Column

خوش فہمی میں نہ رہنا

خوش فہمی میں نہ رہنا
تحریر: محمد محسن اقبال
قوموں کی زندگی میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جو اگرچہ مدت کے اعتبار سے مختصر ہوتے ہیں، مگر ان کے سائے اتنے طویل ہوتے ہیں کہ وہ حال کی بے چینیوں اور مستقبل کے احتساب دونوں کو شکل دے دیتے ہیں۔ تاریخ محض گزرے ہوئے ایام کا بیان نہیں بلکہ ایک بیدار نگہبان ہے، جو اہلِ اقتدار اور اقوام کو یاد دلاتی رہتی ہے کہ خطرے کی گھڑی میں کیے گئے فیصلے نسلوں کی تقدیر متعین کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک لمحہ فروری 1987ء کی سرد اور مضطرب فضا میں آیا، جب اسلام آباد کو اطلاعات موصول ہوئیں کہ بھارت نے اپنی وسیع فوجی مشقوں، جنہیں آپریشن براس ٹیک کہا جاتا ہے، کی آڑ میں پاکستان کی سرحدوں کے قریب بڑی فوجی قوتیں تعینات کر دی ہیں۔ فضا میں اندیشے کی دبیز تہہ چھا گئی اور برصغیر ایک ایسی غلط فہمی کے دہانے پر آ کھڑا ہوا جس کے نتائج ناقابلِ واپسی ہو سکتے تھے۔
اسی نازک مرحلے پر پاکستان کے صدر، جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک ایسا قدم اٹھایا جو بعد ازاں سفارتی تاریخ میں کرکٹ ڈپلومیسی کی ایک نمایاں مثال کے طور پر یاد کیا گیا۔ کسی طے شدہ سربراہی اجلاس کی رسمی تیاریوں کے بغیر وہ 21فروری 1987ء کو اچانک نئی دہلی پہنچے، بظاہر جے پور کے سوائی مان سنگھ اسٹیڈیم میں ہونے والا بھارت، پاکستان ٹیسٹ میچ دیکھنے کے لیے۔ یہ اقدام ظاہراً سادہ مگر باطناً نہایت سوچا سمجھا تھا۔ بھارتی وزیرِ اعظم راجیو گاندھی نے ان کا استقبال کیا، اور اسی شام دونوں رہنمائوں کے درمیان حیدرآباد ہاس میں تقریباً چالیس منٹ تک نجی اور کھلے دل سے گفتگو ہوئی۔
21 سے 25فروری تک کھیلا جانے والا وہ ٹیسٹ میچ، جو بارش سے متاثر ہو کر بغیر نتیجہ ختم ہوا، اس گھڑی کی سنگینی کے مقابلے میں ثانوی محسوس ہوتا تھا۔ اس دہلی کی شام کی خاموشی میں جو باتیں ہوئیں، وہ بعد میں صحافتی اور سفارتی حلقوں میں بیان کی جاتی رہیں۔ راجیو گاندھی کے خصوصی مشیر بہرام نام، جن کا حوالہ اس وقت کے جریدے انڈیا ٹوڈے میں دیا گیا، کے مطابق جنرل ضیاء نے نہایت دوٹوک انداز میں خبردار کیا۔ براہِ راست بھارتی وزیرِ اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’ مسٹر راجیو، اگر آپ پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تو کیجیے، مگر یاد رکھیے کہ دنیا ہلاکو خان اور چنگیز خان کو بھول جائے گی، مگر ضیاء الحق اور راجیو گاندھی کو یاد رکھے گی، کیونکہ یہ روایتی جنگ نہیں بلکہ ایٹمی جنگ ہوگی۔ ایسی صورت میں ممکن ہے پاکستان مکمل طور پر تباہ ہو جائی، مگر مسلمان دنیا میں موجود رہیں گے، لیکن اگر بھارت تباہ ہوا تو دنیا سے ہندو ریاست کا خاتمہ ہو جائے گا‘‘۔ بہرام نام کے مطابق راجیو گاندھی ان الفاظ کی سختی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ تاہم ایک مدبر سپاہی، سیاست دان کی طرح جنرل ضیاء نے فوراً ہی اپنا لہجہ نرم کر لیا، مسکرا کر مصافحہ کیا، اور یوں ظاہر کیا گویا یہ تبادلہ خیال محض ایک سرسری بات تھی۔
کوئی ان کے طریقِ کار سے اتفاق کرے یا اختلاف، نتیجہ واضح تھا۔ فوری تصادم کا سایہ پیچھے ہٹ گیا۔ افواج نے پیش قدمی نہ کی۔ برصغیر اس کھائی کے کنارے سے واپس آ گیا جس کی گہرائی کا اندازہ کوئی نہ لگا سکتا تھا۔ یہ اس امر کا ثبوت تھا کہ جب ڈیٹیرینس کو وضاحت اور عزم کے ساتھ بیان کیا جائے تو وہ طویل خطابت سے زیادہ موثر انداز میں امن کی خدمت کر سکتا ہے۔
آج ایک بار پھر بعض حلقوں میں سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں کہ پاکستان کے خلاف منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ علاقائی ہلچل کے بعد پاکستان پر دبائو ڈالنے یا اسے اشتعال دلانے کی تدبیریں کی جا سکتی ہیں؛ کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت سے خائف عناصر، بعض طاقتور سرپرستوں کی حمایت سے، کوئی نئی بساط بچھا سکتے ہیں۔ جو لوگ اس نوع کی قیاس آرائیوں میں مگن ہیں یا یہ گمان کرتے ہیں کہ پاکستان کو بھی اُن کمزور ریاستوں کی طرح گھیر لیا جائے گا جنہیں تنہا کر کے زیر کیا گیا، وہ خام خیالی میں مبتلا ہیں۔ پاکستان کا تزویراتی حساب، اس کا معاشرتی ڈھانچہ اور اس کی اجتماعی یادداشت بالکل مختلف نوعیت رکھتی ہے۔
اگر جارحیت مسلط کی گئی تو پوری قوم اور پاکستان کی مسلح افواج سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گی۔ سیاسی، لسانی اور صوبائی اختلافات، جو امن کے زمانے میں نمایاں دکھائی دیتے ہیں، حاکمیت کے تقاضے کے سامنے تحلیل ہو جائیں گے۔ یہ وہ قوم ہے جس کے بیٹے ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے، جس کے عوام نے مادی حساب سے بالاتر ہو کر قربانی کو قبول کیا۔ پاکستان اپنی پالیسی اور مزاج کے اعتبار سے امن پسند ملک ہے، لیکن اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو وہ اپنے ردِعمل کو دوسروں کی سہولت کے پیمانے سے نہیں ناپے گا۔ اگر اسے گھیرنے یا گھونٹنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج ایسے ہوں گے کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کی ہولناکی بھی ماند پڑ جائے گی۔
پاکستان کی مسلح افواج کی قیادت پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ روحانی وابستگی بھی رکھتی ہے۔ ایک ایسا سپہ سالار جو حافظِ قرآن بھی ہو اور تجربہ کار سپاہی بھی، وہ نہ صرف جنگ کی سائنس سے واقف ہوتا ہے بلکہ اس کے اخلاقی بوجھ کو بھی سمجھتا ہے۔ اس کی رگوں میں اُن لوگوں کی میراث دوڑتی ہے جو خیبر کے معرکوں میں ٹکرائے، جنہوں نے واپسی کا راستہ کاٹ کر کشتیاں جلانیکے عزم کا اعلان کیا، اور جنہوں نے تاریخ کے فیصلہ کن معرکوں میں اپنے مخالفین کو اپنے حوصلے سے ششدر کر دیا۔ ایسی قوم اور ایسی افواج کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔
1987ء میں جنرل ضیاء نے دنیا کی واحد ہندو اکثریتی ریاست کا ذکر کرتے ہوئے ایٹمی جنگ کے ہولناک مضمرات کی نشاندہی کی تھی۔ یہ اشتعال انگیزی نہیں بلکہ بازدار پیغام تھا، ایک واضح یاد دہانی کہ بعض سرحدیں عبور ہو جائیں تو واپسی ممکن نہیں رہتی۔ اگر کبھی پھر بدنیتی سے پاکستان کی طرف نگاہ اٹھائی گئی تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بازدار قوت یک طرفہ نہیں ہوتی۔ مسلمان شہادت سے خائف نہیں ہوتا؛ وہ اسے اعزاز سمجھتا ہے اگر مقدر میں لکھی جائے۔ مگر پاکستان کی آرزو تباہی نہیں بلکہ وقار ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ بعض لوگ موت کے منظر سے خوفزدہ ہو کر چیختے ہوئے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ پاکستان لوہے کے چنے ہیں جسے چبایا نہیں جا سکتا۔ اسے چبانے والوں کے دانت ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔
تاریخ کا فیصلہ جذبات کی زبان میں نہیں بلکہ نتائج کی صورت میں صادر ہوتا ہے۔ جے پور کا وہ اچانک سفر محض ایک سفارتی دلچسپی نہیں تھا؛ وہ اس حقیقت کا اعلان تھا کہ امن اسی وقت محفوظ رہتا ہے جب حاکمیت کے دفاع میں کوئی ابہام نہ ہو۔ جو لوگ اس عزم کو آزمانے کا خیال رکھتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ قومیں بھی انسانوں کی طرح اپنا اصل کردار آسائش میں نہیں بلکہ آزمائش میں ظاہر کرتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button