جنگ آخری آپشن، امن اولین ترجیح

جنگ آخری آپشن، امن اولین ترجیح
صدر آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان جنگ کو کبھی ترجیح نہیں دیتا، لیکن اگر یہ مسلط کی جائے تو دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے بادل گہرے ہوتے جارہے ہیں، کشمیر کا تنازع بدستور حل طلب ہے، سندھ طاس معاہدے پر اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندیوں کے آثار نمایاں ہیں۔ صدر مملکت نے بھارت پر زور دیا کہ وہ محاذ آرائی کے بجائے بامعنی مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا خواب اُس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا۔ یہ مقف پاکستان کی دیرینہ خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور حقِ خودارادیت کے اصول پر مبنی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ جغرافیائی و سیاسی حالات میں مذاکرات کی فضا میسر ہے؟ بھارت اور پاکستان کے درمیان اعتماد کی کمی اس قدر گہری ہوچکی ہے کہ معمولی واقعات بھی بڑے بحران میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ صدر نے معرکہ حق کا حوالہ دیتے ہوئے اسے محض عسکری کامیابی نہیں بلکہ قومی عزم کا مظہر قرار دیا۔ اس بیان میں ایک واضح پیغام پوشیدہ ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ خطے کے دو جوہری ممالک کے درمیان کشیدگی عالمی برادری کے لیے شدید تشویش کا باعث ہوتی ہے۔ عالمی طاقتیں بظاہر خطے میں استحکام کی داعی ہیں مگر عملی سطح پر ان کے مفادات اکثر علاقائی تنازعات کو طول دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے صدر کا موقف بھی قابلِ توجہ ہے۔ انہوں نے دریائوں کے بہائو میں کسی بھی قسم کی یک طرفہ تبدیلی کو آبی دہشت گردی قرار دیا۔ پانی جیسے بنیادی وسیلے کو سیاسی دبا کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ کروڑوں انسانوں کی معاشی و زرعی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے اور پانی کی فراہمی میں کسی بھی تعطل کے اثرات براہِ راست خوراک کی سلامتی اور دیہی معیشت پر پڑتے ہیں۔ اس تناظر میں حکومت کا یہ کہنا بجا ہے کہ آبی حقوق کا دفاع ہر صورت کیا جائے گا، تاہم اس دفاع کا سب سے موثر ذریعہ قانونی و سفارتی محاذ پر مضبوط تیاری اور عالمی فورمز پر موثر نمائندگی ہے۔ خطاب میں فلسطین اور غزہ کی صورت حال کا ذکر بھی اہم تھا۔ پاکستان نے ایک بار پھر 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعادہ کیا۔ یہ مقف نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مستقل جزو ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی احساسات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ تاہم عالمی سیاست کی پیچیدگیاں اس مسئلے کے فوری حل میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ اسی طرح ایران کی خودمختاری کے حوالے سے اظہارِ یکجہتی اور علاقائی سالمیت کی حمایت بھی خطے میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ افغانستان کے تناظر میں صدر کا بیان بھی خاصا دوٹوک تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے طویل عرصے تک سفارتی راستہ اختیار کیا، مگر اپنی سرزمین پر حملوں کو مسلسل برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک حساس معاملہ ہے کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تاریخی، جغرافیائی اور سماجی طور پر گہرے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی نہ صرف سرحدی سلامتی بلکہ تجارت، مہاجرین اور علاقائی استحکام کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مشترکہ مفادات کے نکات تلاش کیے جائیں اور اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دیا جائے۔ صدر کے خطاب کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر کمزور نہیں۔ یہ پیغام داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر اہمیت رکھتا ہے۔ داخلی طور پر یہ قومی اتحاد اور خود اعتمادی کو تقویت دیتا ہے جب کہ خارجی سطح پر یہ باور کراتا ہے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہوتی۔ جنگی جنون وقتی جذبات کو تو ابھار سکتا ہے، مگر اس کے نتائج نسلوں تک بھگتنا پڑتے ہیں۔ موجودہ عالمی ماحول میں معاشی استحکام، سفارتی مہارت اور داخلی ہم آہنگی ہی اصل طاقت ہیں۔ اگر پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم بنائے، سیاسی استحکام کو یقینی بنائے اور ادارہ جاتی اصلاحات کو فروغ دے تو اس کی سفارتی پوزیشن خود بخود مضبوط ہوگی۔ اسی طرح خطے کے دیگر ممالک کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مستقل کشیدگی سب کے مفادات کے خلاف ہے۔ صدر زرداری کا یہ کہنا کہ جنگ ہمیشہ آخری آپشن ہوتی ہے، ایک اصولی موقف ہے۔ اصل امتحان اس اصول پر کاربند رہنے میں ہے۔ خطے کو اس وقت دانش مندانہ قیادت، بردباری اور مذاکراتی جرأت کی ضرورت ہے۔ اگر فریقین سنجیدگی سے مذاکرات کی میز پر آئیں تو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ وسیع تر خطہ بھی ایک نئے دورِ استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ امن کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی علامت ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو پائیدار ترقی اور باوقار مستقبل کی جانب لے جاتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: فضائی نظام شدید متاثر
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ جدید دنیا میں فضائی راستے صرف سفر کا ذریعہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں۔ خلیجی خطے کے کم از کم سات بڑے ہوائی اڈوں پر ہزاروں پروازوں کی منسوخی، معطلی یا متبادل راستوں پر منتقلی نے نہ صرف مسافروں کو پریشانی میں مبتلا کیا ہے بلکہ بین الاقوامی تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری کے بہا کو بھی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ دبئی، ابوظہبی، دوحہ، کویت اور بحرین جیسے مراکز عالمی فضائی نیٹ ورک میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان پروازوں کی بڑی تعداد انہی مراکز سے گزرتی ہے۔ جب ان حب ایئرپورٹس پر آپریشنل دبائو بڑھتا ہے تو اس کے اثرات محض مقامی نہیں رہتے بلکہ عالمی سطح پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ پاکستان سمیت کئی ممالک سے خلیجی ریاستوں کے لیے پروازوں کی بڑی تعداد متاثر ہونا اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے کا فضائی استحکام براہِ راست لاکھوں افراد کے روزگار اور کاروباری سرگرمیوں سے جڑا ہوا ہے۔ ایوی ایشن ماہرین کی جانب سے روزانہ سیکڑوں ملین ڈالر کے ممکنہ نقصانات کا تخمینہ اس بحران کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ اضافی ایندھن، طویل روٹس، عملے کی ازسرنو تعیناتی، مسافروں کی رہائش اور ری بکنگ جیسے عوامل لاگت میں بے پناہ اضافہ کرتے ہیں۔ کارگو تاخیر بھی عالمی سپلائی چین کو متاثر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ اگر یہ صورت حال طویل ہوتی ہے تو ٹکٹ کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوگا، جس کا بوجھ بالآخر عام مسافر کو اٹھانا پڑے گا۔ یہ بحران اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ علاقائی کشیدگی کا سب سے پہلا اور براہِ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے۔ خلیجی ممالک کی معیشتیں ہوا بازی، سیاحت اور بین الاقوامی تجارت پر بڑی حد تک انحصار کرتی ہیں۔ فضائی عدم استحکام سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کر سکتا ہے اور سیاحتی سرگرمیوں کو سست کر سکتا ہے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ خطے کے ممالک سفارتی ذرائع کو فعال کریں اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ عالمی اداروں اور فضائی تنظیموں کو بھی متبادل راستوں کی بہتر منصوبہ بندی اور ایمرجنسی کوآرڈی نیشن کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ بالآخر یہ واضح ہے کہ امن اور استحکام صرف سیاسی ضرورت نہیں بلکہ معاشی بقا کی شرط بھی ہیں۔ جب تک خطہ پائیدار امن کی طرف پیش قدمی نہیں کرتا، فضائی راستوں میں پیدا ہونے والی یہ لرزش عالمی معیشت کو جھنجھوڑتی رہے گی اور عام انسان اس کی قیمت ادا کرتا رہے گا۔





