
ایران اسرائیل تنازع، بے یقینی عالمگیر ہو گئی
سی ایم رضوان
28فروری 2026ء کا دن آنے والی عالمی تاریخ میں قابل ذکر رہے گا کہ اس دن کا آغاز اسرائیل کی جانب سے ایران کی شہری آبادیوں پر میزائلوں کے شدید حملوں سے ہوا تھا۔ پھر ایران نے اسی روز نہ صرف اسرائیل بلکہ یکے بعد دیگرے قطر، سعودی عرب کے دو شہروں، کویت، ابوظہبی، متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل داغ دئیے جبکہ اسرائیل نے عراق پر بھی میزائل حملہ کیا۔ یوں خطہ عرب اس روز شدید دھماکوں سے گونجتا رہا۔ یہاں تک کہ تمام خلیجی ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دیں اور اپنے شہریوں کو حفاظتی اقدامات کی ہدایات جاری کر دیں۔
اس سے پہلے عالمی عسکری تجزیہ کاروں کو یاد ہو گا کہ ایک امریکی ڈالر کی خریداری کے لئے جہاں کئی لاکھ ایرانی درہم درکار ہوتے ہیں۔ وہاں کی کمزور ترین معیشت کے باوجود جون 2025ء میں بھی ایران نے اسرائیل پر حملے میں پہلی مرتبہ خیبر شکن میزائل استعمال کیے تھے۔ یہ خیبر شکن میزائل 4ٹن 500کلو گرام وزنی اور ساڑھے 10میٹر لمبا تھا، اس میزائل کا قطر 80سنٹی میٹر اور وار ہیڈ کا وزن 500کلو گرام ہوتا ہے۔ تب اس میزائل سے متعلق ایرانی میڈیا کا کہنا تھا کہ یہ خیبر شکن میزائل 1ہزار 450کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ان ایرانی میزائلوں نے بن گورین ایٔر پورٹ کو براہ راست نشانہ بنایا، میزائلوں سے اسرائیلی بائیولوجیکل تحقیقی مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا اور اسرائیلی سنٹرل کمانڈ کو بھی براہ راست نشانہ بنایا۔ یہ تھرڈ جنریشن خیبر شکن میزائل مہلک ترین اور فضائوں میں ہدف تک چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاسداران انقلاب کا کہنا تھا کہ حملے میں میزائل پہلے گرے اور سائرن بعد میں بجے، ان کا کہنا تھا کہ ابھی مزید خطرناک میزائل استعمال ہونا باقی ہیں، اسرائیل پر 40میزائل داغے ہیں۔ اسرائیلی ریسکیو سروس کے مطابق ایران کے اسرائیل پر ان حملوں میں 16افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد اسرائیل نے بھی ایران پر حملے شروع کر دئیے تھے۔
اس سے پہلے کہ یہ جنگ مزید پھیلتی چند روز بعد جنگ بندی ہو گئی لیکن ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بعدازاں ایران میں موجود ایرانی فوج کے بعض جرنیلوں، سائنسدانوں اور قائدین کو اچانک حملوں میں مار دیا گیا۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بیان بازی بھی جاری رکھی۔ پھر ایران میں مقامی شہریوں کی جانب سے حکومت کے خلاف اور رجیم چینج کے حق میں قابل ذکر مظاہرے بھی ہوئے۔ غیر معمولی تعداد میں مظاہرین کی حکومت ایران کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ایک مرتبہ پھر حالات معمول پر آ گئے مگر دوطرفہ بیانات کی حد تک جنگ بدستور جاری رہی اور بالآخر گزشتہ روز ایران امریکہ مذاکرات شروع ہو گئے۔ ابھی کل ہی مذاکرات کا ایک دور اس بات پر مکمل ہوا تھا کہ ایران نے یورینیم افزودگی کی مقدار کم تر کرنے کی یقین دہائی کرائی ہے۔ مزید برف پگھلنے کی توقع بھی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کے خلاف بڑا آپریشن شروع کر دیا ہے، ہم ایران کی بحریہ کو ختم کرنے جا رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہمارا مقصد ایرانی حکومت کی طرف سے آنے والے خطرات کو ختم کر کے امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کچھ دیر پہلے امریکی فوج نے ایران کے خلاف بڑا فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے، ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ایران نے جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی۔ ٹرمپ کی یہ باتیں ابھی میڈیا میں چل ہی رہی تھیں کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، تہران میں متعدد میزائل گرنے سے دھماکے ہوئے اور ایران میں نظام زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔ ایران کے دارالحکومت تہران میں متعدد اسرائیلی میزائل یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری ایریا پر گرے جبکہ تہران کے مضافات اور کئی مقامات سے دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دیتے، پر طرف افراتفری کی صورتِ حال دیکھنے میں آ رہی تھی۔ حالانکہ اس سے پہلے میڈیا سے بات چیت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یورینیٔم کی افزودگی نہ کرے۔ مذاکرات میں ایران کی جانب سے افزودگی ختم کرنے کی بجائے کم کرنے کی یقین دہائی کرائی گئی جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں ایران کے موقف سے مطمئن نظر نہیں آ رہے تھے اور چند لمحوں بعد اسرائیل نے ایران پر میزائلوں سے حملہ کر دیا۔ جس کی انتہائی ڈھٹائی سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد ازاں تصدیق بھی کر دی ہے کہ ایران پر اہم جنگی کارروائیاں جاری ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی دفاعی فورس ( آئی ڈی ایف) کے مطابق ایران نے حملوں کے جواب میں اسرائیل کی طرف میزائل داغے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل نے تہران پر پیشگی حملہ کیا ہے۔ آخری اطلاعات تک ایران کے پانچ شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات ہیں جن میں اصفہان، قم، کرج، کرمان شاہ اور تہران شامل ہیں۔ تصویروں میں شہروں کے مراکز سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی ڈیفنس فورس کے بیان میں کہا گیا کہ ایران سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائلوں کی شناخت کے بعد ملک کے کئی علاقوں میں سائرن بجائے گئے۔ اسرائیلی فضائیہ خطرات کو روکنے اور ضرورت کے مطابق نشانہ بنانے کے لئے کارروائی کر رہی ہے۔ ادھر ایران میں شہریوں کی صبح کا آغاز اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے ساتھ ہوا۔ یاد رہے کہ یہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں دونوں ملکوں کے بیچ دوسرا بڑا تنازع ہے۔ ان حملوں کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں اس نے جہاں امریکی صدر ٹرمپ کا حملوں کی قیادت پر شکریہ ادا کیا وہیں یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی ایرانی شہریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی آزادی دے گی۔ اپنے پیغام میں نیتن یاہو نے کہا کہ کچھ ہی دیر پہلے اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے دہشت گردانہ نظام کی طرف سے لاحق وجودی خطرے کو ختم کرنے کے لئے ایک کارروائی کا آغاز کیا ہے۔
نیتن یاہو کے مطابق میں اپنے عظیم دوست صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے تاریخی قیادت کا مظاہرہ کیا۔ گزشتہ 47برسوں سے آیت اللہ کا نظام اسرائیل اور امریکہ کی موت کے نعرے لگا رہا ہے۔ انہوں نے ہمارا خون بہایا، کئی امریکیوں کو قتل کیا اور اپنے ہی عوام کا قتلِ عام کیا۔ نیتن یاہو نے الزام عائد کیا کہ یہ دہشت گردانہ نظام ایٹمی ہتھیاروں سے لیس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ پوری انسانیت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ ہماری مشترکہ کارروائی ایرانی عوام کو یہ موقع فراہم کرے گی کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ ایرانی عوام اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا بوجھ اتار پھینکیں اور ایک آزاد و پُرامن ایران قائم کریں۔ اس نے کہا کہ اسرائیل کے شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایات پر عمل کریں۔ آنے والے دنوں میں اپریشن شیر کی دھاڑ کے دوران ہم سب کو صبر اور حوصلے کی ضرورت ہوگی۔ ہم سب مل کر کھڑے ہوں گے، مل کر لڑیں گے اور مل کر اسرائیل کی بقا کو یقینی بنائیں گے۔ کس قدر منافقانہ اور ظالمانہ روش ہے کہ نیتن یاہو ایک طرف فلسطین کے لوگوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے اور دوسری طرف ایران پر حملہ اور ہو گیا ہے اور اس سلسلے میں امریکی سرپرستی کا شکریہ ادا کر رہا ہے۔ اس غنڈہ گرد کو نکیل ڈالنا اب ایک عالمی ضرورت ہے ورنہ بے یقینی کی موجودہ عالمگیر صورت حال مزید سنگین ہو جائے گی۔
امریکا اور اسرائیل کے اس اچانک حملے کے بعد ایران نے بھی اسرائیل پر جوابی حملہ کر دیا۔ ایرانی ٹی وی کے مطابق ایران نے اسرائیل پر تقریباً 75میزائلوں سے حملہ کیا۔ اسرائیل کے خلاف میزائل ڈرون حملوں کی پہلی لہر لانچ کر دی گئی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق خطرے سے نمٹنے کے لئے دفاعی نظام آپریٹ کر رہے ہیں۔ ایران کی طرف سے میزائل اسرائیل کے شمالی علاقوں کی جانب داغے گئے۔ ایرانی حملے پر اسرائیلی حکام نے شہریوں کو شیلٹرز میں جانے کی ہدایت کر دی۔ شمالی اسرائیلی میں سائرن بج اٹھے۔ اس سے پہلے ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایران جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، ردِعمل انتہائی سخت ہو گا۔ ان حملوں کا اختتام اب آپ کے اختیار میں نہیں رہا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر خامنہ ای کے کمپائونڈ کے قریب 7 اسرائیلی میزائل گرے تھے جبکہ ایرانی شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک سکول پر اسرائیلی میزائل سے حملہ کیا گیا ہے جس دو درجن سے زائد ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ ایران اور اسرائیل، امریکا کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے بعد متعدد خلیجی ممالک پر اسرائیل اور ایران دونوں کی جانب سے میزائل حملوں کے بعد، متعدد ممالک پر میزائل داغے جانے کے بعد خلیج کے امن کو خطرناک حالات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ کشیدگی نہ صرف ایران اور اسرائیل کے درمیان ہے بلکہ اس میں امریکہ اور دیگر خلیجی ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ امریکی افواج کو نشانہ بنا سکتا ہے جو ان کے ممالک میں تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی عالمی رسد بھی متاثر ہو سکتی ہے اور عالمی مہنگائی اور کساد بازاری کے خدشات بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہی خدشات کے پیش نظر متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اور قطر سمیت دیگر ممالک نے تہران اور واشنگٹن سے براہِ راست رابطے بڑھا دئیے ہیں تاکہ خطے میں عدم استحکام کے خدشے اور ایران کے ممکنہ داخلی بحران کے اثرات سے بچا جا سکے۔
شاطر اور اپنا اعتبار کھو دینے والے امریکہ نے اسرائیل کی ایران پر موجودہ حملے اور ایران کے جوابی حملے کی وسعت کا پہلے ہی اندازہ کر رکھا ہے۔ اس صورتحال کے بعد امریکی صدر نے اپنی حکمت عملی یہ بنا رکھی ہے کہ وہ ایران کو مزید کمزور اور خوفزدہ کر کے ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اپنی مرضی کا تصفیہ چاہتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری معاہدے پر راضی ہونے کی شرط عائد کی ہے اور کہا ہے کہ اگر ایران نے انکار کیا تو اس کے نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے ہیں، جہاں ٹرمپ سفارت کاری کے ذریعے تصفیہ چاہتی ہیں، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو فوجی کارروائی کو واحد حل سمجھتا ہے جس پر اس نے عمل کر کے ٹرمپ کے لئے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جوہری سائٹ پر بنکر بسٹر کام کرے گا، لیکن ٹرمپ مکمل طور پر قائل نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ نے اپنی روس مخالف حکمت عملی کو عسکری بنیادوں پر قائم عظیم طاقتوں کے مقابلے کے بنیادی ڈھانچے میں بڑی آسانی کے ساتھ ضم کر لیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت امریکہ اپنے اتحادیوں اور شراکت دار ریاستوں میں موجود آمرانہ خطرات اور نسلی بنیادوں پر قوم پرستی کے خطرات سے نمٹنے کا بھی عہد کر چکا ہے لیکن لگتا یہ ہے کہ ایران اسے اب ٹف ٹائم دے گا اور عالمی بے یقینی مزید بڑھے گی۔
سی ایم رضوان







