Columnمحمد مبشر انوار

بددل فوج

بددل فوج

محمد مبشر انوار
ٹرمپ کی انتخابی مہم کا انحصار مکمل طور پر دنیا میں امن کے قیام پر مرکوز تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ساری دنیا اس حقیقت سے بھی بخوبی واقف تھی کہ ٹرمپ انتہائی سے زیادہ غیر یقینی شخصیت کے مالک ہے،اس کے باوجود ٹرمپ اپنے انتخابی منشور کی سحر انگیزی سے انتخابات جیتنے میں کامیاب ہو گئے۔ توقع تھی کہ جیسے ٹرمپ نے کامیاب ہوتے ہی،اسرائیل کو جنگ بندی کے لئے سخت ترین پیغام جاری کیا تھا،اقتدار سنبھالتے ہی اس سے بھی زیادہ سختی سے کام لیتے ہوئے،اسرائیل کو نکیل ڈالنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے مگر وہ سب ایک سراب ثابت ہوا کہ مسلسل کوششوں و کاوشوں کے باوجود،اسرائیل آج بھی فلسطینیوں کی نسل کشی سے باز نہیں آیا،فلسطینیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے میں کسی بھی طرح پیچھے نہیں ۔ ایک طرف غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے تو دوسری طرف مغربی کنارے اور اس سے متصلہ علاقے میں ایک بار پھر یہودی بستیاں بسانے کے اعلانات جاری ہیں اور بتدریج اسرائیلی ریاست کی توسیع کی جار ہی ہے جبکہ ٹرمپ کی جانب سے سوائے طفل تسلیوں کچھ بھی ٹھوس نظر نہیں آرہا کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ نہ صرف ٹرمپ بلکہ اس کی انتظامیہ سب کی سب اسرائیل کے سامنے مجبور و بے بس ہے۔ مجبور و بے بس کیوں نہ ہو کہ جیفری ایپسٹین فائلز میں موجود سیاہ اور غلیظ ترین مواد نے سب کے نہ صرف منہ بند کررکھے ہیں بلکہ ان کے بازو اس حد تک مروڑ دئیے ہیں کہ وہ کسی بھی طور اسرائیلی خواہشات کے برعکس نہیں جاسکتے ،ان حالات میں ہر طرف قیاس کی صورتحال ہے او رکچھ سمجھ نہیں آتا کہ معاملات کس طرح سنبھلیں گے کہ اس قدر کمزور کردار اور ساکھ کے لوگ اختیار واقتدار میں ہیں کہ جو معاملات کو صحیح طریقہ سے سنبھال نہیں پا رہے اور نہ سنبھال سکتے ہیں ۔ اسرائیلی چیرہ دستیاں مسلسل بڑھتی چلی جارہی ہیں اور وہ اپنی خواہشات کے حصول میں ،پورے خطے کو آگ کی جنگ میں دھکیل چکا ہے جبکہ یہ آگ دنیا میں پھیلتے بہت وقت لیتی دکھائی نہیں دیتی۔ امریکی صدر اور انتظامیہ اس وقت اسرائیلی کٹھ پتلی بنی دکھائی دیتی ہے اور کسی بھی طرح ہوشمندی دکھاتی نظر نہیں آتی۔ خطے میں ایران کے ساتھ گزذشتہ برس براہ راست جھڑپیں کرنے کے باوجود،اپنے مقاصد حاصل کر لینے کے دعوئوں کے باوجود، امریکہ، اسرائیلی خواہشات کی تعمیل میں اولا ایران کے خلاف بے سروپا پروپیگنڈا کرتا دکھائی دیا جبکہ دوئم ایران پر ایسے شرمناک شرائط مسلط کرنے کی کوشش کی کہ جسے کوئی بھی ملک؍ ریاست کسی بھی صورت تسلیم نہیں کر سکتا، اور ایسا ہی ایران نے بھی کیا۔ کوئی ریاست یہ کیسے تسلیم کر سکتی ہے کہ دنیا کی ایک ایسی طاقت ،جو کسی بھی حوالے یا زاوئیے سے غیر جانبدار اور منصفانہ دکھائی نہیں دیتی بلکہ اس کا جھکاؤ واضح طور پر دوسری ایسی ریاست کی جانب ہے،جو دشمن ہے اور متعدد بار اپنی دشمنی کا اظہار کر چکی ہے،کی غیر منصفانہ اور جانبدارانہ خواہش کی تکمیل میں اپنی دفاعی ضروریات کو تج کر،بے دست و پا ہو جائے؟امریکہ کی جانب سے ایران کے لئے یہ پہلی شرط ہی یہ رکھی گئی کہ وہ اپنی جوہری صلاحیت سے دستبردار ہو جائے حالانکہ ایران کے سابق شہید رہبر کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق فتویٰ موجود تھا کہ ایران ایسے تباہ کن ہتھیار نہیں بنائے گا، البتہ سول توانائی کے لئے اپنی جوہری صلاحیت سے دستبردار بھی نہیں ہو گا۔ اس کی اجازت اقوام متحدہ بھی دیتا ہے کہ کسی بھی ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لئے تمام تر اقدامات کر سکتا ہے جبکہ امریکہ صریحا اس حق کو سلب کرنا چاہتا ہے تا کہ اسرائیل کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔
اسی طرح ایران کے لئے لازم قرار دیا گیا کہ وہ اپنے میزائل پروگرام کی حد کو 300کلومیٹر کی حد تک محدود کر لے ،یعنی ایران جو میزائل بنائے وہ صرف اور صرف ایرانی شہروں کے درمیان ہی ہدف کو نشانہ بنا سکیں، اس کی حدود سے باہر نہ نکلیں، ایسا کیسے ممکن ہے کہ ایک طرف اسرائیل کے پاس ہر طرح کا ہتھیار و اسلحہ موجود ہو لیکن خطے میں جس ریاست کو سب سے زیادہ خطرہ ہے، اسے بالکل نہتا کر دیا جائے؟ جبکہ اس ریاست کے دفاع کا مکمل انحصار ہی اس میزائل ٹیکنالوجی کے سر ہے، تو گویا تمام تخمینے پہلے سے لگا کر ہی شرائط سامنے رکھی گئی ہیں کہ اگر شرائط تسلیم ہو جاتی ہیں تو کسی بھی جارحیت کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ لیکن ایران کس طرح میزائل ٹیکنالوجی سے دستبردار ہو سکتا ہے کہ اس کے دفاع کا مکمل انحصار ہی میزائلوں پر ہے ۔ تیسری اور چوتھی شرط میں ایران کو ہر صورت حماس،حزب اللہ اور انصاراللہ کی حمایت سے ہاتھ اٹھانے کی شرط اور چوتھی ایران میں ’’ رجیم چینج‘‘ کی شرط رکھی کہ مذاکرات میں ان شرائط پر بات ہو گی۔ ایران نے ان شرائط کے جواب میں جوہری صلاحیت کے حوالے سے، یورینیم افزودگی کی شرح کم کرنے کے حوالے سے آمادگی ظاہر کی مگر توانائی کے حصول میں افزودگی کی شرح ایک مخصوص حد سے کم کرنے سے انکار کیا جبکہ باقی شرائط پر کسی قسم کی بات کرنے سے انکار کر دیا۔ جو پیشکشیں ایران نے کی،وہ فوری طور پر رد نہیں کی جا سکتی تھی بشرطیکہ فریق ثانی مذاکرات میں مخلص اور سنجیدہ ہوتا لیکن بدقسمتی سے جیسا شروع میں ذکر کیا کہ ٹرمپ کی غیر یقینی شخصیت اور صیہونی بلیک میلنگ مواد کے باعث، مذاکرات ایک سراب، دھوکہ اور آڑ ثابت ہو سکتے تھے اور یہ دھڑکا مسلسل تھا کہ فریق ثانی کسی بھی وقت مذاکرات کو پس پشت ڈال کر جنگ شروع نہ کر دے وگرنہ ایسی شرمناک شرائط مذاکرات کے لئے نہ رکھی جاتی۔ بہرکیف ان شرائط کے باوجود مذاکرات کے دو دور ہوئے اور حسب توقع و حسب سابق ایک مرتبہ پھر ،طاقت کے زعم میں ،امریکہ نے خطے میں اپنی عسکری قوت میں اضافہ بھی جاری رکھا ،مذاکرات کو کسی حتمی نتیجہ پر پہنچنے سے قبل ہی ،اسرائیل نے پھر دھوکہ دہی کرتے ہوئے،ایران پر حملہ کردیااور اپنے پہلے ہی حملہ میں ایرانی قیادت کو شہید کرنے میں کامیاب بھی ہو گیا۔ اس سے متعلق اب حتمی طور پر یہی کہا جارہا ہے کہ اسرائیل کو اس کی باقاعدہ مخبری کی گئی لیکن ایرانی قیادت،اس امر کو بھانپ چکی تھی اور اس کا متبادل انتظام بروقت کرچکی تھی،کہ ہر ذمہ دار کا متبادل تیار ہے اور کسی بھی ناگہانی صورت میں ،ذمہ داری ازخود منتقل ہو رہی ہے اور نظام میں کسی قسم کا تعطل دکھائی نہیں دے رہا بلکہ نئی قیادت کو بھی اپنے فرائض کا بخوبی علم ہے اور نظام ایک تسلسل کے ساتھ چل رہا ہے۔ البتہ دوسری طرف معاملات انتہائی گھمبیر نظر آرہے ہیں گو کہ اسرائیل کی جانب سے میڈیا پر ایسی خبروں کو نشر کرنے سے روکا جارہا ہے لیکن اس کے باوجود سوشل میڈیا پر نہ صرف اسر ائیل کے اندرونی حالات بلکہ عوام کی جذبات بھی وائرل ہو رہے ہیں ،جس میں تباہ حال عمارتوں کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے،اسرائیلی شہریوں کے چہروں پر طاری خوف کی پرچھائیاں بھی دیکھی جا سکتی ہیں،اسرائیلی شہریوں کی ایران سے معافی کی پکار بھی سنائی دے رہی ہے جس میں وہ ایران سے التجائیں کررہے ہیںکہ انہیں معاف کر دے، ایئر پورٹس پر بھاگتے شہری بھی دیکھے جا سکتے ہیںاور سب سے بڑھ کر ان شہریوں کو سانس لینے کے لئے کھلی اور صاف فضا بھی میسر نہیں رہی کہ یہ سب زیر زمین بنکرز میں جا چکے ہیں۔ یہ صورتحال تو اسرائیل کی اس وقت ہے جبکہ امریکہ کی جو صورتحال ہے وہ اس بھی بدتر دکھائی دے رہی ہے کہ امریکہ میں مختلف قسم کے سرویز میں عوام کی بھاری تعداد اس جنگ کو غیر منصفانہ سمجھ رہی ہے اور اس کو اسرائیل کی جنگ قرار دے رہی ہے، تقریبا 88%امریکی عوام ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے خلاف ہے،جو ایک بہت بڑی اور واضح رائے ہے، جس کا اثر بہرطور کسی نہ کسی موقع پر ٹرمپ اور اس کی انتظامیہ پر آئے گا۔ ممکنہ طور پر اگلے مڈٹرم انتخاب میں اس کا اثر واضح دکھائی دیتا نظر آ رہا ہے اور گمان ہے کہ اس کے نتیجہ میں ٹرمپ کا مواخذہ بھی ہو سکتا ہے، جس کا خوف بہرطور ٹرمپ کو بھی لاحق نظر آتا ہے۔
طاقت کے نشے میں چور، ٹرمپ نے ایران کے اردگرد اپنی بے پناہ عسکری طاقت اکٹھی تو کر لی لیکن ایران پر اس کا رتی برابر اثر بھی دکھائی نہیں دے رہا، امریکی بحری جہازوں کے ان سمندروں میں تعینات ہونے سے لنگَر انداز ہونے تک،ایران ان سے کہیں بھی خوفزدہ دکھائی نہیں دیا البتہ ایرانی میزائلوں،ڈرونز اور سمندری گشت سے ایک طرف یو ایس ایس ابراہیم لنکن اپنی جگہ چھوڑ کر پیچھے جا چکا ہے تو وینزویلا سے منگوایا گیا جیرالڈ فورڈ اسرائیلی بندرگاہ حیفہ پر رکنے کے بعد ،مرمت کے لءے واپس جا چکا ہے۔ جیرالڈ فورڈ وہ جہاز ہے ،جس کے متعلق یہ انکشافات سامنے آ رہے ہیں کہ اس میں موجود چھ ہزار بیت الخلاء بیک وقت خراب ہو چکے ہیں، جس سے یہ جہاز میدان حرب میں جانے کے لئے موزوں نہیں رہا ۔ اس خرابی کو بہرطور دنیا بھر میں دانستہ خرابی پیدا کرنے کے مترادف قرار دیا جارہا ہے اور یہ خبریں ہیں کہ اس جہاز پر موجود امریکی فوجی، اس جنگ کو غیر ضروری، غیر منصفانہ اور اسرائیلی جنگ تصور کرتے ہوئے، اس جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتے، لہذا انہوںنے خود جہاز کے بیت الخلاء خراب کئے ہیں تا کہ جنگ میں نہ جایا جائے۔ جب فوج کا مورال ایسا ہو، فوج جنگ پر مائل نہ ہو، فوج اسے پرائی جنگ سمجھے ، ایسی بددل فوج سے کسی جنگ کو جیتنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے جبکہ ایرانی جانوں کے نذرانے دینے کے باوجود، کھلے عام سڑکوں پر گھوم رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button