نوجوان یورپی دماغ تیزی سے خراب ،ذہنی صحت کی حیران کن عالمی رینکنگ

نہال ممتاز:
جدید دنیا کے مادی خداؤں اور بلند و بالا میناروں کے سائے تلے ایک ایسا خاموش بحران جنم لے چکا ہے جس نے ترقی یافتہ مغرب کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔
"سیپین لیبز” (Sapien Labs) کی عالمی تحقیقاتی رپورٹ "Mental State of the World” کے تازہ ترین اور ہوش ربا اعداد و شمار نے ثابت کر دیا ہے کہ انسانی دماغ کا سکون ڈالر اور یورو کا محتاج نہیں ہے۔ اس تحقیق کے مطابق، دنیا کی ذہنی صحت کی رینکنگ میں اٹلی اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک بدترین درجے پر آ چکے ہیں۔ اٹلی کے نوجوانوں میں ذہنی شکست و ریخت کی شرح اس قدر بلند ہے کہ وہ اب دنیا کے پست ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار اس لیے بھی سنسنی خیز ہیں کہ دوسری طرف وینزویلا، کولمبیا اور افریقی ممالک کے نوجوان، جو کہ شدید معاشی بدحالی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں، ذہنی طور پر یورپی نوجوانوں سے کہیں زیادہ مضبوط اور خوش پائے گئے ہیں۔ یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ صرف پیسہ اور جدید سہولیات ذہنی سکون کی ضمانت نہیں ہیں۔ یورپ کے ان مخصوص ممالک میں خاندانی نظام کا بکھراؤ، حد سے زیادہ انفرادیت (Individualism) اور بچپن سے ہی ڈیجیٹل دنیا میں ضرورت سے زیادہ وقت گزارنا وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے ان ترقی یافتہ معاشروں کے نوجوانوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔
یہ تضاد عقل کو دنگ کر دینے والا ہے کہ آخر کیوں روم اور میلان کے پرتعیش ماحول میں پلنے والے اطالوی نوجوان اندر سے اتنے کھوکھلے ہو گئے کہ ان کا دماغی سکون تنزانیہ کے غریب عوام سے بھی کم ہو گیا؟ تحقیق کے ماخذ بتاتے ہیں کہ اٹلی میں نوجوان نسل کا سماجی ڈھانچہ بکھر رہا ہے اور معاشی جمود کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل دنیا کی مصنوعی چکا چوند نے ان کے اعصاب کو چاٹ لیا ہے۔ ایک طرف بلند و بالا فیشن اور فنِ تعمیر ہے، تو دوسری طرف وہ نوجوان ہیں جو تنہائی، بے چینی اور ڈپریشن کی گہری کھائی میں گر رہے ہیں۔ اٹلی اور برطانیہ کا اس فہرست میں نچلی سطح پر ہونا ایک واضح وارننگ ہے کہ جب معاشرہ اپنی قدریں کھو دیتا ہے اور انسان صرف اسکرین کا قیدی بن کر رہ جاتا ہے، تو پھر مادی خوشحالی بھی اسے ذہنی اپاہج ہونے سے نہیں بچا سکتی۔





