے ساتھ ظالمانہ امتیازی سلوک بھی مودی کے کریڈٹ پر ہے۔ 2019ء میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور جے این یو میں دانشوروں پر حملے جیسے اقدامات نے مودی حکومت کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مودی پر یہ الزام بھی درست ہے کہ اس نے پچھلے قومی انتخابات میں بددیانتی کر کے بھارت کے اقتدار پر قبضہ کر رکھا ہے۔ راہول گاندھی جیسے بھارتی اپوزیشن رہنماں نے مودی پر الیکشن میں دھاندلی اور عوامی مفادات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ساتھ ہی مودی کی حکومت پر ایک طرف ہندو مذہبی جنونیت کو فروغ دینے اور دوسری طرف عالمی سطح پر ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ اور جمہوری ملک کے طور پر پیش کرنے کی منافقت کا الزام بھی ناقابل تردید ہے۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی، اقلیتوں پر حملے اور اقتصادی عدم مساوات کو بڑھاوا دینے کے اقدامات نے مودی کو دنیا بھر میں ایک ظالم حکمران کے طور پر پیش کیا ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر غاصبانہ اقدامات کے الزامات ہیں، خاص طور پر تجارت اور بین الاقوامی تعلقات میں۔ ٹرمپ کی جانب سے شروع کردہ ٹیرف جنگ اور بھارت پر 50فیصد ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کو اقتصادی بلیک میلنگ اور غاصبانہ رویے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ ٹرمپ کے روس اور چین کے ساتھ تعلقات اور مشرق وسطیٰ میں پُرتشدد مداخلت نے بھی اس کی غاصبانہ اور غیر متوقع پالیسیوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ یاد رہے کہ ٹرمپ اور مودی کے تعلقات میں کشیدگی اس وقت آئی تھی جب مودی نے ٹرمپ کی بات نہ ماننے کے ساتھ ساتھ اسے نوبیل امن انعام کے لئے نامزد کرنے سے گریز کیا تھا جس پر ٹرمپ نے مودی پر عالمی سطح پر تنقید شروع کر دی۔ یہاں تک کہ جب مئی 2025ء میں پاک بھارت جنگ ہوئی تو ٹرمپ نے مودی کو دھمکی دی تھی کہ اگر بھارت اور پاکستان امن قائم نہیں کرتے تو امریکا بھارت پر بھاری ٹیرف عائد کرے گا۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے فوجی حملے کے بعد امریکی عوام سے کیے گئے ایک تازہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکی عوام کی واضح اکثریت اس جنگ کی حمایت نہیں کرتی۔ خبر رساں ادارے ’’ رائٹرز‘‘ اور ’’ اِپسوس‘‘ کے مشترکہ سروے کے مطابق صرف 25فیصد امریکی شہریوں نے ایران پر حملوں کی حمایت کی ہے جبکہ 43فیصد نے مخالفت اور 29فیصد نے غیر یقینی کا اظہار کیا ہے۔ سروے کے مطابق ریپبلکن ووٹرز میں 55فیصد نے حملوں کی حمایت کی جبکہ ڈیموکریٹس میں 74فیصد نے اس کی مخالفت کی ہے۔ مجموعی طور پر 45فیصد امریکیوں نے کہا ہے کہ اگر جنگ کے باعث تیل یا گیس کی قیمتیں بڑھیں تو وہ اس کارروائی کی حمایت کم کر دیں گے۔ واضح رہے کہ یہ سروے اس وقت کیا گیا ہے جب عرب خطے میں کشیدگی شدت سے بڑھ گئی ہے جس میں سیکڑوں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر اور مقامی عام شہریوں کی ہلاکتوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کو ’’ درست مشن‘‘ قرار دیتے ہوئے کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ اُس نے یہاں تک خبردار کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے سے پہلے مزید امریکی ہلاکتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں امریکی عوام کے ساتھ ساتھ امریکی کانگریس میں بھی صدر ٹرمپ پر دبا بڑھ گیا ہے، کئی ڈیموکریٹ اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ مزید فوجی کارروائی سے پہلے کانگریس کی منظوری لازمی قرار دی جائے۔ اس مقصد کے لئے جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد پر رواں ہفتے ووٹنگ بھی متوقع ہے جس میں ظاہر ہے اکثریت کی جانب سے جنگ کی مخالفت کی جائے گی اور نتیجتاً ٹرمپ کے پاس جنگ روکنے یا پھر امریکی عوامی و سیاسی مخالفت جیسے دونوں آپشنز کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا۔ اس کے بعد بھی اگر ٹرمپ نے جنگ جاری رکھی تو دنیا کے ساتھ ساتھ امریکی عوام بھی اسے دنیا کا نمبر ون فسادی کہنے سے گریز نہیں کریں گے۔ ان تینوں فسادیوں کے ہوتے ہوئے اب دنیا کا امن خطرہ سے دوچار رہے گا اس حوالے سے عالمی رہنمائوں کو فوری اور راست اقدام کرنا ہو گا۔

جواب دیں

Back to top button