ایران، اسرائیل و امریکا کی جنگ بڑے عالمی بحران کا خدشہ

ایران، اسرائیل و امریکا کی جنگ بڑے عالمی بحران کا خدشہ
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسی خطرناک کشیدگی کی لپیٹ میں ہے جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ اتوار کو اسرائیل اور امریکی حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور اہل خانہ شہید ہوگئے تھے۔ اہم عسکری اور سیکیورٹی حکام کی شہادت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اس کے جواب میں ایران کی جانب سے بھی حملے جاری ہیں۔ اس صورت حال نے خطے کو ایک غیر یقینی اور ہنگامہ خیز دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ کسی بھی ریاست کے سربراہ یا سپریم لیڈر کو نشانہ بنانا بین الاقوامی سیاست میں انتہائی سنگین قدم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ردعمل بھی غیر معمولی نوعیت کا ہوتا ہے۔ ایران کی ریاستی ساخت میں سپریم لیڈر کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور ان کی شہادت ملک کے داخلی سیاسی توازن اور علاقائی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ایرانی ہلال احمر کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں 787افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور 153شہروں میں ہزار سے زائد حملے کیے گئے۔ اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو یہ ایک وسیع پیمانے کی جنگی صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں۔ شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا یا بڑے پیمانے پر حملے کرنا عالمی انسانی قوانین کے تناظر میں شدید تشویش کا باعث ہے۔ جنگ کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں اور اگر وہ پامال ہوں تو انسانی بحران جنم لیتا ہے جس کا ازالہ دہائیوں تک ممکن نہیں ہوتا۔دوسری طرف ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کی اطلاعات ہیں۔ تل ابیب میں سائرن بجنا اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایات اس امر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ اسرائیل کو جوابی کارروائی کا حقیقی خطرہ درپیش ہے۔ اسرائیلی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کے دعوے اپنی جگہ، مگر یہ کشمکش کسی بڑے تصادم کی تمہید بن سکتی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج فارس میں امریکا کا سب سے بڑا ریڈار تباہ کر دیا گیا ہے جب کہ امریکی سینٹرل کمانڈ، یعنی امریکی سینٹرل کمانڈ ( سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ ایران موبائل لانچرز کے ذریعے حملے کر رہا ہے اور امریکی افواج خطرات کا خاتمہ کر رہی ہیں۔ دونوں جانب سے بیانیے کی جنگ بھی عروج پر ہے، جو اس امر کی عکاس ہے کہ عسکری محاذ کے ساتھ اطلاعاتی جنگ بھی پوری شدت سے جاری ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی ایک بڑی مقدار اسی آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔ اگر ایران وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی اپناتا ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر تباہ کن ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، سپلائی چین کی بندش اور مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام ناگزیر ہوجائے گا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈروں کے بیانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ تہران اس تصادم کو صرف محدود جوابی کارروائی تک نہیں رکھنا چاہتا بلکہ اسے معاشی دبائو کے ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تیل کی ترسیل روکنے کی دھمکی دراصل عالمی طاقتوں کو یہ پیغام ہے کہ ایران کو دیوار سے لگانے کی قیمت پوری دنیا کو چکانی پڑے گی۔ اس تمام صورت حال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ کشیدگی مکمل جنگ کی شکل اختیار کرے گی؟ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی طویل عرصے سے عدم استحکام کا شکار ہے۔ شام، یمن، عراق اور غزہ کے تنازعات نے خطے کو کمزور کر رکھا ہے۔ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بڑھ جاتی ہے اور امریکا اس میں عملی طور پر شریک ہوتا ہے، تو یہ ایک کثیر الجہتی جنگ میں بدل سکتی ہے جس کے اثرات یورپ اور ایشیا تک محسوس کیے جائیں گے۔ بین الاقوامی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ اور بڑی طاقتوں کی ذمے داری ہے کہ فوری سفارتی مداخلت کریں۔ جنگی بیانات اور جوابی حملے وقتی تسکین تو دے سکتے ہیں، مگر وہ مسائل کا مستقل حل نہیں۔ طاقت کے استعمال کی ہر نئی سطح خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل دے گی۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے۔ جذباتی ردعمل سے گریز کرتے ہوئے ایک متوازن اور امن پر مبنی موقف اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ عالمی معیشت کی باہمی وابستگی کے اس دور میں کسی ایک خطے کی آگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ایرانی قیادت کی شہادت، بڑے پیمانے پر عسکری حملے اور اہم آبی گزرگاہوں کی بندش جیسے اقدامات دنیا کو ایک ایسی جنگ کی دہلیز پر لا کھڑا کرتے ہیں جس کا انجام کسی کے حق میں نہیں ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہی کہ فوری جنگ بندی، آزادانہ تحقیقات اور جامع مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ ورنہ مشرقِ وسطیٰ کی یہ آگ عالمی بحران میں تبدیل ہوسکتی ہے اور تاریخ ایک بار پھر سفارتی ناکامی کو انسانیت کے بڑے سانحے کے طور پر یاد رکھے گی۔
حملے ناکام، 67دہشتگرد ہلاک
بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی مذموم کارروائیاں ناکام بنا دیں۔ 67خوارج کو بھی جہنم واصل کر دیا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق شمالی بلوچستان میں 16مختلف مقامات پر حملوں کی کوشش کو بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔ قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن جیسے حساس علاقوں میں دراندازی کی کوششیں اس امر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ سرحدی سلامتی کو درپیش خطرات بدستور موجود ہیں۔ حکام کے مطابق جھڑپوں کے دوران 27افغان طالبان ہلاک ہوئے جب کہ فرنٹیئر کور بلوچستان کا ایک جوان شہید اور پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں بھی زمینی حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 40شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں کو ’’ آپریشن غضب للحق‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔ زمینی اور فضائی آپریشنز کے ساتھ افغان صوبہ ننگرہار میں خوگانی بیس، جلال آباد میں ایمونیشن ڈپو اور ڈرون ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔یہ صورتحال کئی پہلوئوں سے قابلِ غور ہے۔ اول، پاکستان کی سرحدی پٹی طویل عرصے سے غیر ریاستی عناصر کی سرگرمیوں کا مرکز رہی ہے۔ افغانستان میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ سرحدی علاقوں میں استحکام آئے گا، مگر حالیہ واقعات اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ اگر سرحد پار سے حملوں کی منصوبہ بندی ہورہی ہے تو یہ دوطرفہ تعلقات کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ دوم، عسکری کامیابیاں وقتی طور پر خطرات کو کم ضرور کرتی ہیں، مگر پائیدار امن کے لیے سفارتی اور سیاسی حکمتِ عملی بھی ناگزیر ہے۔ پاکستان کو اپنی داخلی سیکیورٹی کو مضبوط بنانا لازمی ہے۔ پڑوسی کو بھی اپنی سرزمین کے دہشت گرد مقاصد کے لیے استعمال کو روکنا ہوگا۔ سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور علاقائی تعاون کے بغیر اس مسئلے کا دیرپا حل ممکن نہیں۔ سوم، عوامی اعتماد کی بحالی بھی اہم ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے عوام طویل عرصے سے بدامنی کا سامنا کر رہے ہیں ۔ ریاست کی ذمے داری ہے کہ نہ صرف دہشت گردی کا قلع قمع کرے بلکہ ترقیاتی منصوبوں، روزگار کے مواقع اور سماجی انصاف کے ذریعے محرومیوں کا ازالہ بھی کرے، کیونکہ شدت پسندی اکثر سماجی و معاشی خلا سے جنم لیتی ہے۔ بلاشبہ حالیہ کارروائیاں سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت کا ثبوت ہیں، اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب سرحدی علاقوں میں مستقل امن قائم ہو۔ طاقت کا استعمال ناگزیر سہی، لیکن جامع پالیسی، علاقائی سفارت کاری اور داخلی استحکام کے ذریعے صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے کاوشیں بھی مستقل جاری رہنی چاہئیں۔





