
میکسیکو کے بدنامِ زمانہ منشیات فروش اور جالسکو نیو جنریشن کارٹیل (CJNG) کے سربراہ نیمیسو اوسیگیرا سروینٹس المعروف ’ال مینچو‘ کے خلاف کارروائی کے لیے اس کی ایک رومانوی ساتھی کی نگرانی فیصلہ کُن ثابت ہوئی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میکسیکن حکام نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ال مینچو تک رسائی اور اس کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے لیے اس کی گرل فرینڈ کی نگرانی کی اور اس کا استعمال کیا۔
میکسیکو کے وزیرِ دفاع جنرل ریکارڈو تریویلا نے بتایا ہے کہ امریکی خفیہ معلومات کی مدد سے خصوصی فورسز نے اتوار کی صبح ریاست جالسکو کے علاقے تاپالپا میں آپریشن کیا اور جھاڑیوں میں چھپے ہوئے ال مینچو کو تلاش کیا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں وہ اور اس کے 2 باڈی گارڈز زخمی ہوئے، بعد ازاں حراست میں لے کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کیا جا رہا تھا کہ ال مینچو راستے میں ہلاک ہو گیا
میکسیکو کے حکام کے مطابق فوجی انٹیلیجنس نے ال مینچو کی گرل فرینڈ کے ایک قریبی ساتھی کو ٹریک کیا تھا جو اسے جمعے کو تاپالپا لے کر گیا تھا، اسی نقل و حرکت سے ڈرگ لارڈ کی موجودگی کی تصدیق ہوئی جس کے بعد آپریشن کو حتمی شکل دی گئی۔
رپورٹس کے مطابق ال مینچو کے خلاف آپریشن اور اس کے بعد کی پُرتشدد کارروائیوں میں مجموعی طور پر 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سیکیورٹی اہلکار، مشتبہ کارٹیل ارکان اور عام شہری شامل ہیں۔
جھڑپوں کے دوران 2 راکٹ لانچر بھی برآمد کیے گئے جبکہ 1 فوجی ہیلی کاپٹر کو گولی لگنے سے ہنگامی لینڈنگ بھی کرنا پڑی۔
حکام نے بتایا ہے کہ ال مینچو کے قریبی ساتھی ’ال تُولی‘ نے فوجیوں کے قتل پر انعام کی پیشکش اور جالسکو میں سڑکوں کی بندش، آتش زنی اور سرکاری تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی، بعد ازاں ایک علیحدہ جھڑپ میں ال تُولی بھی مارا گیا







